• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تازہ ترین اور پراعتماد لہجوں کے مطابق تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بائیس کروڑ عوام ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ پاکستان کی آبادی 66کروڑ ہے۔نہیں ہے تو ہوجائے گی۔ اور یہی ہے تمام مسائل کی جڑ۔میں کنوارہ تھا تو کم پیسوں میں بھی بڑا اچھا گزارہ کرلیتا تھا۔ مجھے یاد ہے1998 میں ایک معروف ڈائجسٹ میں بطور ایڈیٹر مجھے ساڑھے چار ہزار روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی اور میرے لیے ساری تنخواہ خرچ کرنا مسئلہ بن جاتا تھا۔کمرے کا کرایہ نکال کے بھی میری جیب بھری ہوتی تھی، انتہائی عیاشی کیا کرتا تھا مثلاً گامے کی دکان سے روز انہ ناشتے میں آلو والا پراٹھا کھانا‘ دوپہر کو تڑکا لگی دال ماش کھانا‘ شام کو بلاناغہ گول گپے کھانا‘ ربڑی والا دودھ پینا۔ موٹر سائیکل اگرچہ سیکنڈ ہینڈ تھی لیکن میں اتنا امیرتھا کہ ہرتیسرے دن اُس میں ایک لٹر پٹرول ڈلوایا کرتا تھا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ ’’ایک بھی بہت ہے‘‘۔ میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ کاش میری ساری تنخواہ ختم ہوجائے اور میں اُسی کیفیت میں چلا جائوں جب میری جیب خالی ہوتی تھی اور لاہور کی بھری ہوئی سڑکیں۔

مجھے یاد ہے ایک دن میں نے صبح دفتر جانے سے پہلے بٹوے میں پیسے دیکھے تو ایک سو روپے کا نوٹ باقی تھا۔میری خوشی کی انتہا نہ رہی‘ یعنی میں بالآخر اپنی تنخواہ ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا‘ میں نے تہیہ کرلیا کہ آج دفتر جانے سے پہلے ہی سوروپے کا یہ آخری نوٹ بھی ختم کردوں گا۔ سوچا تو یہی تھا کہ یہ کام آدھے گھنٹے میں ہوجائے گا لیکن میں جو کچھ بھی خریدتا‘ پیسے پھر بھی بچ جاتے۔ ایک برگر لیا‘ ایک لٹر پٹرول ڈلوایا‘ تازہ جوس پیا‘ قلفی کھائی‘ ایک ڈبی سگریٹ کی خریدی لیکن پھر بھی پندرہ بیس روپے بچ ہی گئے۔مجبوراً کچھ مالٹے خریدے اور حساب پورا ہوگیا۔ اب میری جیب خالی تھی اور دل تھا کہ خوشی سے بے قابو ہوا جارہا تھا‘ بالآخرمیں ’کنگال‘ ہوچکا تھا۔اب میں دوبارہ سے مفلسی انجوائے کرنے کے لیے تیار تھا۔ دفتر پہنچا تو ایک منحوس ترین خبر میری منتظر تھی۔ میز پر ایک لفافہ پڑا ہوا تھا، میں نے دھڑکتے دل سے کھولا اور اپنا سر پکڑ لیا… یکم تاریخ تھی اور تنخواہ آچکی تھی۔تب یکم تاریخ کو تنخواہ مل جایا کرتی تھی۔

اب ایسا نہیں ہوتا۔پہلے میں بھی سمجھتا تھا کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن مہنگائی کے ساتھ ساتھ میری آمدنی بھی تو بڑھ گئی ہے، پھر گزارا کیوں نہیں ہورہا؟ اصل وجہ یہ ہے کہ اب میں اکیلا نہیں ہوں‘ اب میرے پاس ایک کمرہ نہیں پورا گھر ہے، اب مجھے پورا گھر چلانا پڑتاہے۔پورے ملک کا یہی مسئلہ ہے۔آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی جگہ پر گھرختم کرکے وہاں کھیت بنا دیے گئے ہوں لیکن یہ ضرور سنا ہوگا کہ کھیت ختم کرکے ہائوسنگ سوسائٹی بنا دی گئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افراد بڑھتے گئے اور اشیائے ضروریہ کم ہوتی چلی گئیں۔گھر زیادہ اور گندم کم ہوگئی۔کم ہوئی تو طلب اور رسد کے قانون کے مطابق مہنگی بھی ہوگئی۔حبیب جالب کا واویلا ’بیس روپے کا من آٹا، اس پر بھی ہے سناٹا‘مذاق لگنے لگا۔یہ سب آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔روٹی ایک اور کھانے والے چار ہوں تو کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔بچے خدا کی نعمت ہوتے ہیں لیکن جب ان کی لائن لگتی ہے تو پھر اُسی وقت سمجھ آتی ہے جب مردم شماری ہوتی ہے اور بندہ خانہ شماری کرتے ہوئے عملے سے پوچھ رہا ہوتاہے کہ ’بھائی جان ! خانے ختم ہوگئے ہیں ‘ باقی نام فارم کی پچھلی سائیڈ پہ لکھ دوں؟‘‘۔

کاش مردم شماری کے ساتھ ساتھ ’گندم شماری‘ کھیت شماری اور روٹی شماری‘ کا بھی انتظام ہوتا۔ کچھ تو پتا چلتا کہ کتنی فصلیں پک چکیںاور کتنی ہم ’پھک‘ چکے۔یہ ہے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ۔آبادی کی رفتار بڑھنے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو میاں بیوی آپس میں ہمیشہ ناراض رہتے ہیں ان کے ہاں بھی ’’نعمت اور رحمت‘‘ کی آمد بلا تعطل جاری رہتی ہے۔ایک صاحب کی بیگم چھ ماہ سے روٹھ کر میکے گئی ہوئی تھیں‘ ایک دن پتا چلا کہ ان کا آنگن ایک بار پھر بھرنے والا ہے‘ سہیلیوں نے پوچھا کہ تم تو شوہر سے روٹھ کر میکے آئی ہو ئی ہو‘ پھر یہ کیسے؟ منہ بسور کر بولی’’ کمینہ کبھی کبھی معافی مانگنے آتا رہتا ہے‘‘۔ ایسی ہی معافیوں نے آبادی میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ پہلے کبھی ٹرین کے سفر کے دوران کھڑکی میں سے جابجا ایسے مقامات نظر آتے تھے جہاں بندہ نہ بندے کی ذات ہوتی تھی‘ اب ہر جگہ انسان ہی انسان نظر آتے ہیں۔

پچھلی مردم شماری کے مطابق ہم لگ بھگ بائیس کروڑ ہوچکے ہیں۔ لیکن مردم شماری کا نتیجہ کبھی سو فیصد ٹھیک نہیں ہوتا۔ وہ بچے جو تاریک راہوں میں پیدا ہوئے ان کا اندراج کس نے کیا؟ جن کی رہائش پائپوں اور سڑکوں پر ہے ان کا شمار کس نے کیا؟کاش ہم مردم شماری کے ساتھ ساتھ مردم شناسی کا ہنر بھی سیکھ سکیں‘ ہمیں پتا چل سکے کہ دوست کون ہے اور دشمن کون‘ کس نے پشت پہ خنجر گھونپنا ہے اور کون مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہوگا‘ کون ہماری ترقی پر خوش ہے اور کون اندر ہی اندر جھلس رہا ہے‘ کس نے ہمارے ساتھ رہنا ہے اور کون چھوڑ جائے گا‘ کون محض وعدے کرے گا اور کون اسے پورا بھی کرے گا؟ آبادی بائیس کروڑ عبور کر گئی ہے لیکن گھر اُتنا ہی ہے اور مکینوں کی تعداد دھڑا دھڑ بڑھتی چلی جارہی ہے۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی چھوٹے گھرمیں رہنے والے زیادہ ہوجائیں تو ڈرائنگ روم اور اسٹور میں بھی چارپائیاں لگ جاتی ہیں بلکہ پیٹی کے اوپر بھی بستر بچھا کر بیڈ بنا لیا جاتاہے۔…اب اگر ہم بائیس کروڑ کا عدد بھی پھلانگ چکے ہیں تو تشویش کی بات ہے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ پورا ملک ڈبل اسٹوری بنانا پڑجائے۔

تازہ ترین