منشیات کے مقدمے میں گرفتار انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ریکارڈ کے مطابق متوفی کے پاس سے ملنے والے ڈبے پر ’’کوئین میڈم پنکی ڈان‘‘ درج تھا، جبکہ ملزمہ کے خلاف منشیات سے متعلق دیگر مقدمات بھی موجود ہیں۔
کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ ملک بھر میں پھیلے منشیات کے نیٹ ورک کو چلا رہی ہے اور اس نے متعدد رائیڈرز، سپلائرز، ڈیلرز، مینوفیکچررز اور منیجرز رکھے ہوئے ہیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق ایک شخص ملزمہ کے برانڈ کی منشیات استعمال کرنے کے باعث جاں بحق ہوا، جبکہ دورانِ تفتیش ملزمہ نے اہم معلومات بھی فراہم کیں، جن کی بنیاد پر مزید ملزمان کی گرفتاری متوقع ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کا جرم معاشرے اور عوام کے خلاف ہے، اس لیے مزید تفتیش ناگزیر ہے۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ ملزمہ اور متوفی شخص سے برآمد ہونے والے منشیات کے ڈبے کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
وکیل کے مطابق ملزمہ کو 22 روز قبل حراست میں لیا گیا تھا اور دورانِ حراست من پسند بیانات دلوانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
وکیلِ صفائی نے مزید کہا کہ ملزمہ کو اس کے سابق شوہر رانا ناصر نے علیحدگی کے تنازع پر مختلف مقدمات میں ملوث کروایا۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ مقدمات بذاتِ خود حتمی ثبوت نہیں تاہم ابتدائی طور پر انہیں تائیدی شہادت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں شامل دفعات سنگین نوعیت کی ہیں اور منصفانہ نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید تفتیش ضروری ہے۔
عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کرتے ہوئے حکم دیا کہ ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزمہ کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔