• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’زیرہ‘ صرف کھانوں کی لذت نہیں بڑھاتا، کئی طبی خواص کا بھی حامل ہے

حکیم حارث نسیم سوہدروی

زیرہ، انگریزی میں"Cumin" کہلاتا ہے، جسے مسالا جات میں ایک خاص مقام حاصل ہے، لیکن بہت کم افراد جانتے ہیں کہ یہ کئی طبّی فوائد کا بھی حامل ہے۔ زیرے کی تاریخ پانچ ہزار سال پُرانی ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں تو ایران میں محصولات کا لین دین زیرہ بَھرے تھیلوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایرانی بادشاہ، خسرو نے اپنی اہلیہ یعنی ملکہ کو محصولات کا دس فی صد حصّہ زیورات کی خریداری کے لیے دیا۔ ملکہ نے جب تھیلے کھولے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ان میں زیرہ بَھرا تھا۔ 

جب وجہ دریافت کی، تو بادشاہ نے بتایا کہ زیرے کے یہ تھیلے سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں کہ زیرے کا استعمال کئی امراض کے لیے بطور دوا کیا جاتا ہے۔ جس پر ملکہ نے تائید کرتے ہوئے کہا،’’بادشاہ سلامت! آپ سچ کہتے ہیں کہ دعوتوں میں روغنی اور چٹ پٹے کھانے سے جب پیٹ خراب ہو جاتا ہے، تو زیرہ کھانے سے مرض جاتا رہتا ہے۔ زیرے میں لحمیات، پروٹینز، نشاستہ، کاربوہائیڈریٹس، کیلشیم، فاسفورس، فولاد، میگنیشیم، سوڈیم اور وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ 

جدید سائنسی تحقیق نے زیرے کا تیل کئی جراثیم کے خلاف مؤثر قرار دیا ہے، جب کہ یہ تیل ریاح اور قبض کُشا ادویہ میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ نیز، زیرے کا استعمال ادویہ کے بد مزہ ذائقے اور بُو ختم کرنے کے علاوہ ٹوتھ پیسٹ، ماؤتھ واش، عطر اور آرایشِ حُسن کی مصنوعات میں بھی کیا جاتا ہے۔ زیرے کی دو اقسام سفید اور سیاہ ہیں۔ یہ سونف کے بیج کی مانند ہی ہوتا ہے، مگر حجم میں قدرے چھوٹا اور ذائقے میں تھوڑا ترش ہے۔

سیاہ زیرہ:عموماً گرم مسالے اور چورن وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاح اور ورم تحلیل کرتا ہے، تو بلغم اورمعدے کی رطوبت ختم کرنے لیے بھی اکسیر ہے۔یہ پیشاب آور ہے،جب کہ جن خواتین کو کم ماہ واری کی شکایت ہو، اُن کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ چہرے کی رنگت نکھارتا ہے۔ قبض کُشا بھی ہے، لیکن زیادہ مقدار میں کھانے سے اجتناب برتا جائے۔ ریاح کی شکایت کی صُورت میںکھانا کھانے کے بعد ایک گرام سیاہ زیرہ پانی کے ساتھ کھالیں۔ اِسی طرح معدے اور جگر کی طاقت کے لیے لونگ اور سیاہ زیرہ ایک ایک گرام لے کر باریک پیس لیں اور سالن مین شامل کرکے کھائیں۔

سفید زیرہ: یہ معدے اور جگر کے لیے تقویت بخش ہے۔ریاح، ورم اور بلغم سے نجات کے لیے فائدہ مند ہے، تو دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے اس لیے مفید ہے کہ اس کے استعمال سے کم دودھ کی شکایت دُور ہوجاتی ہے۔نیز، موٹاپا اور صفرا دُور کرتا ہے۔ کھانوں کی لذّت بڑھانے، خاص طور پر چاولوں کو خوشبو دار بنانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے علاوہ لکنت کے مرض کے لیے ایک تولہ سفید زیرے کا سفوف، تین گرام شہد میں مِکس کرکے چند روز تک مسلسل زبان پر مَلیں۔ نیز، اگر لیموں کے رَس میں سفید زیرہ مِکس کرکے کھائیں تو متلی کی شکایت بھی دُور ہوتی ہے۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اوران کے قلم کار

٭عورت ہونا ایک اعزاز ہے، بلقیس متین، فیڈرل بی ایریا، کراچی٭ڈینگی،حسن رضا٭کردار سازی، آمنہ وزیر، جہلم ٭مَن پسند موسم،سُوپ، مومنہ بنت حنیف ٭بختوں کا معاملہ،طفر اقبال باجوہ،گوجرانوالہ٭کام یاب اور امیر بننے کے چار اصول،مولانا طارق جمیل کی زندگی کی کہانی،عامر علی، ہل ٹاؤن،منظور کالونی، کراچی٭لکھنےلکھانے کے آداب،ضیا الحق قائم خانی، جھڈو، میرپور خاص٭رواداری اور فتنۂ رواداری، محمّد ریاض علیمی، نیو کراچی،کراچی۔

سنڈے میگزین سے مزید