• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیں اب نیٹو، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا کی مدد کی ضرورت نہیں رہی، ٹرمپ برس پڑے

ہم ان کا تحفظ کریں اور یہ ممالک ضرورت کے وقت ہمارے لیے کچھ نہ کریں: ڈونلڈ ٹرمپ - فوٹو: فائل
ہم ان کا تحفظ کریں اور یہ ممالک ضرورت کے وقت ہمارے لیے کچھ نہ کریں: ڈونلڈ ٹرمپ - فوٹو: فائل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا سمیت نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ممالک سے خفا ہوگئے اور کہا کہ ہمیں بھی اب نیٹو ممالک کی ضرورت نہیں رہی۔ 

اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بیشتر نیٹو اتحادیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے سے مطلع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی اب نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت یا خواہش نہیں رہی۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اب جاپان، آسٹریلیا یا جنوبی کوریا کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ ہمیں اب کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر ممالک اس پر متفق تھے جو ہم ایران سے متعلق کر رہے ہیں، مجھے ان ممالک کے اس عمل پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو پر ہم سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں جو ان ممالک کا تحفظ کرتا ہے، ہم ان کا تحفظ کریں اور یہ ممالک ضرورت کے وقت ہمارے لیے کچھ نہ کریں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی بری فوج، بحریہ، فضائیہ، اینٹی ایئرکرافٹ اور ریڈار تباہ کردیا ہے۔ ہمارے یورپی اور مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کے لیے خطرہ ایرانی قیادت ختم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا جیسے طاقتور ملک کے صدر کے طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اتنی بڑی فوجی کامیابی مل گئی ہے تو اب ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ نیٹو کو یک طرفہ معاملہ ہی سمجھا ہے، نیٹو ممالک پر اربوں ڈالر خرچ کیے لیکن ان ممالک نے کبھی ضرورت کے وقت ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ سب کا اتفاق ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید