فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کی شدت کم ہونے کے بعد فرانس اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
قبرص میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ مشن ’مکمل طور پر دفاعی نوعیت‘ کا ہو گا جس کا مقصد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو محفوظ راستہ فراہم کر کے اہم سمندری گزرگاہ کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنا ہے۔
میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس مشرقی بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ میں 8 جنگی جہاز، 2 ہیلی کاپٹر بردار جہاز اور جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز شارل ڈی گول بھی بھیجے گا۔
اس اقدام کو فرانسیسی صدر نے ’غیر معمولی اقدام‘ قرار دیتے کہا کہ فرانس کا مقصد دفاعی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سمندری راستوں کی آزادی اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے فرانسیسی منصوبے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے ماحول میں آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی بحال ہونا ممکن نہیں اور جنگ کی حمایت کرنے والے ممالک کے منصوبے امن نہیں لا سکتے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کے جوابی میزائل و ڈرون حملوں کے بعد عملی طور پر بند ہو چکا ہے جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔