گھر کی ری ماڈلنگ ایک دلچسپ لیکن جان جوکھم میں ڈالنے والا کام ہے۔ چاہے آپ اپنے گھر کو تازہ نظر بنانا چاہتے ہیں یا پھر اس میں کوئی قابلِ ذکر ڈھانچہ جاتی تبدیلی لانا چاہتے ہیں، خواہش یہ ہوتی ہے کہ ہر کام زبردست انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے اور اس کے نتائج بھی اتنے ہی زبردست ہوں، مطلب، آپ کے گھر آنے والا کوئی بھی شخص ان تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
آگے کی منصوبہ بندی کریں
گھر کی ری ماڈلنگ کرنے کا پہلا مرحلہ ’پلان‘ یعنی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ ری ماڈلنگ کے سارے عمل کو بروقت مکمل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ان ساری پراڈکٹس کا پیشگی انتخاب کرلیں، جن کا آپ نے استعمال کرنا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ آپ اپنے بجٹ سے تجاوز نہیں کریں گے۔ پیشگی منصوبہ بندی سے آپ کو فیصلے لینے میں آسانی ہوگی کہ ساری صورتِ حال آپ کے سامنے ہوگی کہ اس سارے پروجیکٹ میں آپ کی کتنی لاگت آئے گی۔
تحقیق کریں
گھر کی تزئین و آرائش کرنے سے پہلے آپ مختلف ذرائع سے تحقیق کرسکتے ہیں، جن میں ویب سائٹس، جریدے اور ہمارے یہ صفحات شامل ہیں، جہاں گاہے بگاہے ہم آپ کو اس حوالے سے دلچسپ معلومات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
تحقیق کے ذریعے آپ اس بات کا حتمی فیصلہ کرلیں کہ آپ اپنے گھر کے ہر کمرے کو کس طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ پہلے ایک سے زیادہ ڈیزائن شارٹ لسٹ کریں اور پھر ان میں سے کسی ایک حتمی ڈیزائن کو منتخب کریں جو آپ کے ذوق اور بجٹ کے مطابق ہو۔ جس جگہ سے جو چیز اچھی لگے اسے کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کرلیں۔
مزید برآں، آپ ایک تھیم کو لے کر چلیں اور پھر اس پر قائم رہیں۔ مثلاً، آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ کو باورچی خانہ روایتی (ٹریڈیشنل)، جدید (ماڈرن) یا دیہاتی (رَسٹِک)۔ آپ کو اپنے دوست کے گھر کی کوئی چیز اچھی لگتی ہے تو آپ اس سے بھی مدد لے سکتے ہیں اس نے وہ چیز کہاں سے خریدی۔
بجٹ مختص کریں
گھر کی تزئین و آرائش ایک مہنگا کام ہے۔ اگر آپ نے پیشگی بجٹ بنائے بغیر اس کام میں ہاتھ ڈالا تو پھر یہ یقین کرلیں کہ آپ کی توقعات سے زیادہ خرچہ ہوگا۔ منصوبہ بندی اور تحقیق کے نتیجے میں آپ ایک بجٹ کا تعین کرنے کے قابل ہوجائیں گے اور اس میں دیر نہ کریں۔ ایک بار بجٹ بنالیں تو پھر اس پر عمل کریں۔آپ کا بجٹ فرنیچر، آرائشی اشیاء، لائٹنگ، فلورنگ، پلمبگ اور انسٹالیشن وغیرہ کے اخراجات کا احاطہ کرے گا۔
ٹھیکیدار کا انتخاب
ٹھیکیدار کا انتخاب کرنے سے پہلے، جہاں جہاں اس کے موجودہ کام چل رہے ہیں، ان جگہوں کو ضرور وِزٹ کریں۔ ایک اچھے ٹھیکیدار کی نشانی یہ ہے کہ وہ جس جگہ بھی کام کرتا ہے وہاں صفائی، ستھرائی کا بہت خیال رکھتا ہے اور انتہائی منظم انداز میں اس کا کام ایک خاص رفتار سے جاری رہتا ہے، آپ کو اس کی جگہ پر افراتفری نظر نہیں آئے گی۔
بہت یہی رہتا ہے کہ آپ ایک ٹھیکیدار کا انتخاب کرنے سے پہلے دو، تین اور ٹھیکیداروں سے بھی ملاقاتیں کریں، جس کے بعد آپ کو درست اندازہ ہوگا کہ آپ کے کام کے لیے سب سے موزوں ٹھیکیدار کون رہے گا۔
اچھا ’باس‘ بنیں
بروقت اور معاہدے کے عین مطابق ادائیگیاں کرنا تو آپ کا اخلاقی اور قانونی فرض ہوتا ہے، اس لیے ادائیگیوں کے معاملے میں کسی کو بھی نہ لٹکائیں۔ مزید برآں، سائٹ پر کام کے دوران سب کام کرنے والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں۔ سب کو عزت چاہیے ہوتی ہے، آپ انھیں عزت دیں گے تو وہ آپ کو آپ کی توقعات سے بڑھ کر نتائج دیں گے۔
توقعات
ایک پروفیشنل ٹھیکیدار آپ کو بتائے گا کہ اس پروجیکٹ میں آپ کو کیا توقعات رکھنی چاہئیں۔ تمام تر پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود آپ کو کچھ کاموں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور آپ کو پریشانیاں دیکھنی پڑسکتی ہیں۔ جب آپ ان متوقع پریشانیوں اور ذہنی کوفت کے لیے پہلے سے ہی اپنے ذہن کو تیار کرلیں گے تو آپ کو زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔
ضروری سامان کو باندھ کر محفوظ کرلیں
جب آپ ری ماڈلنگ پروجیکٹ پر کام کا آغاز کریں گے، یہ آپ کے گھر کے ہر حصے کو متاثر کرے گا۔ کام شروع کرنے سے پہلےآپ کو تمام تصاویر اور دیگر نازک سامان کو ہٹا لینا چاہیے۔اس کے علاوہ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ فرش صاف ستھرا اور محفوظ رہے تواسے کپڑے سے ڈھانپ لیں۔
کام شروع کریں
کام پر باقاعدہ آغاز سے قبل آپ ٹھیکیدار اور اس کی کام کرنے والی پوری ٹیم کے ساتھ ایک میٹنگ رکھیں۔ کام کرنے والی ٹیم کے سائٹ پر پہنچنے اور پیک۔ اَپ کے اوقاتِ کار طے کریں، مٹیریل کو رکھنے کے لیے جگہ پر اتفاق اور پیدا ہونے والے فضلے کو بروقت ٹھکانے لگانے پر اتفاق کرلیں، تاکہ بعد میں کسی کے لیے کوئی پریشانی پیدا نہ ہو۔
اخذ نتیجہ
گھر کی تزئین و آرائش کرنے سے پہلے، منصوبہ بندی اور بجٹ بنانے کے لیے خود کو مناسب وقت دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ نے اس کام کے لیے درست ٹھیکیدار کا انتخاب کیا ہے۔
ایک بار جب کام کا باقاعدہ آغاز ہوجائے تو ٹھیکیدار کے ساتھ بات چیت کے دروازے کُھلے رکھیں اور جہاں کہیں آپ کو کام میں تبدیلی یا بہتری کی گنجائش نظر آئے، فوری طور پر ٹھیکیدار کے علم میں لائیں اور دیکھیں کہ اس نئی صورتِ حال کا حل بجٹ میں رہتے ہوئے کس طرح نکالا جاسکتا ہے۔