• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2022ء میں کیا ہونے جارہا ہے، کووڈ سے قبل کی طرزِ زندگی کو بھول جائیے

سال 2021ءوبائی امراض کے خوفناک مناظر، سیاسی غیر یقینی صورتحال، عالمی تناؤغر ض یہ کہ بڑے پیمانے پر انسانیت کے لیے ایک مشکل سال رہا۔کووڈسے قبل کی طرز زندگی کو بھول جائیے اور نہ ویساہونے کی امیدکریں۔ لیکن اگر تاریخ نے ہمیں کچھ سکھایا ہے تو، انسانوں کو،ہر بار بیک اپ حاصل کرنے، اور اپنا راستہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اور اس طرح، ہم اس ہنگامہ خیز سال کے آخر میں پہنچے۔اب یہ قیاس کرنے کا وقت ہے کہ آنے والے وقت میں ہماری زندگیاں کیسے بدل سکتی ہیں ۔ سال 2022 میں دنیا کے لیے مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔زیر نظر رپورٹ دنیا کے معتبر جرائد اور اخبارات کے تجزیوں اور ممکنہ منظر ناموں،مستقبل کے متعلق ماہر آسٹرالوجسٹس کی پیش گوئیوں پرمبنی ہے۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے

دی اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی خاموش حمایت سے اپنی مدت پوری کرے گی جو2023میں ختم ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی استحکام کے خطرات رہیں گے۔بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہیں گے۔بیرونی اور مالیاتی توازن کو مستحکم کرنے کیلئے حکومتی کوششیں جاری رہیں گی، کووڈ کے اثرات معاشی نمو پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو3عشاریہ2فی صدرہنے کی توقع ہے۔

پاک بھارت تعلقات ، برف پگھلے گی

2021ء میں پاک بھارت تعلقات میں کوئی غیر معمولی پیش رفت سامنے نہیں آئی ،تاہم سال کے آخری مہینوں میں کرتار پور راہداری کا کھلنا اور افغانستان کیلئے بھارتی گندم کی ترسیل کی اجازت دینے جیسے اقدامات سے 2022میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان برف پگھلنے کا اشارہ ملتا ہے۔ امریکی جریدہ فارن پالیسی کے مطابق پنجاب کی سرحد پر پابندیوں میں نرمی ایک بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے جو دونوں طرف کے لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت میں معاون ہوگی ۔ 

دونوں حکومتوں کے درمیان غیر معمولی خیر سگالی شاید تبدیلی کا ذریعہ نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرف سیاسی تبدیلیاں تعلقات میں ممکنہ پگھلاؤ کا سبب بن رہی ہیں۔ محرک کچھ بھی ہو، یہ اقدامات ابھی کے لیے چھوٹے اور یک طرفہ ہیں، لیکن دو طرفہ تعلقات کی راہیں کھولتے ہیں ۔ پاکستان نے2021 ء میں تین ہزار سکھ یاتریوں کو ویزا دیا، جب کہ پہلے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔

زیادہ اہم حیرت اس وقت ہوئی جب وزیر اعظم عمران خان نے قائم مقام افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کو بتایا کہ ان کی حکومت غیر معمولی بنیادوں پر ہندوستان کی طرف سے پیش کردہ گندم کی نقل و حمل کے لیے افغان بھائیوں کی درخواست پر غور کرے گی اور کچھ دن بعداسلام آباد نے اجازت دے دی کہ بھارت اب واہگہ بارڈر کے راستے گندم افغانستان بھیج سکتا ہے۔یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ پچھلی دو دہائیوں میں لگاتار امریکی انتظامیہ اور افغان حکومتوں کی طرف سے کئی درخواستوں کے باوجود، پاکستان نے بھارت کو ٹرانزٹ رسائی دینے کی تمام تجاویز کو مسترد کر دیا تھا لیکن جہاں دوسری افغان حکومتیں ناکام ہوئیں وہیں طالبان پاکستان کو اپنی پالیسی بدلنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دیے ۔ 

پاکستان نے واضح کیا کہ وہ افغان درخواست کو تسلیم کر رہا ہے، بھارتی اپیل پر نہیں، اور صرف غیر معمولی بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر طالبان کی طرف سے دباؤ ایک نیا عنصر تھا، تو 2022 کے انتخابات ہندوستانی پنجاب کے حصے میں نئی دہلی میں تبدیلی کا محرک معلوم ہوتے ہیں۔ فروری یا مارچ 2022میں بھارتی پنجاب میں ریاستی انتخابات ہونے جا رہے ہیں،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام بڑی جماعتوں نے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ گزرے برس کے شروع میں کشمیر میں ایک حیران کن جنگ بندی معاہدہ تھا ۔ 

مارچ میں ایک اہم تقریر میں، پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر اور جیو اکنامکس کی طرف نئی سمت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستان اور بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ چند ہفتوں بعد، پاکستان نے تجارت پر پابندی میں نرمی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرے گا، لیکن وزیر اعظم عمران خان نے فوری طور پر فیصلہ واپس لے لیا، اور یوںدونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر ایک بار پھر ایک جانی پہچانی سرد لہر دوڑ گئی۔ اس کیوجہ 2019 کی آئینی ترمیم تھی جس نے ہندوستان کے اندر کشمیر کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کردیا تھا۔

عالمی جنگ اور جوہری ٹکراؤ سے دنیا خاتمے کی طرف جاسکتی ہے

امریکی میڈیا نے یونانی دیومالائی کردار’ کیسینڈرا‘ کی پیش گوئیوں کو بنیاد بنا کر 2022 کے حوالے سے جو منظرنامہ پیش کیا ہے اس کے مطابق عالمی جنگ اور جوہری ٹکراؤ سے دنیا خاتمے کی طرف جاسکتی ہے۔ روس بغاوت کی کوشش کے ساتھ یوکرائن پر حملہ کر سکتا ہے۔ نیٹو کودور رکھنے کے لیے، روس موسم سرما کی گیس اور تیل کی ترسیل یورپ کو کم کر دے گا، جو اپنی ضرورت کا 30 فیصد تیل اور 40 فیصد گیس روس سے حاصل کرتا ہے۔ بائیڈن کی بدولت امریکہ ہنگامی بنیادوں پر مائع قدرتی گیس یا تیل کی ترسیل کے ذریعے یورپ کی مدد نہیں کر سکتا۔

چین بیک وقت تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔ ایران، حزب اللہ اور حماس کے ذریعے، اسرائیل پر ہر طرح سے حملہ کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کا بہاؤ سست کر سکتا ہے۔ سعودی عرب امریکہ اور یورپ کو تیل کی سپلائی کو کم یا مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے ۔ روس یوکرائن کو اور چین تائیوان کو کنٹرول کر لے گا، اسرائیل کمزور ہو جائے گا، نیٹو لڑکھڑا جائے گا، اور امریکہ کی فوجی اور عالمی قیادت کی حیثیت مستقل طور پر کم ہو جائے گی۔بائیڈن جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا، تاہم وہ اوراس کی دفاعی ٹیم اپنے آپ کو ثابت کرنے کیلئے زیادہ ردعمل ظاہر کرسکتی ہے۔ 

اس میں چین یا روس یا دونوں کے خلاف کچھ براہ راست کارروائی شامل ہوگی۔ جو جوہری ٹکراؤکے راستے کی طرف لے جاسکتی ہے۔شمالی کوریا امریکا کی توجہ ہٹا کر جنوبی کوریا پرروایتی، کیمیائی یا جوہری حملہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ اسرائیل وجودی خطرے کے تحت ایران پرمکمل حملہ کرسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اب اپنے اختلافات کو حل کرنے کا وقت ہے۔ تائیوان پر حملہ جاپان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

روس کے دفاع اور عروج کے لیے پوٹن ا سٹریٹجک علاقائی توسیع، نیٹو کی تباہی، اور یورپ پر سیاسی تسلط چاہتا ہے۔ نیا سال اس کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے اقدام میں یوکرائن پر حملہ ، روس کو اقتصادی فروغ دینا اور بحیرہ اسود کی اسٹریٹجک رسائی کو مستحکم کرنا ہے۔ روسی فوجی پہلے ہی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں۔ چینی صدرژی کامشرقی ایشیااور اس سے آگے پر سیاسی بالادستی کا تصور ہے۔ 

اگلا مرحلہ تائیوان پر حملہ اور فتح ہو گا، جہاں وہ فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایران اور اس کے رہنما اسرائیل کو تباہ کرنے اور مشرق وسطیٰ کی بالادستی حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ان سب نے حال ہی میں مشترکہ جنگی کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ آلا سکا میں چینیوں ، جنیوا میں روسیوں اورگلاسگو میں دنیا کے ساتھ، اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے کیلئے حماس کو رشوت دینے ، اور شی جن پنگ کے ساتھ حالیہ ویڈیو کال پر بری طرح ناکام رہی۔ امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء میں ناقص قیادت اور کمزورفیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا۔

بائیڈن نے امریکہ کو غیر ملکی تیل پر انحصار کر کے امریکی توانائی کی آزادی کو تباہ کر دیا ہے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وہ کووڈ سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہا ہے امریکی میڈیا نے ان ناکامیوں کو نظر انداز کیا۔ امریکی دفاع، انٹیلی جنس اور انصاف کے نظام کو سیاست زدہ کر دیا گیا ۔ کانگریس کی انٹیلی جنس اور آرمڈ سروسز کمیٹیوں کو بدعنوان کردیا گیا ہے۔ سیاست کو پولرائز کیا گیا ہے۔ امریکہ کئی دہائیوں میں سیاسی طور پر سب سے کمزور ہے۔

2022ءکے بارے میں لوگ زیادہ پر امید ہیں، فرانسیسی تحقیقی فرم

2021 کے بعد، دنیا بھر کے لوگ پر امید ہیں کہ 2022 ایک بہتر سال ہوگا۔ فرانسیسی تحقیقی فرم آئی پی ایس او ایس کے 33 ممالک میں کیے گئے سروے کے مطابق، کووڈ کے حوالے سے لوگ زیادہ پر امید نظر آتے ہیں، ماحولیات اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔47فی صد کا کہنا ہے کہ کووڈ وائرس کی مہلک قسم سراٹھا سکتی ہے۔ نصف سے زیادہ لوگ 56 فی صد یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی 80 فی صد سے زیادہ آبادی کو 2022 میں کووِڈ 19 ویکسین کی کم از کم ایک خوراک ملے گی۔ 

لاطینی امریکی انتہائی پر امید ہیں، یورپی باشندے ویکسین کی وسیع تر تقسیم کے بارے میں زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ 2022 میں ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے زیادہ نتائج دیکھیں گے، 60 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں 2021 کے مقابلے میں 2022 میں زیادہ شدید موسمی واقعات ہوں گے۔ 2021 میں کئی یورپی ممالک سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

واضح اکثریت یعنی75 فی صد توقع کرتی ہے کہ ان کے ممالک میں قیمتیں آمدنی سے زیادہ تیزی سے بڑھیں گی۔ اگرچہ دنیا بھر میں زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں کہ ایسا ہونے کا امکان ہے۔عالمی سطح پر ایک تہائی 35 فی صد دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹوں کو کریش ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر، لوگوں کو 2022 میں اسٹاک مارکیٹ کے استحکام کے لیے 2021 کے مقابلے میں زیادہ توقعات ہیں، جب 40 فی صد نے کہا کہ دنیا بھر کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں کے کریش ہونے کا امکان ہے۔71 فی صد لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے ممالک میں شہر کے مراکز دوبارہ مصروف ہو جائیں گے کیونکہ لوگ مستقل بنیادوں پر دفاتر میں کام کرنا شروع کر دیں گے۔ 

عالمی سطح پر، دس میں سے تین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ ان کے ملک کے لوگ ایک دوسرے کے لیے زیادہ روادار ہو جائیں گے۔ دس میں سے چار کے خیال میں یہ امکان ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کے ملک میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے۔ دس میں سے چار کو توقع ہے کہ ان کے ملک کے کسی بڑے شہر میں قدرتی آفت آئے گی۔ 10 میں سے چار کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ غیر ملکی حکومت کے ہیکرز عالمی آئی ٹی بند کرنے کا سبب بنیں گے۔ 

عالمی سطح پر تین میں سے ایک کا خیال ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال دنیا میں کسی تنازع میں کیا جائے گا۔سات میں سے ایک 2022 میں غیر ملکی دورہ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ تین چوتھائی یعنی 77فیصد 2022 میں بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر، عالمی معیشت کے بارے میں لوگ زیادہ پرامید ہے۔ دنیا بھر میں پانچ میں سے تین اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی معیشت اگلے سال مضبوط ہوگی، جبکہ 2020 میں یہ شرح 54 فیصد تھی۔

امریکا چین بگڑتے تعلقات، عالمی معیشت تقسیم ہو جائے گی

امریکا اورچین کے بگڑتے تعلقات عالمی معیشت کے لئے بد تر ہوسکتے ہیں۔ دونوں ممالک دنیا میں اپنے اثر و رسوخ قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر، جو بائیڈن، اپنے ہم خیال ممالک جن میں زیادہ تر مغربی ممالک شامل ہیں دباؤڈال کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ چین پر مشترکہ طور پر تجارت، ٹیکنالوجی، مالیات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پابندیاں لگا دیں،پابندیوں کے ساتھ، کچھ مارکیٹوں اور کمپنیوں کو مجبور کردیاجائے کہ وہ ان دونوںممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ 

اگرچہ ٹیکنالوجی کے میدان میں واضح خطرہ اس کا ہے کہ یہ حکمت عملی صنعتی شعبوں کے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔ معیشت کو دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی ایک چین کی حمایت اور دوسری امریکہ کی حمایت کرنے والی۔ اس عالمی اقتصادی تقسیم کی صورت میں کمپنیاں مختلف تکنیکی معیارات کے ساتھ دہری سپلائی چین چلانے پر مجبور ہوجائیں گی۔ کچھ ممالک میں ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک فائیو جی کے نفاذ کو ملتوی کیا جا سکتا ہے، اور چین کی طرف سے پابندیاں عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے گرد غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیں گی۔

سخت مانیٹری پالیسیاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کو کریش کردیں گی

2021ء میں جن عوامل نے امریکی افراط زر میں تیزی سے اضافہ کیا ان میں سپلائی چین میں رکاوٹیں، توانائی کی بلندقیمتیں، انتہائی ڈھیلی مالیاتی پالیسیاں اور ایک حقیقی معیشت کی بحالی ہے۔ اگرچہ ان عوامل میں سے کچھ میں بہتری پیدا ہوگی کیونکہ کرونا کے بعد امریکی معیشت میں توازن بحال ہوا ہے، ظاہر ہے کہ مہنگائی میں اضافہ دیر پا نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود وجہ یہ نہیں ہوسکتی کہ مرکزی بینک اثاثوں کی خریداری کم کرکے آہستہ آہستہ مانیٹری پالیسی کو سخت کرنا شروع کردے۔ 

اگر مالیاتی سختی درمیانی مدت میں افراط زر پر لگام لگانے میں ناکام رہتی ہے، توشرح سود میں اضافہ آئندہ برس کے وسط کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ امریکی اسٹاک کی آمدنی کا تناسب فی الحال 1929 اور 2008 کے اقتصادی بحران سے پہلے کے مقابلے میںزیادہ ہے ۔ شرح سود میں اضافہ اسٹاک مارکیٹ میں فوری ایڈجسٹمنٹ شروع کرنے کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔سرمایہ کاروں کی زیادہ تعداد کا مطلب یہ ہے کہ اسٹاک کی قیمتیں گریں گی۔لہذا غیر متوقع مالیاتی سختی امریکا کی اسٹیک مارکیٹ کو کریش کی طرف لے جاتی ہے۔

چین میں رئیل اسٹیٹ فرموں کے ڈیفالٹس کا خدشہ، جی ڈی پی متاثر ہوگی

چین میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے منفی اثرات شدید معاشی سست روی کا باعث بنتے ہیں۔ ایک چینی پراپرٹی فرم پہلے ہی تقریباً تین سو ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگیوں سے محروم ہو چکی ہے۔چینی معیشت میں اس کا کافی کردار ہے ،اس کے ممکنہ ڈیفالٹ ہونے کاخطرہ مالی انتشار کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔ چین مالیاتی منڈیوں کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے،اور فرموں میں قدم رکھنے اور بیل آؤٹ کرنے کی خواہش کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس مالی پریشانیوں کو الگ کرنے کاسامان ہے،بڑے پیمانے پر مالیاتی بحران کا امکان نہیں ہے۔ 

تاہم، چین کی بہت سی رئیل اسٹیٹ فرمیں اسی طرح کی ہیں جن پر بہت قرض ہے۔اگر رئیل اسٹیٹ فرموں کے ڈیفالٹس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو اس پر قابو پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ یہ پراپرٹی کی قیمتوں کے گرنے کا باعث بنے گا۔ سرمایہ کاری کے معاہدے کے ساتھ، حکومت کو اوور ایکسپوزڈ بینکوں اور گھرانوں کو بیل آؤٹ کرنا پڑتا ہے اور بہت سے معاملات میں گھریلو آمدنی کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ یہ صورت حال چین کی حقیقی جی ڈی پی کی نمو کو حالیہ برسوں کے 6 سے7 فیصد کے معمول سے کافی نیچے لے جا سکتی ہے،کمزور ترقی ہوگی، عالمی اقتصادی بحالی کو بھی نقصان ہوگاجس میں اجناس کے برآمد کنندگان خاص طور پر متاثر ہوں گے۔

ملکی اور عالمی مالیاتی اقدامات پٹری سے اتر سکتے ہیں 

اجناس کی بلندقیمتوںسے پیدا افراط زر کے دباؤ نے پہلے ہی برازیل، میکسیکو، روس، سری لنکا اور یوکرائن جیسی کچھ ابھرتی ہوئی منڈیوں کو2021 میں مانیٹری پالیسی کی شرحوں میں اضافے پر مجبورکیا ہے۔ ایسے تناظر میں جہاں وباکے نتیجے میں خودمختار ممالک تیزی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، شرح سود کو معمول پر لانے سے حکومتوں کے لیے قرض پر اٹھنے والے اخراجات زیادہ ہوں گے۔ امریکی بانڈز آئندہ مہینوں میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے لئے خطرے کی گھنٹی لا سکتے ہیں جس سے وہ سرمائے کی آمد میں اچانک کمی کاشکار ہو سکتے ہیں۔

خطرات ان ممالک میں زیادہ ہوںگے جوغیرملکی کرنسی میں مقروض ہیں، جیسا کہ ارجنٹائن اور ترکی، جہاں بانڈ کی فروخت سے کرنسی یاقرض کابحران متحرک ہوسکتا ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں اور توانائی کی طلب میں اضافے نے قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔ مرکزی بینکرز کہتے ہیں کہ یہ عارضی ہے، لیکن ہر کوئی ان پر یقین نہیں کرتا ہے۔ بریگزٹ کے بعد مزدوروں کی قلت اور مہنگی قدرتی گیس پر انحصار کی وجہ سے برطانیہ کو جمود کا خاص خطرہ ہے۔ 

آمدنی اور معیار زندگی پر کووڈکے اثرات، کئی ممالک میں بے امنی کاخدشہ

معاشی پیشین گوئیوں کا انحصارکووڈ وبا ،اس کی مختلف اقسام پر ویکسین کے اثرات پرہے۔ عالمی سطح پرمعاشی بحالی کیلئے اہم خطر ہ یہ ہے کہ کووڈ کی نئی اور مہلک اقسام کے خلاف موجودہ ویکسینز موثر نہیں ،خاص کر ڈیلٹا، اومیکرون اوردیگراقسام پر ویکسینز کے اثرات دکھائی نہیں دیتے۔اس کے علاوہ، ویکسین ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ اور منتقلی کو روکتی نظر نہیں آتی، جس سے خطرہ بڑھ جاتاہے ، وہ افراد اس وائرس کی منتقلی کا سبب بن رہے ہیں جن میں یہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

دنیاکے کچھ حصوں میں کووڈ 19 کا مسلسل پھیلاؤ اس خطرے کو مزید بڑھا تا ہے۔ اس لئے مینوفیکچررز اپنی ویکسین کواپ ڈیٹ کرنے کے مستقل چکر کو ختم کرسکتے ہیں۔ ایک ایسا لائحہ عمل بناسکتے ہیں جس کے تحت ویکسین کووڈکی مختلف اقسام کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہو۔ پہلے ہی ایچ آئی وی یا ایڈز جیسے کئی وائرس ہیں وسیع تحقیق کے باوجود جن کے خلاف ابھی تک کوئی موثر ویکسین تیار نہیں ہوسکی ۔

آمدنی اور معیار زندگی پر کووڈ وبا کے منفی اثرات کے پیش نظر، 2022 میں کئی ممالک میں بے امنی میں اضافے کا امکان ہے، ان میں وہ بھی شامل ہیں جو روایتی طور پر مستحکم مغربی ممالک اور طویل عرصے سے آمرانہ حکومتیں ہیں۔ وہ ممالک جہاں سیاسی تناؤ پہلے ہی زیادہ ہے وہ خاص طور پر خطرے میں دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ ممالک بھی جن کی معیشتیں وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئیں جیسا کہ مشرق وسطیٰ، افریقہ اورلاطینی امریکہ جیسے خطے خاص طور پر خطرے میں ہیں۔ 

تینوں خطے پہلے ہی سماجی تناؤ کا سامنا کر رہے تھے،لیکن ان کے اندر بہت سے ممالک سخت لاک ڈاؤن اور گہری کساد بازاری سے بھی گزرے۔ وسیع پیمانے پر پھیلتی بے امنی حکومت کے خاتمے، سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنے اور سرمایہ کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔سرمایہ کاروںکے خطرے کا یہ رجحان اور سیاسی خدشات عالمی اقتصادی بحالی کو روک سکتے ہیں۔

چین تائیوان تنازع میں امریکی مداخلت، تائیوان کی معیشت تباہ ہوجائے گی

سن2020 کے اواخر سے تائیوان چین کشیدگی نے آبنائے تائیوان میں فوجی تصادم کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔توقع ہے کہ چین تائیوان کے ساتھ براہ راست تنازع سے باز رہے گا،اس کے علاوہ، تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے آزادی کو ایک واضح پالیسی ہدف قرار دینے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ تائیوان تعلقات میں حالیہ گرمی جوشی نے چین کو تائیوان کے فضائی دفاعی شناختی زون میں باقاعدہ دراندازی کرنے پر اکسایا ہے۔ان چالوں نے فوجی غلط اندازوں کو بڑھا دیا ہے، یہ تنازع تائیوان کی معیشت کو تباہ کر دے گا،بشمول اس کی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری، جس پر عالمی سپلائی چین انحصار کرتی ہے۔

یورپی یونین، چین تعلقات مزید خراب ہوجائیں گے

سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین کے خلاف مارچ میں یورپی یونین کی پابندیوں کا نفاذ، اورچین کی طرف سے یورپی یونین کے دس افراد اور چار تنظیموں کے خلاف انتقامی پابندیاں،یورپی یونین چین تعلقات میں بگاڑ کا باعث بنی ہیں۔ یہ پیش رفت چین پرEUUS کے لیے یورپی مطالبات کو بڑھا سکتی ہے۔ خاص طور پر جب بائیڈن اتحادیوں سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔ 

بنیادی پیش گوئی یہ ہے کہ یورپی یونین چین سے نمٹنے کے لئے آزاد نقطہ نظر اپنائے گی، لیکن اس بات کاخطرہ ہے کہ یورپی یونین سنکیانگ میں کمپنیوں کے خلاف پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرے گی، ممکنہ طور پر موجودہ امریکی درآمدات اور سرمایہ کاری کی پابندیوں کی عکاسی کرے گی۔ یہ ہانگ کانگ ، تبت اور ممکنہ طور پر تائیوان میں چینی پالیسیوں کے جواب میں بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں یورپی مالیاتی بہاؤ تک محدود رسائی متاثرہ چینی کمپنیوں کے لئے مزید آپریشنل رکاوٹ کاباعث بنے گی اور چین میں کام کرنے والی یورپی یونین کی کمپنیوں کو جوابی کارروائی کے خطرے سے دوچار ہونا پڑے گاجیسے بائیکاٹ یا بلیک لسٹ ہونا۔

شدید خشک سالی قحط کا باعث بنے گی

موسمیاتی تبدیلی کے تمام ماڈل خشک سالی سے وابستہ خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اب تک دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں، لیکن وہ ہمارے اندازے سے قبل شروع ہو سکتے ہیں اور طویل مدت تک رہیں گے۔ رواں برس شدید گرمی کی لہروں نے کینیڈا اور امریکا کو متاثر کیاہے اور یونان، ترکی اور اسپین کو حالیہ مہینوں میں تباہ کن آگ کا سامنا کرنا پڑا ہے اورغیر مستحکم موسم بنیادی طور پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہے جیسا کہ برازیل میں خشک سالی نے فصلوں کومتاثر کیا ۔

شدید موسمی واقعات بہت سے خطرات میں سے ایک ہیں۔ جنوبی یورپ، بحیرہ روم، جنوب مغربی امریکہ اور جنوبی افریقہ میں پانی کی قلت کے عالمی معیشت کے لئے مختصر اور طویل مدتی نتائج ہوں گے ۔ زیادہ فصلوں کی تباہی سے عالمی سطح پر اجناس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، ان میںگندم، مکئی اورچاول شامل ہیں۔ اس طرح کی صورتحال عالمی افراط زر کو ہوا دے گی اور عالمی ترقی اور جذبات پر حاوی ہو گی۔

الیکٹرک گاڑیاں ہر جگہ ہوں گی

ہم اپنے چاروں طرف ہر شکل میں الیکٹرک گاڑیاں دیکھنا شروع کر دیں گے۔ کاریں، اسکوٹر، بائیک، بسیں، ٹرک سبھی کو برقی کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مائیکرو موبلٹی کے لیے بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں مرکزی دھارے میں شامل ہو جائیں گی۔ سائیکلیں ای سائیکل بن جائیں گی، اسٹینڈ اپ ای سکوٹر ہر جگہ ہوں گے، اور ہندوستان جیسے ممالک میں الیکٹرک رکشہ اور آٹوز بڑھتے رہیں گے۔

سائبر وار ملکوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا

جیسا کہ حالیہ سالوں میں تمام ممالک کووڈ وباکے خلاف برسرپیکار ہیں، آنے والے برسوں میں جغرافیائی و سیاسی میدان بھی گرم ہوں گے۔ براہ راست فوجی تصادم کے بہت زیادہ اخراجات اورسائبر حملوں کے مرتکب افراد کی شناخت میں دشواری کے پیش نظر، سائبر وارفیئر کے آغازکازیادہ امکان ہے۔ 

یہ آغازبڑی طاقتوں جیسا کہ امریکہ اور چین یا روس کے درمیان مکمل سفارتی خرابی کی وجہ سے ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو کنٹرول کرنے والے سافٹ ویئر کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کا سلسلہ بڑھ جائے گا،موجودہ حالات میں تمام معیشتیں اب بھی عالمی منڈی پر کرونا وائرس کے منفی اثرات کو محسوس کررہی ہیں۔

عالمی حقیقی جی ڈی پی چار عشاریہ دو فی صد تک ہو جائے گی

عالمی اقتصادی توسیع غیر مساوی انداز میںآگے بڑھ رہی ہے۔2020 میں تین عشاریہ چار فیصد کمی کے بعدعالمی حقیقی جی ڈی پی 2021میں پانچ عشاریہ پانچ فیصداور 2022 میں 4 عشاریہ 2 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ بڑھتی ہوئی رفتار طویل توقع سے زیادہ ہے۔

اپنے تازہ ترین اقتصادی آوٹ لک میں کہا کہ عالمی نمو اس سال پانچ عشاریہ چھ فی صد جب کہ 2022میں چار عشاریہ پانچ فی صد اور2023میں تین عشاریہ دو فی صد تک پہنچ جائے گی۔بڑھتی ہوئی ویکسی نیشن کی شرح، موثر علاج، کاروباری موافقت، صارفین اخراجات میں توازن سے معاشی نمو پر وبا کی وجہ سے پیدا رکاوٹوں میں آسانی ہو جائے گی۔ عالمی شرح نمو 2023 میں تین عشاریہ چار، اور2024میں تین عشاریہ دو فی صد تک پہنچ جائے گی۔ اکانومسٹ کے مطابق سن 2022میں عالمی جی ڈی پی 4.1 فی صد رہے گی۔

ڈیجیٹل کرنسی کو مزید ممالک میں قانونی حیثیت حاصل ہوگی

تمام خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کی طرح، کرپٹو کرنسیوں کو پالا جا رہا ہے کیونکہ ریگولیٹرز قوانین کو سخت کررہے ہیں۔ مرکزی بینک بھی اپنی ڈیجیٹل کرنسی شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔ فنانس کے مستقبل کے لیے تین طرفہ لڑائی کریپٹو، بلاکچین، ڈی فائی روایتی ٹیکنالوجی فرموں اور مرکزی بینکوں کے درمیان 2022 میں شدت اختیار کرے گی۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں کریپٹو کرنسی کے شعبے کی اکثریت اب بھی غیر منظم ہے۔ 

تاہم، اب ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کا بہت امکان ہے متعدد ممالک 2022 میں کرپٹو کرنسیوں پر ضابطے لے کر آئیں گے۔بھارت پہلے ہی اس کی راہ پر گامزن ہے۔ ایل سلواڈور اور چین جیسے لوگ پہلے ہی کرپٹو کے استعمال پر اپنا موقف صاف کر چکے ہیں۔ لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ممالک اپنے علاقوں میں کریپٹو کے استعمال کو قبول کریں یا مسترد کریں، ضوابط یقینی طور پر اب سے کہیں زیادہ جگہوں پر آئیں گے۔

مغربی حکومتیں طالبان کی نگران حکومت کو تسلیم نہیں کریں گی

طالبان نے سات ستمبر کو نگران حکومت قائم کی ۔ طالبان کی حکومت1996-2001 میں افغانستان پر حکومت کرنے والی حکومت سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی۔ مغربی حکومتوں کانگران حکومت کو تسلیم کرنے کا امکان نہیں، ترقیاتی امداد غیر معینہ مدت تک معطل رہے گی۔ جس کے نتیجے میں ملک کی درمیانی اورطویل مدتی ترقی کے امکانات خطرے میں پڑجائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے خبردارکیاہے 2022کے وسط تک97فی صد افغان خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ 

غیر یقینی صورت حال سے افغانستان میں معاشی بحران ابھرر ہا ہے۔ ستاروں کے آئینے میں افغانستان مستحکم نظر نہیں آتا، مارچ اپریل تک کچھ امن بحال ہو سکتا ہے، مشتری اور زحل کاجوڑ دنیا کی سیاست پر ہمیشہ نمایاں اثر ڈالتا ہے، دونوں سیارے پیچھے ہٹ رہے ہیں اس سے افغانستان میں کچھ ناخوشگوار واقعات رونما ہوسکتے ہیں ، اپریل 2022 تک افغانستان میں سیاسی استحکام اور مستحکم حکومت نظر نہیں آتی۔ آئندہ برسوں میں بنیاد پرست گروپوں کی بالادستی کاامکان ہے آنے والے دنوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔مارچ تک افغان شہری پریشانی کے عالم میں رہیں گے۔

بھارت کی جی ڈی پی نو عشاریہ ایک فیصد تک جانے کا امکان

بھارت2020-21 کی تاریخی کساد بازاری سے باہرنکل چکا ہے، کووڈ کی تیسری لہر ان کے معاشی سرگرمیوں میں معمولی خلل ڈال سکتی ہے اور وہ لاک ڈاؤن کی طرف جاسکتے ہیں، حکمران اتحاد 2024میں اپنی مدت کے اختتام تک اقتدارمیں رہے گا، چین کے ساتھ کشیدگی برقرار رہے گی،لیکن بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کاامکان نہیں، بھارت کی جی ڈی پی نو عشاریہ ایک فیصد تک جانے کا امکان ہے۔ 

فروری میں اومیکرون بھارت کو شدید متاثر کرے گا اور یومیہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ کیسز سامنے آسکتے ہیں۔2022 میں بھارت کی51فیصد خواتین برسر روزگار ہوں گی، جب کہ مردوں کی شرح46 فی صد ہوگی۔ بھارت اپنے یوم جمہوریہ پر پانچ وسطی ایشیائی ممالک کی کانفرنس کاانعقادرکھتاہے، بھارتی سربراہی میں قازقستان ،کرغزستان،تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کا اجلاس ہوگا۔

2022 کی پیش گوئیاں

بابا وانگا، نوسٹراڈیمس اور دیگر مشہور آسٹرالوجسٹ کی2022 کی پیش گوئیاں ہمیں زیادہ سے زیادہ تشویش کے ساتھ دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں کہ مستقبل قریب میں کیا ہوگا۔ اگر ہم ان پیشین گوئیوں کو مدنظر رکھیں تو 2022 کو قیامت کا سال قرار دیا جا سکتا ہے، ایک بات یقینی ہے، 2022 امن کا سال نہیں ہوگا۔

خواتین کاروباری صلاحیتوں کو آگے بڑھائیں گی، امریکی آسٹرالوجسٹ

امریکی آسٹرالوجسٹ کرسٹل بیچلسکی کا کہنا ہے کہ 2023کے اوائل میں کووڈ وبا ختم ہو جائے گی ،اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتی ہیں، کہ یہ وبا اس وقت شروع ہوئی جب زحل برج دلو میں داخل ہوا اور غالباً زحل کے نکل جانے سے ہی ختم ہوگا۔2022میں جدت، آٹومیشن اور ٹیکنالوجی میں بھی نئی راہیں کھلیں گی۔

 2022خواتین کے لئے اہم اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو آگے بڑھائے گا، خاص طور پر ان ماؤں کے لئے یہ سال اچھا ہے جو گھر سے کام کرنے کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ حالیہ چاند گرہن بڑی تبدیلیوں کا سب بنے گا۔ لوگ روحانیت کی طرف زیادہ مائل ہوں گے۔

معاشی عدم استحکام کے شکار ممالک میں حکومتیں تبدیل ہو جائیں گی، روسی آسٹرالوجسٹ

روسی آسٹرالوجسٹ تاتیانا بورش کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی برسوں تک زندگی کو کووڈ سے پہلے کی طرح نارمل نہ دیکھیں، زندگی نئے انداز میں ہوگی نیا معمول ہوگا، وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی شکل میں جھٹکے ہوں گے۔ انہوں نے آئندہ برس کو دو الگ الگ ادوار میں تقسیم کیا ہے پہلا نصف بہت سازگار جب کہ دوسرا نصف زیادہ پریشان کن ہے۔ اس سال ناقابل یقین فلمیں ،موسیقی، اور پینٹگز دیکھنے کو مل سکتی ہے، منشیات کو قانونی بنانے کا رجحان ہوسکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیا ں پوری دنیا میں تباہی پھیلاتی رہیں گی، سیلاب،آتش فشاں اور بڑے زلزلوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ 

گلیشیئر پگھلتے رہیں گے اور اسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ پہلے چھ ماہ میں سیاسی ماحول نسبتاً پرسکون نظر آتا ہے، امریکا زیادہ پر امن دکھائی دیتا ہے، مزید آگ لگنے کے واقعات ہوں گے جس سے بڑے ماحولیاتی اور انسانی نقصانات ہوں گے، اگست کے بعد حالات تاریکی کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔ منفی سرگرمیوں، بحرانوں اور جنگوں کا باعث ہوسکتے ہیں، نئی قسم کی بیماریاں اور کووڈ کی نئی قسمیں سامنے آسکتی ہیں، یہ ایک مشکل وقت ہے کیونکہ یورینس2018سے برج ثورمیں ہے، اور 26 اپریل 2026 تک وہاںرہے گا، یہ واقعہ ہر84سال بعد ہوتا ہے، اس نے کریمین جنگ اور دوسری عالمی جنگ جیسی جنگوںکوجنم دیا ہے۔

2022کے دوسرے نصف حصے میں دنیا کے ہاٹ اسپاٹ میں جھڑپیں بڑھیں گی،جس سے نیٹو ممالک کمزور ہوں گے۔ دوسرانصف کچھ رازوں کے افشا کے ساتھ مزید ہنگامہ خیز ہوجائے گا۔ ریپبلیکن زیادہ طاقتور ہو جائیں گے، سابق امریکی صدرٹرمپ کااثر ورسوخ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں جمہوری اداروں میں تصادم ہوسکتا ہے۔ معاشی عدم استحکام کے شکار ممالک میں حکومتیں تبدیل ہوتی نظر آئیں گی۔ چین اور روس مضبوط ہوجائیں گے۔ بہت سے ممالک بے امنی اور مظاہروں کاسامنا کریں گے۔ لوگ شخصی حکومتوں کے خلاف مزاحمت کریں گے اور انقلاب کے دھانے پرپہنچ جائیں گے۔امریکااور چین سمیت بہت سے ممالک اپنی معیشتوں کی تعمیرنو کریں گے۔چین عالمی رہنما بن سکتا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ کی حادثے میں موت ہوسکتی ہے، نوسٹراڈیمس

سولہویں صدی کے مشہور ماہر علم نجوم نوسٹرا ڈیمس نے 2022 کے لیے کئی تشویشناک واقعات کی پیش گوئی کی تھی۔ ان کے مطابق جنگ کی وجہ سے امیگریشن بڑھے گی۔ 2022 میں مسلح تنازعات کی وجہ سے دنیا میں بھوک بڑھے گی۔ نتیجے میں زیادہ آبادی کی نقل و حرکت ہو گی۔یورپ کے ساحلوں پر تارکین وطن کی تعداد سات گنا زیادہ ہوگی۔ سال 2022 کے دوران موسمیاتی جنگ شروع ہو جائے گی۔ اس طرح کا تنازع کسی ایک ملک میں وسائل کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے، جو بعد میں رزق کے حصول کے لیے پڑوسی ملک پر حملہ کر دے گا۔ 

یورپی یونین زوال کا شکار ہوگی، معاہدہ روم، جس کی توثیق 1957 میں ہوئی تھی، یورپی تعمیرات کی ابتدا ہے۔ ان کے مطابق، بریگزٹ صرف آغاز ہے، اور 2022 میں پوری یورپی یونین کا ٹوٹنا مقدر ہے۔ پیرس کا محاصرہ ہوگا اور یہ شہر مکمل طور پر مفلوج رہے گا، بیرونی دنیا تک رسائی کے بغیر، طویل عرصے تک۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی موت ہو سکتی ہے وہ ایک غیر متوقع حادثے کا شکار ہو ںگے۔ تاہم، ان کی جانشینی پہلے ہی یقینی ہے، کیونکہ ان کے خاندان کا ایک فرد ملک کا انچارج ہوگا۔ جاپان میں ایک بڑا زلزلہ دن کے وسط میں آئے گا۔ ایک ایسا وقت جو انسانی نقصانات کو کم کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی خوفناک مادی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

نئی وبا کرہ ارض پر تباہی لائے گی، بابا وانگا

بلغاریہ کی نابینا بابا وانگا کی 2022 کی پیش گوئیوں کے مطابق تباہ کن زلزلے اور سیلاب آئیں گے، ساحلی علاقوں میں زیادہ تر جاندارتباہ ہوجائیں گے۔ایک اور وبا کاخطرہ ہے،یہاں تک کہ جو لوگ قدرتی آفات سے بچ جائیں گے، وہ بھی خوفناک بیماری سے مر جائیں گے۔ اگر یہ کورونا وائرس نہیں تو یہ نیا وائرس ہو سکتا ہے جو کرہ ارض کو تباہ کر سکتا ہے یا نئی وبا ہوگی جس کا بل گیٹس نے حوالہ دیا ہے۔ امریکہ کی تباہی ہوگی،ایسا لگتا ہے کہ اس سال میں امریکہ خود کو ختم کر لے گا۔ 

بائیڈن نے ابھی ایک گہرے معاشی اور سماجی بحران میں پھنسے ہوئے ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دیکھنے والے نے بہت زیادہ مثبت مستقبل کی پیش گوئی نہیں کی ہوگی۔ یہ تقسیم اور ٹوٹ جائے گا۔ معاشی بحران آئے گا،صحت کے بحران کے اثرات تباہی مچا رہے ہیں،پورے یورپ میں ایک بہت بڑا بحران ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ بحران شدید اثرات لائے گا،کیونکہ اس وقت پوری دنیا کے لوگ کورونا وائرس کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہیں۔چین عالمی سپر پاور کے طور پرابھرے گا، سیاسی سطح پر یہ ایک ہنگامہ خیز سال ہوگا۔ چین خود کو دنیا بھر میں عظیم سپر پاور کاتاج پہنائے گا۔چین کے علاوہ، روس جیسے ممالک میں بھی کچھ عجیب ہوگا۔ ولادیمیر پوتن پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملہ ہونے کا امکان ہے۔

کووڈ اپنی مختلف یامتغیر شکلوں میں 2029 تک موجود رہے گا،بھارتی نجومی

مشہور نجومی، مہاما ہوپادیا پنڈت نے پیش گوئی کی ہے کہ 2021 کے آخر تک وبائی مرض ختم ہو جائے گا۔ نجومی نرسمہا راؤ نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ لہر 2021 کی واحد لہر نہیں ہوگی۔ جب کہ انہوں نے 21 مارچ سے 7 مئی کے عرصے میں ’شیطانی اضافہ‘ کی پیش گوئی کی ہے۔بہت سے نئے کیسز کے ساتھ ہندوستان، میں بھی بہت سی اموات بھی ہوں گی۔ دسمبر 2021 تا فروری 2022 کے دوران ہندوستان اور امریکہ میں ایک اور لہر کا امکان ہے۔جادوئی سائنسدان ڈاکٹر کاجل مگرائی نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اب وقت آگیا ہے کہ پہلی اور دوسری لہر کی غلطیوں سے سیکھنا شروع کیا جائے۔ 

واستو آچاریہ سریواستو کا خیال ہے کہ دنیا جنوری 2022 سے بہتر وقت کا مشاہدہ کرنا شروع کر دے گی۔اگرچہ 2023 میں وبائی مرض سے مکمل طور پر آزاد ہونے کے لیے 2022 کے وسط تک احتیاط برتنی پڑ سکتی ہے۔پنڈت جگن ناتھ گرو جی کا کہنا ہے کہ وبا کا ’’انسانیت پر دیرپا اثر‘‘ پڑے گا۔ کووڈ اپنی مختلف یامتغیر شکلوں میں 2029 تک موجود رہنے کی توقع ہے، حالانکہ اس کے اثرات اتنے شدید نہیں ہوں گے۔ اگست 2022 ءتک ہندوستان کی صورتحال میں آسانی پیدا ہونے کا امکان ہے لیکن کم از کم 2025 تک بار بار آنے والی لہروں کے خطرے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

2022میں گلوبل باکس آفس کی آمدنی 33 ارب ڈالر تک پہنچ جائیگی

2022میں گلوبل باکس آفس کی آمدنی33 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ یہ آمدنی2021 کے مقابلے میں58فی صد زیادہ ہوگی، لندن کی فرم گور اسٹریٹ کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں باکس آفس نے 2021 میں 19 عشاریہ 2 ارب ڈالر کمائے جو کہ2020 کے مقابلے میں75فی صد زیادہ ہے۔ 

فرم کا کہنا ہے فلم انڈسٹری کوکووڈ وبا سے نکلنے میں ابھی2023تک انتظار کرنا پڑے گا اس سال گلوبل باکس آفس کی آمدنی40ارب ڈالر سے بڑھ جائے گی۔ امریکی،چینی اور بین الاقوامی مارکیٹیں2022میں بہتری کیلئے تیار ہیں۔سب سے زیادہ قابل ذکرمنافع شمالی امریکا سے متوقع ہے۔

سوشل میڈیا کو لگام دینے کے لیے یورپی یونین اور امریکا نئے قوانین کا نفاذ کریں گے

امریکہ اور یورپ میں ریگولیٹرز برسوں سے ٹیکنالوجی پلیٹ فارم پر لگام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کی ترقی یا منافع میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اب چین نے ٹیک فرموں پر کریک ڈاؤن میں برتری حاصل کر لی ہے۔ صدر شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ وہ ڈیپ ٹیک پر توجہ مرکوز کریں جو جیواسٹریٹیجک فائدہ فراہم کر ے، نہ کہ کھیل اور خریداری جیسی غیر سنجیدہ باتیں۔ 

فوربز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پولرائزیشن کو روکنے، انتخابات اور صحت عامہ کے بارے میں جھوٹ پھیلانے میں سوشل میڈیا انڈسٹری کے کردار پر بڑھتی ہوئی مایوسی یورپی یونین کو نئے ضوابط کے نفاذ کے قریب لے جائے گی جس کا مقصد میٹا (سابقہ فیس بک)، یوٹیوب، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کوعالمی سطح پر لگام دینا ہے۔ بامقصد کارروائی کے امکانات حالیہ مہینوں میں فیس بک کے فرانسس ہوگن کے انکشافات کے نتیجے میں واضح نظر آئے، جس نے ہزاروں صفحات کے اندرونی دستاویزات کو لیک کیا، امریکی کانگریس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جوابدہ رکھنے کے لیے درجنوں بلوں پر غور کر رہی ہے، لیکن یہ بات بہت کم واضح ہے کہ امریکی قانون ساز متعصبانہ اختلافات پر قابو پائیں گے ۔

کانگریس کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے صارفین کے تحفظ کے اختیار کو مزید سخت نگرانی کے لیے استعمال کرے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت صارف کی رازداری کے تحفظ کے لیے دباؤ میں آئیں گی۔ 

اس بات کا خطرہ ہے کہ حکام، خاص طور پر آمرانہ ممالک میں، کلاؤڈ میں ذاتی ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے ذخیروں کا غلط استعمال کریں گے۔ اس ممکنہ نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے، مائیکروسافٹ، گوگل، ایمازون، اور دیگر کلاؤڈ سروسز کمپنیوں نے اجتماعی طور پر اصول واضح کیے ہیں جس پر انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ڈیٹا کے مطالبات کے جواب میں عمل کرنے کا عہد کیا۔جو کمپنیاں انسانی حقوق کے اصولوں کو برقرار رکھ کرکام کریں گی وہ یورپ میں پھیلتی رہیں گی۔

کووڈ وائرس مزید جان لیوا نہیں رہے گا

2021 میں دنیا نے کووڈوباکے خلاف بھرپور کردارادا کیا ،وبا نے نئی شکلیں اختیار کی تو دوسری طرف اس سے نمٹنے کی نئی راہیں بھی تلاش کی گئی۔نئی اینٹی وائرل گولیاں، بہتر اینٹی باڈی علاج اور مزید ویکسین آ رہی ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ویکسین کروانے والے لوگوں کے لیے یہ وائرس مزید جان لیوا نہیں رہے گا۔ لیکن یہ اب بھی ترقی پذیر دنیا میں ایک مہلک خطرہ بنے گا۔ جب تک کہ ویکسی نیشن کو تیز نہیں کیا جاسکتا، کووڈ 19 ان بہت سی وبائی بیماریوں میں سے ایک اور بن جائے گا جو غریبوں کو متاثر کرے گی، امیروں کو نہیں۔

دنیا اس سال جمہوریت بمقابلہ آمریت دیکھے گی، برطانوی جریدہ

برطانوی جریدے نے 2022کے لئے بہت سی پیش گوئیاں کیں جن میں سے کچھ کا مختصر ذکر یہ ہے۔ دنیا اس سال جمہوریت بمقابلہ آمریت دیکھے گی۔ امریکا کے وسط مدتی انتخابات اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کانگریس اپنے حریف سیاسی نظاموں سے واضح طور پر متصادم ہوگی۔ استحکام، ترقی اور اختراع فراہم کرنے میں کون بہتر ہے؟ 

یہ حریفانہ جذبات تجارت سے لے کر ٹیک ریگولیشن اور ویکسی نیشن سے لے کر خلائی اسٹیشنوں تک ابھر کر سامنے آئیں گے جیسا کہ صدر جو بائیڈن نے جمہوریت کے جھنڈے تلے آزاد دنیا کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی، ان کا غیر فعال، منقسم ملک اس کی خوبیوں کے لیے ایک ناقص اشتہار ہے۔ اس بات پر ایک وسیع اتفاق رائے ہے کہ مستقبل’’ہائبرڈ‘‘ ہے، اور یہ کہ زیادہ سے زیادہ لوگ گھر سے کام کرنے میں زیادہ دن گزاریں گے۔ 

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین دفتر میں واپس آنے کی خواہش کم رکھتی ہیں، اس لیے انہیں پروموشن کے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی بحران سر اٹھائے گا، جنگل کی آگ، ہیٹ ویوزاور سیلاب کی تعداد میں اضافہ ہوگا، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں کے درمیان عجلت کا زبردست فقدان ہے۔

ڈیکاربنائزیشن کے لیے مغرب اور چین کو تعاون کرنے کی ضرورت ہے، جس طرح ان کی جغرافیائی سیاسی دشمنی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ خلا کا سفر کریں گے، یہ خلائی ریس کا سال ہوگا جس میں سرکاری ملازمین کی نسبت زیادہ لوگ مسافروں کے طور پر خلاء میں جائیں گے،چین اپنا نیا خلائی اسٹیشن مکمل کر لے گا۔ فلم ساز اس پر فلمیں بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اور ناسا ایک خلائی تحقیقات کو ایک سیارچے میں گرا دے گا، ایک حقیقی زندگی کے مشن میں جو ہالی ووڈ کی فلم کی طرح لگتا ہے۔ کھیل دنیا کواکھٹا کریں گے۔ بیجنگ میں سرمائی اولمپکس اور قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ اس بات کی یاددہانی ہوں گے کہ کس طرح کھیل دنیا کو اکٹھا کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی کہ کھیلوں کے بڑے واقعات اکثر سیاسی فٹ بال بن کر ختم ہوتے ہیں۔ دونوں میزبان ممالک میں احتجاج کی توقع ہے، حالانکہ قومی ٹیموں کے بائیکاٹ کا امکان نہیں ہے۔

(لے آئوٹ آرٹسٹ: نوید رشید)