غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ متوازن غذا کے لیے ایک شخص کو روزانہ 85گرام پھل اور 300گرام سبزیاں روزانہ کھانی چاہئیں۔ تاہم بدقسمتی سے فاسٹ فوڈ اور غیر صحت مندانہ طور اتوار کے باعث خیال کیا جاتا ہے کہ ایک فرد روزانہ اوسطً 120گرام سبزیاں ہی کھا پاتا ہے۔
مزید برآں، آج کل کے ماحول میں جن ذرائع سے سبزیاں اُگائی اور حاصل کی جاتی ہیں، وہ بھی اتنے تسلی بخش نہیں کہ ایک طرف ان میں کیمیائی ادویات کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ غذائیت کے مطلوبہ معیار پر بھی پورا نہیں اُترتی ہیں۔
اس مسئلے کا ایک حل گھر میں سبزیاں اُگانا ہے، اس سے آپ نہ صرف گھر بیٹھے تازہ، صحت مند اور غذائیت سے بھرپور سبزیاں حاصل کرتے ہیں، بلکہ یہ اس سرگرمی کے آپ کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مزید برآں آپ کو گھر میں ہریالی بھی میسر آتی ہے۔
گھر میں سبزیاں اُگانے کا ایک معاشی پہلو بھی ہے، اس سے آپ کے پیسوں کی بچت ہوتی ہے جبکہ خریداری کے لیے مارکیٹ آنے جانے پر آپ کے وقت کی بھی بچت ہوتی ہے اور آپ ٹریفک کے شور شرابے، افراتفری اور آلودگی سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
آپ اپنے گھر میں کُھلی جگہ، ٹیرس یا گیلری میں سبزیاں کس طرح اُگا سکتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔ مزید برآں، آپ جگہ کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گھر کی دیواروں پر گملوں میں سبزیاں اُگا سکتے ہیں، دنیا بھر میں یہ رجحان خاصا مشہور ہے، جسے ورٹیکل (عمودی) گارڈننگ بھی کہا جاتا ہے۔
اگر آپ کے گھر کے اندر چھوٹی موٹی جگہ دستیاب ہے اور وہاں دھوپ بھی پڑتی ہے تو اس جگہ کو آپ درج ذیل طریقے سے سبزیاں اُگانے کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔ اس وقت چونکہ سردیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے تو سردیوں کے موسم میں آپ گاجر، مولی، شلغم، بینگن، بند گوبھی، میتھی، لہسن، پودینہ، سرسوں، مٹرم پالک، کھیرا، چقندر، ٹماٹر، دھنیا، پودینہ اور مرچی وغیرہ اُگا سکتے ہیں۔
* زمین کو نرم کرلیں اور اس بات کو یقینی بنالیں کہ اس میں سخت ذرات جیسے پتھر وغیرہ کو نکال لیں اور وہ موجود نہ ہوں۔
* اس نرم زمین پر سیدھی لائن کھینچ لیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی سبزیاں ایک ترتیب میں اُگیں گی جن کی دیکھ بھال اور کٹائی اور چُنائی آپ آسانی کے ساتھ کر پائیں گے۔ سیدھی لائن کے لیے آپ رسی کا استعمال کرسکتے ہیں۔
* زمین کو زرخیز بنانے کے لیے اسے کھاد دیں۔ کیمیائی کھاد سے محفوظ رہتے ہوئے آپ جانوروں کا فضلہ اور انڈے کے پسے ہوئے چھلکے کھاد کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ زمین کی آرگینک طریقے سے زرخیزے بڑھانے کے لیے یہ بہترین طریقہ مانا جاتا ہے۔
* ایک بار پھر زمین کو پانی دیں اور اسے نم دار بنائیں، اب آپ کی جگہ سبزیاں اُگانے کے لیے تیار ہے اور اس میں ان سبزیوں کے بیج ڈالیں جو آپ اُگانا چاہتے ہیں۔
* پودوں کو تیزی سے اُگانے کے لیے آپ پودوں اور زمین کو روزانہ کی بنیاد پر پانی دے سکتے ہیں۔
اس طرح آپ گھر میں بآسانی سبزیاں اُگا سکتے ہیں۔
کنٹینرز میں سبزیوں کی کاشت
اگر گھر میں سبزیوں کی کاشت کے لیے اضافی زمین دستیاب نہ ہو تو مختلف کنٹینرز میں بھی سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں۔ ان میں مٹی کے بنے ہوئے گملے، پلاسٹک کے ٹپ، ٹوکریاں، لکڑیاں، لکڑی کے کریٹ، شاپر بیگ، کھاد والے تھیلے، پلاسٹک اور لوہے کے ڈرم، پُرانے ٹائر وغیرہ شامل ہیں۔
گملوں کی جسامت کا تعین سبزی کی قسم پر منحصر ہے۔ مثلاً پالک اور دھنیا کی کاشت کے لیے گملے کی اونچائی اگر کم بھی ہو مگر کاشت کا رقبہ زیادہ ہو یعنی کیاری نما گملا اس کے لیے موزوں رہتا ہے۔ سبزیوں کی کاشت کے لیے گملوں وغیرہ کے نیچے پانی کی نکاسی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ نیز اسے کمپوسٹ اور گوبر کے ہم وزن آمیزے سے بھر پر پودا لگائیں۔
کنٹینرز میں سبزیاں کاشت کرنے میں آپ کو ایک چیز جس کا زیادہ خیال رکھنا ہوگا وہ یہ ہے کہ کنٹینرز میں مٹی باغیچے میں لگی کیاریوں کے مقابلے میں تھوڑا جلد سوکھ جاتی ہے۔ چھوٹے اور بغیر روغن کے گملوں میں مسئلہ تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔ زمینی پودوں کے مقابلے میں ان کو زیادہ اورجلد جلد پانی دینا پڑتا ہے۔
سبزیوں کی عمودی اُگائی
اگر آپ کے پاس گھر میں گیلری، ٹیرس یا راہداری میں کنٹینرز رکھنے کے لیے بھی مطلوبہ گنجائش نہیں ہے تو پھر آپ کے لیے ایک آپشن یہ ہے کہ آپ دیوار پر عمودی رُخ پر سبزیاں اُگائیں، جسے ورٹیکل گارڈننگ کہا جاتا ہے۔
اس کے تحت بہترین چیز یہ ہے کہ آپ سیمنٹ کی ایک Living Wall بنائیں، جس کے دونوں اطراف کچھ سبزیاں کنٹینرز میں بآسانی اُگا سکتے ہیں، جبکہ لمبی سبزخوردنی پھلیوں اورلمبے عمودی ڈنڈوں کی مدد سے بیلوں کو اوپر تک چڑھایا جا سکتا ہے اور پیداوار کوکئی گُنا بڑھایا جاسکتا ہے۔
اگر آپ اوپر کی طرف سبزیاں اُگانا شروع کردیں تو پھر آپ کو وافر مقدار میں جگہ ہی جگہ دستیاب ہوجائے گی۔ عمودی کاشت آپ کو اوپر چڑھ کر کام کرنے کی وجہ دے گا۔ آپ اپنی سطح ِ نظر پرکام کریں گے اور کمر درد سے بچے رہیں گے۔