• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی معیشت کی کارکردگی 2021 میں بھی اچھی نہیں رہی۔ معیشت کو بدستور سنگین خطرات اور چیلنجز کا سامنا رہا۔مالی سال2020- 21میں معیشت کی شرح نمو صرف3.9فیصد رہی، تحریک انصاف کی حکومت کے 4برسوں میں شرح نمو اوسطاً صرف 2.6فیصد رہے جو پاکستان کی تاریخ کی سست ترین کارکردگیوں میں سے ایک ہو گی۔ 

واضح رہے کہ 1980 سے 2018کے 38برسوں میں پاکستانی معیشت کی اوسط شرح 4.75فیصد سالانہ رہی تھی۔2021 میں معیشت میں کیا اُتارچڑھاؤ آئے، مختصر جائزہ نذر قارئین۔

……٭٭……٭٭……٭٭……

مسلم لیگ (ن) کے مالی سال2013 سے مالی سال 2018 کے 5برسوں میں افراط زر کی اوسط شرح 4.1فیصد تھی۔ جنوری 2021میں ملک میں افراط زر کی اوسط شرح 5.7فیصد تھی۔ جو اکتوبر 2021میں9.2فیصد اور نومبر 2021میں11.5فیصد ہو گئی۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں معیشت کی شرح نمو خطے کے ممالک کے مقابلے میں سست اور افراط زر خطے کے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ رہا ہے۔

حکومت روز اول سے ہی یہ بات تسلسل کے ساتھ کہتی رہی ہے کہ اسے ایسی تباہ حال معیشت ورثے میں ملی تھی جو دیوالیہ ہونے کے قریب تھی مگر جلد ہی یہ دعویٰ بھی تواتر کے ساتھ کرنا شروع کر دیا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے بعد بہتری کی طرف گامزن کر دیا گیا ہے۔ اپریل2021 میں وزیر خزانہ کے عہدہ کا حلف اٹھانے سے چند ہفتے پہلے شوکت ترین نے کہا تھا کہ، تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور اس کی سمت درست نہیں ہے۔

یہ حقیقت بھی بہرحال اپنی جگہ برقرار ہے کہ متعدد اہم معاشی اشاریئے آج بھی مالی سال2018کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہیں جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے تھے۔ ان معاشی اشارئیوں میں معیشت کی شرح نمو اور افراط زر کے علاوہ جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی بیرونی سرمایہ کاری ،ملکی بچتیں، ٹیکسوں کی وصولی، بجٹ خسارہ ، مجموعی قرضے وذمہ داریاں اور تعلیم و صحت کی مد میں مختص کی جانے والی رقوم شامل ہیں۔ یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ تجارتی خسارے اور جاری حسابات کے خسارے میں جو بہتری نظر آئی تھی وہ ایک مرتبہ پھر ابتری کی طرف گامزن ہو گئی ہے۔

موجودہ حکومت جب معاشی اشاریوں میں بہتری اور جاری حسابات کے خسارے کو فاضل بنانے کے دعوے فخریہ انداز میں کر رہے تھے تو ہم نے عرض کیا تھا ،معیشت کے کچھ شعبوں میں عارضی بہتری نظر آ رہی ہے وہ ناپائیدار ہو گی اور جاری حسابات کے خسارے میں بہتری عارضی ہے ۔ 30 جون 2021 سے پہلے ہی یہ پھر منفی ہو جائے گی۔ بدقسمتی سے یہ دونوں خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔

2021 میں نہ صرف مجموعی قرضوں و ذمہ داریوں کے حجم میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے اضافہ ہوا بلکہ صرف 3سال 3ماہ میں اس مد میں جو اضافہ ہوا وہ آزادی کے68برس بعد 30جون2015کو ملک پر واجب الاا قرضوں کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ تھا،یہی نہیں ۔وسط مئی 2021 سے 20دسمبر 2021تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے کمی ہوئی۔ 

یہ بات بھی اہم ہے کہ، کرپشن ،بدعنوانی ،ٹیکس کی چوری و مراعات، کچھ حکومتی شعبے کے اداروں کے نقصانات اور شاہانہ اخراجات وغیرہ کی وجہ سے قومی خزانے کو 9,200ارب روپے سالانہ یعنی 25ارب روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ وڈیرہ شاہی کلچر پر مبنی پالیسیوں اور اشرافیہ کو نوازتے چلے جانے کی وجہ سے ہر سال کئی ہزار ارب روپے غریب ومتوسط طبقے سے مالدار اور طاقتور طبقوں کی طرف منتقل ہوتے رہے ہیں۔

اشرافیہ کی معیشت

وزیر اعظم عمران خان نے روز اول سے ہی جو معاشی پالیسیاں اپنائیں وہ تحریک انصاف کے2013کے انتخابی منشور اور 2018کے انتخابات سے چند ہفتے قبل جاری کئے جانے والے 10نکاتی ایجنڈے سے براہ راست متصادم ہیں ، ان دونوں دستاویزات کے نکات پر عملدرآمد سے قومی دولت لوٹنے والوں ،ٹیکس چوری کرنے والوں اور دوسرے طاقتور طبقوں کے ناجائز، مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ 

تحریک انصاف صوبہ خبیر پختونخواہ میں آٹھ سے زائد برسوں سے اقتدار میں ہے لیکن اس صوبے میں بھی حکومت نے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس موثر طور سے عائد کرنے، غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت مارکیٹ کے نرخوں کے برابر مقرر کرنے اور تعلیم و صحت کی مد میں جی ڈی پی کے تناسب سے 7.6فیصد مختص کرنے کے منشور کے نکات پر عمل نہیں ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان نے 28نومبر 2021کو بیان دیا تھاکہ اشرافیہ کے ملکی وسائل پر قابض ہونے اور ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف آبادی کا بڑا حصہ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے بلکہ پاکستان اپنی استعداد کے مطابق معیشت کے شعبے میں بھی ترقی نہیں کر سکا۔ اقتدار کی مدت کا بڑا حصہ گزارنے کے بعد یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ حکومت اشرافیہ یا مافیا کے آگے بے بس ہے۔ 

دراصل وزیر اعظم کا یہ بیان صرف آدھا سچ ہے کیونکہ اشرافیہ کو نوازنے کے لئے عوام پر ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے نرخوں کا بوجھ بھی عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ مہنگائی دراصل خود عوام پر ایک غیر منصفانہ ٹیکس ہے۔ انکم ٹیکس آرڈی نینس کی شق 111c4)سے مستفید ہو کر ’’کارکنوں کی ترسیلات‘‘ بڑھاتے چلے جانا اور ملک سے سرمائے کا فرار ہونے دینا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے جبکہ پاکستانی معیشت اب اشرافیہ اور بے ساکھی کی معیشت بن کر رہ گئی ہے۔ جسے انتہائی کمزور بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے چنانچہ اگلی حکومت ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے تجارتی پیکیج حاصل کرے گی۔ حکومت کے ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات کا حجم ملکی برآمدات سے زیادہ ہے۔

یہ امر تشویشناک ہے کہ نومبر2021تک پاکستان نے 2006ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ہونے والے خسارے کے دگنے سے زائد ہے۔ اس مدت میں جاری حسابات کا خسارہ تقریباً 7 ارب ڈالر رہا ۔ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کے حجم پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے حالانکہ پاکستان کےخالص انٹرنیشنل ذخائر آج بھی منفی ہیں۔

2021 میں معیشت کی شرح نمو سست رہی جبکہ افراط زر میں اضافہ ہوا ۔اس طرح جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی سرمایہ کاری، ملکی بچتوں، مجموعی ٹیکس محاصل ،ایف بی آر کے ٹیکسوں کی وصولی، ترقیاتی و تعلیمی اخراجات میں کمی ہوئی، مجموعی قرضوں و ذدمے داریوں میں اضافہ ہوا، یہی نہیں، پٹرولیم لیوی ( بھتہ) کی وصولی میں بھی خوب اضافہ ہوا۔

اسی مدت میں ’’کارکنوں‘‘ کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات میں بہت زیادہ اضافہ ہونے سے جاری حسابات کے خسارے میں زبردست بہتری آئی لیکن یہ خدشہ نظر آ رہا ہے کہ موجودہ مالی سال میں تجارتی و جاری حسابات کے خسارے میں زبردست اضافہ ہو گا۔ جاری حسابات کا خسارہ تقریباً 15ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو پریشانی کی بات ہو گی۔ یہ حکومت کے ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ترسیلات کا حجم ملکی برآمدات سے زیادہ ہو گیا ۔ترسیلات میں اضافہ ہوتے چلے جانے کی ایک اہم وجہ انکم ٹیکس آرڈی نینس کی شق111c4)ہے جو کہ دراصل مالیاتی این آر او ہے۔

مالی سال 2019سے2021پاکستان نے 85.21 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کیا جبکہ ’’کارکنوں‘‘ کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات کا حجم 74.24ارب ڈالر رہا، نتیجتاً جاری حسابات کے خسارے کا مجموعی حجم 19.8ارب ڈالر رہا۔ بیرونی ملکوں سے آنے والی ترسیلات اور مہنگی شرح سود قرضے لے کر تجارتی خسارے کی مالکاری کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

چند اہم معاشی شعبے

(1) معیشت کی شرح نمو کےحوالے سے حکومت کا دعویٰ ہے کہ 2021- 22میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو 5فیصد سے زائد رہے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ،اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی ناقص ،ناقابل فہم اور ناقابل دفاع معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں معیشت کی شرح نمو تقریباً3.5فیصد رہے گی۔ جون2019میں جاری کردہ پہلے اکنامک سروے میں کہا گیا تھا کہ 2018-19میں معیشت کی شرح نمو 3.3فیصد رہے گی لیکن دو برس بعد یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ شرح نمو 2.1فیصد تھی۔ 2020-21میں3.9فیصد کی شرح نمو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 

یہ شرح نمو ڈسکائونٹ ریٹ میں مارچ2020سے جون2020کی مدت میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمی کر کے، سستی شرح سود پر بینکوں سے قرضے فراہم کر کے۔ تاجر برادری کو زبردست مراعاتی پیکیج دے کر اور تعمیراتی شعبے کو کالا دھن استعمال کرنے کی اجازت دے کر حاصل ہوئی تھی۔ اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ برائے 2020-21میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کی شرح نمو 2019-20میں منفی 0.5فیصد اور بھارت کی شرح نمو منفی7.3فیصد تھی یعنی کورونا کی وجہ سے بھارت کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا تھا مگر2021میں بھارت کی شرح نمو پاکستان سے زیادہ رہی تخمینہ ہے کہ مالی سال 2021-22میں معیشت کی اوسط سالانہ شرح تقریباً 3.5فیصد رہے گی جبکہ اسے 5.5فیصد کی شرح نمو ورثے میں ملی تھی۔ 

اب یہ واضح ہو گیا ہے 2075ء تک بھی پاکستان کی فی کس آمدنی معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم ( او ای سی ڈی) کے ملکوں کی سطح پر نہیں پہنچ سکے گی۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے کے 38برسوں میں پاکستانی معیشت کی اوسط شرح نمو4.75 فیصد تھی، جبکہ موجودہ حکومت کے 5سالہ دور میں یہ شرح صرف3.0فیصد رہے گی جو کہ مایوس کن ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح دراصل عوام پر ایک ظالمانہ ٹیکس ہوتی ہے جس سے متوسط اور کم آمدنی والے افراد بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں عموماً معیشت کی شرح نمو سست اور مہنگائی کی شرح زیادہ رہتی ہے۔ 

پاکستان میں اس وقت مہنگائی خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ ہے مگر فی کس آمدنی بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابل میں کم ہے یعنی قوت خرید کم ہے۔ نومبر2021 میں پاکستان میں افراط زر کی شرح کچھ پڑوسی ممالک کی شرح سے دوگنی رہی۔ جنوری 2021میں پاکستان میں افراط زر کی شرح 5.7فیصد تھی جبکہ اکتوبر 2021میں یہ شرح 9.2فیصد اور نومبر 2021میں 11.5فیصد ہو گئی جو گزشتہ 20ماہ میں افراط زر کی سب سےبلند شرح ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے آخری تین برسوں میں ملک میں افراط زر کی اوسط شرح صرف4.1فیصد تھی۔

افراط زر کی شرح بلند اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:

(1)ملک کے طاقتور اور مالدار طبقوں بشمول ٹیکس چوری کرنے اور قومی دولت لوٹنے والوں وغیرہ (جنہیں اشرافیہ یا مافیا بھی کہا جاتا ہے) کو ٹیکس میں چھوٹ اور مختلف مراعات دیتے چلے جانا خواہ اس کے لیے آئین و قوانین سے انحراف یا نئی قانون سازی کرنا پڑے اور ان کا بوجھ 22کروڑ عوام اور معیشت پر ڈالتے چلے جانا۔

(2) 2018کے انتخابات سے چند ہفتے پہلے جاری کی جانے والی تحریک انصاف کا 10نکاتی حکمت عملی سے انحراف کرتے چلے جانا خصوصاً ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں کیونکہ ان نکات پر عمل درآمد سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔

(3) بہت سی اہم معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لیے وضع کرتے چلے جانا۔

(4) انکم ٹیکس کے ضمن میں ٹیکس چوری ہونے دینا یا چھوٹ و مراعات دیتے چلے جانے کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرتے چلے جانا۔

(5) مارچ 2020سے جون 2020کی مدت میں ڈسکائونٹ ریٹ میں دنیا میں سب سے زیادہ کمی کرکے نجی شعبے کوسستی شرح سود پر بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرضے فراہم کرتے چلے جانے سے تجارتی خسارہ کو بڑھتے دینا کیونکہ غیرضروری درآمدات ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ان اقدامات کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ ڈالر کے مقابلے میں مئی 2021سے دسمبر کے تیسرے ہفتے تک روپے کی قدر میں تقریباً 28روپے کی کمی ہو ئی، جس سے مہنگائی کا ایک اور سیلاب آگیا۔

(6)لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں واپس لانے کے عزم کا اظہار کرتے کے باوجود نہ صرف ٹیکس ایمنسٹی قسم کی اسکیموں کا اجرا کیا جاتا رہا ہے بلکہ قومی خزانے میں ایک روپیہ جمع کرائے بغیر بھی ناجائز دولت کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے راستے بدستور کھلے رہے۔

(7) ملکی برآمدات بڑھانے کے بجائے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111(4) کی مدد سے ترسیلات بڑھانے پر زور دیا جاتا رہا ہے جس سے ٹیکسوں کی وصولی متاثر ہوتی اور بجٹ خسارہ بڑھتا ہے۔

(8) حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسیوں میں ہم آہنگی نہیں۔ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی بیشی کرتا رہا ، حالانکہ بغیر اسٹرکچرل اصلاحات کیے، شرح سود میں ردوبدل غیرموثر رہتا ہے۔

(9) ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، اسمگلنگ اور آڑھتیوں کو عملاً کھلی چھٹی دیتے چلے جانا۔

(10) حکومت اور حکومتی شعبے کے کچھ اداروں کی ناقص کارکردگی اور شاہانہ اخراجات۔

اس کے شواہد نظر آرہے ہیں کہ موجودہ مالی سال میںافراط زر کی شرح میں یقیناً اضافہ ہوگا جس سے کم آمدنی والے کروڑوں افراد بری طرح متاثر ہوں ۔حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے جس 10نکاتی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اگر اس کے صرف دو نکات (یعنی ٹیکسوں اور توانائی کے شعبے) پر عمل کیا جاتا تو نہ کسی منی بجٹ کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی مہنگائی قابو سے باہر ہوتی اور گردشی قرضوں کا حجم بھی آسمان تک نہیں پہنچتا۔

مجموعی قرضے و ذمہ داریاں

ملکی و بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں کے حجم میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ 2021میں صورت حال یہ رہی:

(i) 31دسمبر 2020کو پاکستان کے ملکی و بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم…50,4 04ارب روپے۔

(ii) 30ستمبر 2021کو قرضوں و ذمہ داریوں کاحجم …50404ارب روپے۔

(iii) 9ماہ میں اضافہ5284ارب روپے یعنی 7045ارب روپے سالانہ۔

30جون 2018کو پاکستان کے مجموعی قرضوں و ذمہ داریوں کا حجم 29879 ارب روپے تھا جو 30ستمبر 2021کو بڑھ کر 50484ارب روپے ہوگیا۔ اسی مدت میں بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں کا حجم 95.24ارب ڈالر سے بڑھ کر 127.02ارب ڈالر ہوگیا۔ ان اعداد و شمار سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں کہ،(i) حکومت کے اقتدار کے 3سال 3ماہ میں ملک کے مجموعی قرضوں و ذمہ داریوں کے حجم میں 20605ارب روپے کا اضافہ ہوا۔یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہے۔

(ii) آزادی کے 68سال بعد 30جون 2015کو پاکستان کے مجموعی قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم 19849ارب روپے تھا۔ موجودہ دور حکومت میں ان قرضوں میں 20605،ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ 68سال کے قرضوں کے مجموعی حجم سے زیادہ ہے۔

(iii) 3سال 3ماہ میں بیرونی قرضوں و ذمہ داریوں میں 31.78ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ان قرضوں میں 5برسوں میں اضافے کا حجم 34.34ارب ڈالر تھا۔

مجموعی بیرونی سرمایہ کاری

وزیراعظم عمران خان اور ان کے رفقاء گزشتہ تقریباً 40ماہ سے یہ بات تواتر سے کہتے رہے کہ انہیں دیوالیہ ہونے کے قریب معیشت ورثے میں ملی تھی۔ اس کے ساتھ ہی حزب مخالف کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت برقرار رکھنے، لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں واپس لانے کے بجائے پاکستان اور دنیا کی تاریخ میں سب سے کم شرح ٹیکس پر ناجائز ملکی اثاثوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے، معیشت کو کمزور بنیادوں پر استوار کرنے اور اشرافیہ کی معیشت کو فروغ دینے کے نتیجے میں نہ صرف بے یقینی کی کیفیت برقراررہی بلکہ متعدد اہم معاشی اظہاریے بھی بگڑتے چلے گئے۔ اس صورت حال کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے مزید ہچکچانے لگے۔

بیرونی سرمایہ کاری کے ضمن میں چند حقائق

(i) مالی سال 2019سے مالی سال 2021کے 3برسوں میں پاکستان میں 6.6ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آئی

(ii) جولائی سے نومبر 2021تک پاکستان میں 455ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آئی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں صرف 263 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی۔

ٹیکسوں کی وصولی

2018کے انتخابات سے کچھ پہلے تحریک انصاف نے ایک 10نکاتی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ اس کا ایک اہم حصہ یہ تھا کہ اقتدار میں آنے کے 100دن کے اندر عدل پر مبنی ٹیکسوں کا نظام نافذ کردیا جائے گا یعنی وفاق اور صوبے ہر قسم کی آمدنی پر موثر طور سے ٹیکس عائد کریں گے، معیشت کو دستاویزی بنایا جائےگا، غیرمنقولہ جائدادوں کی مالیت مارکیٹ کے نرخوں کےبرابر کرد یجائے گی اور کالے دھن کو سفید ہونے سے روکا جائے گا۔ اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت اس وعدے سے نہ صرف پیچھے ہٹ گئی بلکہ ٹیکسوں کا نظام مزید غیرمنصفانہ ہوگیا اور ٹیکسوں کی چوری بھی بدستور ہوتی رہی۔ مالی سال 2019سے مالی سال 2021میں ٹیکسوں کی مجموعی وصولی اہداف کے مقابلے میں تقریباً 2400ارب روپے کم رہی۔

وزیراعظم عمران خان نے پرعزم انداز میں کہا تھا کہ، میں وفاقی ٹیکسوں کی مد میں 10ہزار ارب روپے اکٹھے کرکے دکھائوں گا۔ اگر وعدے کے مطابق عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردی جاتی تو 2020-21 میں 10ہزار ارب کا یہ ہدف حاصل ہوسکتا تھا۔ 

موجودہ مالی سال میں وفاقی ٹیکسوں کی مد میں وصولی کی استعداد تقریباً 11100ارب روپے ہے جبکہ عوام پر کئی سو ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے اور دسمبر 2021میں ضمنی بجٹ پیش کرنے کے بعد ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف 6100ارب روپے رکھا گیا ہے یعنی 5ہزار ارب روپے کم۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ 5ہزار روپے کی یہ کمی دراصل انکم ٹیکس کی مد میں ہے یعنی مالدار لوگوں سے ان کی آمدنی کے مقابلے میں انکم ٹیکس کم وصول کیا جارہا ہے اور اس کمی کا بوجھ 22کروڑ عوام اور معیشت پر ڈالا جارہا ہے۔ یہ بات کوئی راز نہیں کہ غیرمنقولہ جائدادوں میں کئی ہزار ارب روپے کا کالا دھن لگا ہوا ہے، چنانچہ ناجائز دولت کو بدستور محفوظ جنت فراہم کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے 2013کے انتخابی منشور میں کہاگیا تھا کہ جس جائداد کی مالیت مارکیٹ کے نرخوں سے کم ہوگی، اسے حکومت خریدے گی مگر یہ بھی صرف سیاسی نعرہ ہی رہا چنانچہ اس ضمن میں کوئی قابل عمل حکمت عملی 2013سے 2018 تک وضع نہیں کی گئی اور نہ رخصت ہوئے سال میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

مالی سال 2019سے 2021کے تین برسوں میں پاکستان میں 74ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں جبکہ اسی مدت میں پاکستان نے 85ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کیا۔ اب وقت آگیا ے کہ برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے کی طرف توجہ دی جائے اور انکم ٹیکس کی اس شق کو منسوخ کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔

(لے آؤٹ آرٹسٹ :نوید رشید)