• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں بلند ترین عمارتیں تعمیر کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور کئی ممالک ہر سال اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ وہ نئے سال میں دنیا کی نئی بلند ترین عمارت تعمیر کرکے پُرانے سارے ریکارڈ توڑ دیں۔ فلک بوس عمارت کی تعریف کیا ہے؟ تعمیراتی ماہرین کے مطابق، ایک فلک بوس عمارت کی اونچائی 150میٹر (492فٹ) سے زیادہ ہونی چاہیے، وہ کسی بھی سپورٹنگ کیبلز سے پاک ہو اور کم از کم 50 فی صد اونچائی تک اس کے فلورز کا قابلِ رہائش ہونا ضروری ہے۔

گزشتہ چند برسوں کی طرح نئے سال میں نئی فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کے لحاظ سے چین سب سے آگے ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں زیرِ تعمیر 20بلند ٹاورز میں سے 16چین میں زیرِ تعمیر ہیں۔ جب کہ تھائی لینڈ، ملائیشیا، سعودی عرب اور امریکا میں ایک ایک زیرِ تعمیر ہے۔ 

تاہم، یہ صورتِ حال تبدیل ہونے والی ہے کیوں کہ چین نے نئے فلک بوس ٹاورز کی تعمیر سے متعلق نئے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں، جس کے تحت 30 لاکھ سے کم آبادی والے شہروں میں ان پر مکمل پابندی جب کہ بڑے شہروں میں ان کی اونچائی کی حد 250 میٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2025ء کے بعد، فلک بوس عمارتوں کے لحاظ سے کوئی اور ملک چین کی جگہ لے سکتا ہے۔ ذیل میں 2022ء میں مکمل ہونے والی چند فلک بوس عمارتوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔

چینگ مائے سینٹر (388میٹر)

شینزن شہر، جسے سیلیکون ویلی کا چینی ورژن بھی کہا جاتا ہے، میں 388 میٹر بلند چینگ مائے سینٹر زیرِ تعمیر ہے اور اس کا ڈھانچہ ابھی سے شہر میں نمایاں نظر آتا ہے۔ عمارت کی تزئین کا کام آخری مراحل میں ہے، جس کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ 

اس عمارت کو پہلے 520میٹر اونچی عمارت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم سٹی پلانرز نےاسے 388میٹرز تک محدود رکھنے کی منظوری دی۔ شینزن شہر میں اس سے قبل بھی متعدد بلند و بالا عمارتیں موجود ہیں، جن میں 441میٹر اونچی KK100 اور ایشیا کی دوسری سب سے اونچی 599 میٹر بلند عمارت پھینگ این فائنانس سینٹر شامل ہیں۔

گرین لینڈ شینڈونگ سینٹر (428میٹر)

یہ عمارت بھی چین میں زیرِ تعمیر ہے اور تکمیل کے بعد یہ جینان شہر کی اب تک کی سب سے بلند ترین عمارت کا درجہ حاصل کرلے گی۔ اس وقت اس شہر کی بلند ترین عمارت جینان سینٹر فائنانشل سٹی ہے جس کی اونچائی 333 میٹر ہے۔ گرین لینڈ شینڈونگ سینٹر کو آرکیٹیکٹ گروپ SOM نے ڈیزائن کیا ہے، جو اس سے قبل تیانجن سی ٹی ایف فائنانس سینٹر عمارت بھی ڈیزائن کرچکا ہے، جس کے بیرونی رُخ کو کچھ اس طرح خمدار رکھا گیا ہے کہ عمارت کی مضبوطی کو یقینی بنایا جاسکے۔

وینکے سینٹر (468میٹر)

یہ عمارت ابھی زیرِ تکمیل ہے اور ابھی سے اپنے تعمیراتی ڈھانچہ کی بنیاد پر چونگ کِنگ کی سب سے بلند ترین عمارت کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ اس سے قبل اس شہر کی بلند ترین عمارت ریفلز سٹی تھی، جسے 2019ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ ریفلز سٹی کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا کی بلندترین اسکائی برج کی حامل عمارت ہے۔ چین کے دیگر شہروں کی طرح حالیہ برسوں میں چونگ کنگ میں بھی فلک بوس عمارتوں کی تعمیر میں تیزی آئی ہے۔ اس وقت اس شہر میں 150 میٹر اونچائی کی حامل 133 عمارتیں موجود ہیں۔

ووہان گرین لینڈ سینٹر (475.6میٹر)

ابتدا میں اس عمارت کو دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جو اصل ڈیزائن کے مطابق ٹوکیو اسکائی ٹری سے 2میٹر بلند تھی۔ تاہم ووہان گرین لینڈ سینٹر کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا ہوا تھا۔ عمارت کی تعمیر کا آغاز 2012ء میں ہوا اور منصوبہ یہ تھا کہ اسے 636میٹر اونچائی تک تعمیر کیا جائے گا۔ 

جس وقت عمارت کا 96واں فلور تعمیر کیا جارہا تھا، اس وقت اس کی تعمیر کا کام روک دیا گیا اور چینی حکام نے اسے دوبار سے ڈیزائن کرنے کی درخواست کی کیوں کہ یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ یہ عمارت ایئر اسپیس کی پابندیوں کے خلاف جارہی تھی۔ اب اس عمارت کو 475.6 میٹر تک محدود رکھا جائے گا اور یہ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت کے بجائے 15ویں بلند ترین عمارت ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ عمارت 2022ء میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی۔

مرڈیکا پی این بی 118(678.9میٹر)

تقریباً ایک سال قبل، جب ملائیشیا میں اس ٹاور کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع کی گئی تو عمومی خیال یہی تھا کہ یہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہوگی اور اس کی اونچائی 600 میٹر سے زائد ہونے کا اندازہ لگایا جارہا تھا۔

اس ٹاور کو شامل کرکے، ابھی تک دنیا میں صرف چار عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، جنھیں صحیح معنوں میں ’’میگا ٹال‘‘ کہا جاتا ہے؛ مکہ رائل کلاک ٹاور، شنگھائی ٹاور اور برج خلیفہ۔ اس قدر طویل قامت عمارتیں تعمیر کرنا ڈھانچہ جاتی اور معاشی لحاظ سے ایک بڑا چیلنج ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغرب میں ایک حد سے اونچی عمارتیں تعمیر کرنے کا مقابلہ نہیں دیکھا جاتا ۔ 

مرڈیکا پی این بی 118 نے پہلے ہی کوالا لمپور کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرلیا ہے اور اس سے قبل کی بلند ترین عمارت ’پیٹروناس ٹوئن ٹاورز‘ ابھی سے اس کے سامنے بونی معلوم ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دو عشرے قبل پیٹروناس ٹاورز کو دنیا کی بلند ترین عمارت کا درجہ حاصل تھا۔