• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ہماری معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے جس کا مینوفیکچرنگ سیکٹر میں حصہ46فیصد اور لیبر فورس میں 40فیصد ہے جبکہ اس سیکٹر کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 9 فیصد اور ایکسپورٹ میں تقریباً 60 فیصد ہے۔ پاکستان کی موجودہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کا حجم 15ارب ڈالر سالانہ ہے جس کا عالمی مارکیٹ میں حصہ بمشکل 2فیصد ہے۔ اس پر ناقدین کو اعتراض ہے کہ ہماری ایکسپورٹس کا محور ٹیکسٹائل سیکٹر ہے جس کو دیگر سیکٹرز کے مقابلے میں رعایتی نرخوں پر بجلی، گیس، کم مارک اپ پر اسٹیٹ بینک کے قرضے، DLTL اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی ترجیحی سہولتیں دی جاتی ہیں جبکہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو مسابقتی رکھنے کے لیے رعایتی قیمتوں پر بجلی، گیس اور قرضے فراہم کئے جائیں تاکہ ہم مسابقتی سکت قائم رکھ سکیں۔ میں دونوں آرا کا احترام کرتا ہوں لیکن اس سلسلے میں میری تجویز ہے کہ جب تک ہم ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے متبادل سیکٹرز تیار نہیں کرلیتے، ہمیں اپنے کمائو پوت ٹیکسٹائل سیکٹر کو مسابقتی رکھنا ہوگا جو اس وقت پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹس کے 60فیصد پر مشتمل ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ دیگر پوٹینشل سیکٹرز جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، چاول اور لائٹ انجینئرنگ کے شعبے شامل ہیں، کو ترغیبات دے کر ملکی ایکسپورٹس میں اضافہ کرے۔ مثال کے طور پر 5000ارب ڈالر کی گلوبل آئی ٹی انڈسٹری کا اگر آپ صرف ایک فیصد اضافی حصہ سالانہ حاصل کرلیتے ہیں تو یہ آئندہ 5سال میں 50ارب ڈالر بنتا ہے۔

ہماری ٹیکسٹائل صنعت کی ایک بڑی طاقت خام کاٹن کی مقامی پیداوار ہے جو 12سے 13 ملین بیلز ہوتی تھی لیکن گزشتہ چند سال میں یہ کم ہوکر 8 سے 9 ملین بیلز تک محدود ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے پڑوسی ملک سے کاٹن امپورٹ کرنا پڑرہی ہے۔2020-21ء میں ہماری ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس 15.4 ارب ڈالر تھی اور رواں مالی سال اس میں اب تک 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی ایک وجہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو 6.5 ڈالر فی MMBTU گیس اور 9 سینٹ فی یونٹ بجلی کے رعایتی نرخوں پر فراہمی اور ٹیکسٹائل صنعتوں کی جدید اور ماڈرن مشینری ہے جو کوالٹی مصنوعات بنانے کیلئے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے مارچ 2020ء میں نئی صنعتوں اور BMR کیلئے 430 ارب روپے کی عارضی اکنامک ری فنانس سہولت (TERF) کے تحت 2 سے 5 فیصد شرح سود پر سستی فنانسنگ کی سہولت فراہم کی تھی جو مارچ 2021ء میں ختم ہوچکی ہے ،اب تک نئی مشینوں کی امپورٹ کیلئے ایک ارب ڈالر سے زائد کے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھل چکے ہیں جن میں 50فیصد سے زائد ٹیکسٹائل سیکٹر نے سرمایہ کاری کی ہے۔ نئی مشینوں کے لگنے سے ٹیکسٹائل صنعت کی پیداوار اور کوالٹی میں اضافے سے ملکی ایکسپورٹس بڑھیں گی۔ ہمارے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ پاکستان کی ڈینم انڈسٹری کو ایک خفیہ راز Best Kept Secret کہا گیا ہے جس نے چین اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے 25 سال پہلے اپنی ڈینم انڈسٹری پاک ڈینم لگائی تھی تو پاکستان میں ڈینم کا تجربہ کار ٹیکنیکل اسٹاف دستیاب نہ ہونے کے باعث ہم نے فلپائن اور ترکی کا ٹیکنیکل اسٹاف رکھا تھا لیکن آج مختصر مدت میں پاکستان دنیا میں ڈینم کا حب بن چکا ہے اور دنیا کے تمام بڑے ڈینم برانڈز پاکستان میں تیار کئے جارہے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی ڈینم ملز میں اب پاکستانی جنرل منیجر اور ٹیکنیکل اسٹاف رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی 25بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں، جو تقریباً 6 ارب ڈالر یعنی ملکی ایکسپورٹس کا 25 فیصد حصہ شیئر کرتی ہیں، میں اب زیادہ تر کمپنیاں ڈینم ہیں اور زیرو سے سفر شروع کرنے والی ڈینم انڈسٹری کی کامیاب اسٹوری ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے قابل فخر ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’پاکستان کی معیشت کا مستقبل ‘‘کے عنوان سے بزنس سمٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ ٹیرف فنانسنگ سے نئی جدید مشینوں کے لگنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ایکسپورٹس میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے نئی 5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی 2021-25ء میں رواں مالی سال 2021-22ء ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کا ہدف 15 ارب ڈالر سے بڑھا کر 21 ارب ڈالر رکھا ہے جبکہ 2022-23 ء میں 27 ارب ڈالر، 2023-24ء میں 24ارب ڈالر اور 2024-25 میں 42 ارب ڈالر ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن گیس لوڈشیڈنگ کے باعث ہمارے ایکسپورٹس آرڈرز متاثر ہورہے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو گیس کی سپلائی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائے۔

دنیا بھر میں ایکسپورٹس پر ڈیوٹی اور ٹیکسز زیرو ہوتے ہیں اور کسی وجہ سے اگریہ ڈیوٹی اور ٹیکسز ایکسپورٹرز سے وصول کئے جاتے ہیں تو وہ ایکسپورٹ پیمنٹ آنے کے بعد ایکسپورٹرز کو واپس کردیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ پالیسی DLTL کی صورت میں نافذ العمل ہے لیکن بدقسمتی سے 2018-19ء کے اضافی ایکسپورٹ اور 2019ء سے 2021ء کے اسٹیٹ بینک کے منظور شدہDLTL کلیمز ابھی تک ایکسپورٹرز کو ادا نہیں کئے گئے۔ میری وزیر خزانہ اور مشیر تجارت سے درخواست ہے کہ چھوٹے ایکسپورٹرز کو ان کے DLTL کلیمز کی فوری ادائیگی کی جائے تاکہ اُن کا کیش فلو بہتر ہو اور وہ ملکی ایکسپورٹس بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں جو گزشتہ کئی سال سے جمود کا شکار ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین