• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دُنیا بَھر میں ہر سال پارکنسنز ڈ یزیز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام11اپریل کو ’’ورلڈ پارکنسنز ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ہر سطح تک اس مرض سے متعلق درست معلومات عام کرنا ہے۔ واضح رہے،1817ء میں ڈاکٹر جیمس پارکِنسن (Dr.James Parkinson) نے اپنا ایک تحقیقی مقالہ"An Essay on the Shaking Palsy" پیش کیا، جس میں پہلی بار رعشے کا(جسے طبّی اصطلاح میں پارکنسنز ڈیزیز سے موسوم کیاگیا ہے) تعلق دماغ سے ثابت کیا گیا، اس سے قبل پارکنسنز ڈیزیز کو عضلات کی بیماری سمجھا جاتا تھا۔ 

چوں کہ جیمس پارکِنسن کی تاریخِ پیدایش11اپریل ہے،تو اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سےاس تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔ رواں برس اس یوم کے لیے جس تھیم کا اجراء کیا گیا ہے، وہ Integrated Health Care ہے۔ عام طور پر ہمارے یہاں میں مختلف امراض سے متعلق مستند معلومات پر انحصار کے بجائے توہمّات اور مفروضات پر زیادہ یقین کیا جاتا ہے۔ اور یہ امر درست علاج اور بہتر نگہداشت کی راہ میں ایسے رکاوٹ کا باعث بنتا ہے کہ مذکورہ مرض شدّت اختیار کرلیتا ہے۔ 

رعشے کو عموماً بڑھاپے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ یہ ایک برین ڈس آرڈرہے، جس میں دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) بنانے والے خلیات رفتہ رفتہ ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ چوں کہ ڈوپامائن کیمیکل جسمانی حرکات و سکنات کے لیے بنیادی جزو ہے، تو اس کی مقدار میں کمی کے نتیجے میں رعشے کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کا کوئی مستقل و دائمی علاج نہیں، لیکن بروقت، درست تشخیص اور مؤثر ادویہ کی بدولت علامات پر قابو پاکر کئی برس تک بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

یہ مرض عمومی طور پربتدریج بڑھتا ہے، لیکن جان لیوا ثابت نہیں ہوتا ،البتہ اس کے نتیجے میں ہونے والی پیچیدگیاں موت کا سبب بن جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں عوام الناس میں معلومات کا سخت فقدان پایا جاتا ہے، وہیں شعبۂ طب سے وابستہ بیش تر افراد بھی رعشے کی علامات وتشخیص سے نابلد ہیں۔ پاکستان میں رعشے کے مریضوں کے مصدّقہ اعداد وشمار دستیاب نہیں۔

تاہم، ایک محتاط اندازے کے مطابق 6لاکھ سے زائد مریض موجود ہیں، جن میں سے اکثریت اپنے مرض سے لاعلم ہے۔ ویسے تویہ مرض زیادہ تر 60سال یا اس سے زائد عُمر کے افراد کومتاثر کرتاہے، لیکن 40 سے 50سال کی عُمر کے افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چوں کہ اب پاکستان میں اوسط عُمر بڑھ کر 60 سے 65 برس تک پہنچ چُکی ہے، تو رعشے کی وجہ سے اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ واضح رہے، 60 سے65سال کی عُمر کے افراد میں سے تقریباً دو فی صد میں رعشہ لاحق ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔

پارکنسنز ڈیزیز کی خاص علامات میں حرکات وسکنات کی رفتار میں کمی ، عضلات میں تھرتھراہٹ یا رعشہ (بالخصوص جب جسم کے اعضاء حرکت میں نہ ہوں)، عضلات کی لچک ختم ہوجانا، توازن برقرار رکھنے میں دشواری، پٹّھوں میں تنائو، چلنے کی رفتار میں کمی، چھوٹے چھوٹے قدموں کے ذریعے چلنا اور چلتے ہوئے مُڑنے میں دشواری و آہستگی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مسلسل مرض کے مسلسل بڑھنے کے ساتھ کئی اور علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ 

مثلاً چہرے کے تاثرات میں کمی، چہرے کا اُترنا، رال ٹپکنا، چال منجمد ہوجانا، توازن برقرار نہ رکھنے کے سبب گِرجانا، تھکاوٹ، ہاتھ کی لکھائی کا چھوٹا ہوجانا، قبض ، ذہنی تناؤ، دباؤ، مثانے کی کم زوری، چکر آنا اور جَلد کا خشک ہوجانا وغیرہ۔ اس مرض کی جلد تشخیص اس لیے بھی ناگزیر ہے، تاکہ مریض کو عام افرادکی طرح زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکے۔ پارکنسنز کی درست تشخیص ایک ماہرِامراضِ دماغ و اعصاب (نیورولوجسٹ) ہی کرسکتا ہے، جو مریض کی علامات، معمولات، فیملی ہسٹری اور طبّی معائنے کے ذریعے ممکن ہے، لہٰذا اس ضمن میں معالج کو بیماری سے متعلق مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ 

رہی بات علاج کی، توچوں کہ اس مرض میں پٹّھے اکڑ جاتے ہیں اور حرکات و سکنات سُست روی کا شکار ہوجاتی ہیں، تو ادویہ کےساتھ فزیو تھراپی بھی تجویز کی جاتی ہے، جب کہ علاج کے ضمن میں تیمار داری کو بھی خاصا اہم گردانا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، مرض کی شدّت بڑھنے کے ساتھ ادویہ میں ردّ و بدل بھی ضروری ہے۔ پارکنسنز کی ادویہ مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔چوں کہ یہ زندگی بَھر رہنے والا مرض ہے ،تو اس کا علاج بھی تاعُمر جاری رہتا ہے اورباقاعدگی سے علاج کے نتیجے میں مریض عام افراد کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

مریض کے لیے ازحد ضروری ہے کہ وہ اپنے معالج سے رابطے میں رہے، علامات کی تبدیلی پر کڑی نظر رکھے اور علامات کی تبدیلی کے نتیجے میں فوری طور پر معالج سے رجوع کرے۔ چوں کہ ہر مریض کے علاج کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، لہٰذاصرف اپنے معالج کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ پانی پیئں، تازہ سبزیاں، پھل استعمال کریں کہ اس سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے۔ رعشہ ایک ایسا عارضہ ہے، جس کا علاج ادویہ اور مثبت رویّوں ہی سے ممکن ہے، لہٰذا مریض کا بَھر پور خیال رکھیں۔ یاد رکھیے، صحت بخش غذائیں، ورزش اور ادویہ کا بروقت استعمال علاج کی بنیادی کنجی ہے۔ (مضمون نگار،لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسٹری، کراچی میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف نیورولوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیز، پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے سینئر رکن بھی ہیں)