• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ولادیمیر پیوٹن کی یورپ کو دوبارہ تیل و گیس فراہم کرنے کی پیشکش

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن---فائل فوٹو
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن---فائل فوٹو 

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، ایسے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپی ممالک طویل مدتی تعاون پر آمادہ ہوں تو روس یورپ کو دوبارہ تیل اور گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق پیوٹن نے سرکاری اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ روس نے کبھی یورپی خریداروں کے ساتھ توانائی تعاون سے انکار نہیں کیا تاہم یہ تعاون سیاسی دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے، اگر یورپ دوبارہ معاہدوں کی طرف آتا ہے تو ماسکو تعاون کے لیے تیار ہے۔

ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور نتیجے میں عالمی منڈی میں شدید بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔ 

آبنائے ہرمز دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے بڑھ کر ایک موقع پر 119 ڈالرز تک پہنچ گئی جو یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

یوکرین جنگ کے بعد یورپی یونین اور جی سیون ممالک نے روسی توانائی پر پابندیاں عائد کی تھیں، 2022ء میں یورپی یونین نے روسی خام تیل کی سمندری درآمدات پر پابندی لگائی تھی جبکہ روسی گیس اور تیل پر انحصار نمایاں حد تک کم کر دیا گیا۔

جنگ سے قبل یورپ اپنی گیس کی 40 فیصد سے زائد ضروریات روس سے پوری کرتا تھا تاہم 2025ء تک یہ شرح کم ہو کر تقریباً 13 فیصد رہ گئی۔

دوسری جانب جی سیون ممالک نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کا اعلان کیا ہے تاہم ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا فوری فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید