• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں 46کروڑ سے زائد لوگ ذیابطیس کے مرض کا شکار ہیں اور لاکھوں اس بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس بیماری کے شکار افراد کو اپنی حالت سنبھالنے اور پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے مسلسل دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، ذیابطیس کے شکار تمام افراد کو دوائیاں، ٹیکنالوجی، مدد اور نگہداشت دستیاب ہونی چاہیے، جن کی انہیں ضرورت ہے۔ 

اگر کسی گھر میں ذیابطیس کا مریض موجود ہو تو گھر والوں کی یہی کوشش ہوتی ہےکہ اس کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے اور ایسے کھانے نہ بنائے جائیں جس سے مریض کے کھانے میں میٹھے کا اضافہ ہو اور وہ بدپرہیزی کرنے کی وجہ سے مشکل کا شکا ر ہوجائے۔ مریض چونکہ اپنے مرض کی وجہ سے جھنجھلایا رہتا ہے یا بعض اوقات مریض سے بے احتیاطی یا دوا کا ناغہ ہوجاتا ہے۔ 

اس لیے گھر کے افراد کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ ذیابطیس کے مریض سے صرفِ نظر نہ کریں اور نہ ہی مریض کو کسی قسم کی بے احتیاطی کرنے دیں، خاص طور پر ایسے مریضوں کا خاص خیال رکھیں جو زائد عمر اور اپنا خیال خود رکھنے سے قاصر ہیں۔ اس ضمن میں ذیل میں چند مشورے پیش کیے جارہے ہیں۔

ہدایت کے مطابق دوا

ذیابطیس کے مریض کو معالج کی ہدایت کے مطابق دوا وقت پر دینا ضروری ہے۔ اگر مریض دوا کھانے میں سستی یا پس و پیش سے کام لے گا تو امراض قلب، اعصابی نقصان اور دیگر پیچیدہ بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا یا انسولین کے لیے نظم وضبط اوروقت کی پابندی کرنی لازمی ہے۔

تمباکو نوشی سے پرہیز

تمباکو نوشی سے نہ صرف ذیابطیس کا مرض بڑھتا ہے بلکہ یہ اس سے منسلک ہر مسئلے کوپیچیدہ بنادیتا ہے۔ تمباکو نوشی خون میں گلوکوز کی سطح کو بڑھاتی ہے، جو ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

کھانے میں احتیاط

ذیابطیس کا مریض جب کئی گھنٹے کھانا نہیں کھاتا تواس کا جسم خود بخود توانائی کے لیے مریض کے جگر سے گلوکوز جاری کرتا ہے ۔ مسالے دار اور چٹخارے دار ناشتہ مریض کے گلوکوز کی سطح میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ذیابطیس کے مریض کو ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ ریستوران وغیرہ کا کھانا دینے سے اجتناب کریں کیونکہ باہر کے کھانے میں بہت زیادہ کیلوریز اور فیٹس ہوتے ہیں۔ 

گھر والے جب ذیابطیس کے مریض کے لیے کھانا پکائیں تو ان میں مختلف اجزاء ڈالتے وقت مریض کے حساب سے خیال رکھیں۔ کوشش کریں کہ ذیابطیس کے مریض کو کام پر جاتے وقت گھر کا کھانا ضرور دیں۔ اس سے ذیابطیس کے مریض کی شوگر کنٹرول کرنے میں کافی حد تک کامیاب حاصل ہوسکتی ہے۔

کھانے پینےکا ریکارڈ

مریض کے وزن اور خون میں شوگر کنٹرول میں رکھنے کے لیے اس کے کھانے کا ریکارڈ بنائیں تا کہ گھروالوں کو معلوم ہوسکے کہ مریض کو کب کیا کھانے کو دینا ہے۔ یہ عمل شوگر کنٹرول کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ مریض کو ہر کچھ وقفے کے بعد کچھ نہ کچھ کھانا ہوتا ہے مگر کیا اور کب کھانا ہے یا کتنا کھایا؟ یہ سب آپ ایک کاپی پر لکھ لیں۔ عموماً ذیابطیس کے مریضوں کے لیے نیوٹریشن ڈائٹ چارٹ ترتیب دیتے ہیں، اس پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔

باقاعدگی سے ورزش

ذیابطیس کے مریضوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ان کا ورزش کرنا نہایت ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش وزن میں کمی، خون میں گلوکوز کے کنٹرول، انسولین کی سطح اور جسم کی چربی میں کمی کے لیے بہترین ہوتی ہے۔ ہفتے میں پانچ دن 30منٹ کے لیے ورزش کرنا جسمانی صحت کے لیے اہم ہے۔ معالج کے مشورے سے ذیابطیس کا مریض تیراکی اور سائیکلنگ وغیرہ بھی کرسکتا ہے۔

دانتوں کی صحت

ذیابطیس دانتوں کے لیے بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔ جب مریض کے تھوک میں گلوکوز کی معمولی سطح بڑھ جاتی ہے تو اس کے جسم میں شوگر کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔ شوگر مشکل انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے جس سے مریض کے مسوڑھوں کی بیماری بڑھ سکتی ہے۔ صحت مند دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے مریض کو فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہوئے دن میں دو مرتبہ دانت صاف کرنے چاہئیں۔

پاؤں کی دیکھ بھال

ذیابطیس ایک اعصابی مرض بھی بن سکتا ہے۔ ذیابطیس کے مریض کے پاؤں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔ مریض کو چاہیے کہ روزانہ اپنے پاؤں گرم پانی سے دھوئے (بہت زیادہ گرم پانی نہ ہو) اور ساتھ ہی تولیہ کی مدد سے انہیں اچھی طرح صاف کرے۔ اس کے علاوہ، مریض آرام دہ جوتا استعمال کرے اور پائوں پر کوئی معمولی سا زخم بھی نہ آنے دے۔ ایسا ہونے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کرے۔ مریض کو اپنے پاؤں کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ ماہرینِ طب کے مطابق ذیابطیس کے مریض کو اپنے پورے جسم میں سب سے زیادہ پائوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔

نوٹ: ذیابطیس کے مریض کی ادویات اور انسولین کے معاملے میں صرف معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔ کوئی بھی غیرمعمولی چیز سامنے آنے پر فوری معالج سے رجوع کریں۔