آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍ صفرالمظفّر1441ھ 17؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
لاہور کے وائی ایم سی اے ہال میں جلسہ تھا۔ لاہور کے شہری جانتے ہیں ، وائی ایم سی اے اور بریڈ لا ہال میں جلسے نہیں ہوتے تھے ۔یہاں سوچنے سمجھنے والے شہریوں کا اجلاس ہوتا تھا۔ چلئے آپ کو ایک تصویر دکھاتے ہیں۔ خاکسار ہال میں داخل ہوا تو حفیظ کاردار عقبی نشستوں پر رونق افروز تھے۔ میں نے ادب سے جھک کر کہا، جناب، نوازش ہو گی اگر آپ اگلی نشستوں پر تشریف لے آئیں۔ مسکرائے… حفیظ کاردار مسکراتے تھے تو معلوم ہوتا تھا اپالو کے مجسمے میں جان پڑ گئی ہے۔ میں یہیں پہ ٹھیک ہوں۔ تو بھائی، وائی ایم سی اے ہال میں جلسہ تھا اور حسن ناصر کی برسی تھی۔ حکم ملا کہ پاک ٹی ہاؤس سے حبیب جالب کو لے آؤ۔ حبیب جالب… مولانا! وہ شخص تو جیتا جاگتا جوالا مکھی تھا۔ مجھ سے منوایا کہ حسن ناصر ایوب آمریت سے لڑا تھا نیز یہ کہ بھٹو صاحب ایوب خان کے وزیر تھے… اب یہ ایسا کون سا تاریخی اختلاف کا ہنگام تھا، سامنے کی بات تھی مگر یہ کہ حبیب جالب تھے اور اڑ گئے تھے۔ عرض کیاکہ حضور آپ نے درست فرمایا ۔ اب پدھارئیے۔ لوگ باگ آپ کی راہ دیکھتے ہیں۔ جھومتے لہراتے آئے، نظم پڑھی۔ باری علیگ کے جوتوں کی خاک گواہی دیتی ہے کہ یہ ترنم نہیں تھا۔ درد کو نیزے کی انی پہ رکھ دیا تھا۔ نوک سی چبھ گئی تھی چھالے میں… حبیب جالب نے ہمیں جمہوریت کی تعلیم دی۔ ہم نالائق شاگرد ہوسکتے

ہیں، ہم استاد کے احترام سے خالی نہیں ہیں۔
یہ 1988ء تھا۔ پیپلزپارٹی گیارہ برس آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتخاب جیتی تھی۔ ہمارے حوصلے بہت اونچے تھے۔ مجھ سے گفتگو میں کچھ بے احتیاطی ہو گئی۔ حسین نقی بہت ناراض ہوئے۔ اتنے ناراض کہ اپنا پائپ راسٹرم ہی پر بھول گئے۔ معلوم نہیں کس نے حکم دیا کہ ویو پوائنٹ کے دفتر میں نقی صاحب کا پائپ انہیں پہنچا آؤ۔ سبحان اللہ ، ویو پوائنٹ کا دفتر، دلی کے نہ تھے کوچے، اوراق مصور تھے۔ مظہر علی خان، شفقت تنویر مرزا، ایلس فیض اور ظفر یاب احمد… عمارت کے طرز تعمیر میں گورا صاحب بہادر کی جھلک نمایاں تھی۔ کشادہ قطعہ اراضی پر دبیز دیواروں کی ایک منزلہ تعمیر۔ داہنے ہاتھ کے کمرے میں خاصی پرانی کرسی پر حسین نقی اجلاس کرتے تھے۔ پائپ حاضر کیا، بے اعتنائی سے رکھ لیا۔ تم تنویر جہاں کے دوست ہو۔ وہ تو سمجھ دار خاتون ہے، تم نہایت احمق ہو۔ عرض و معروض کا موقع نہیں تھا، گردن ڈال دی۔
اساتذہ کا ذکر چلا تو ایک تصویر اور ملاحظہ فرمائیں۔ پروفیسر رشید احمد خاں صاحب ہمیں گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ سچ پوچھئے تو ہماری کیا بساط تھی کہ علم کے اس سرچشمے سے کماحقہ فیضیاب ہوتے۔ آر اے خاں صاحب سے استفادہ ہماری تہذیب نفس کی ایک مسلسل مشق تھا۔ خاں صاحب بمبئی کی مٹی تھے۔ 1948ء میں لاہور پہنچے اور گورنمنٹ کالج کی مٹی نے انہیں پکڑ لیا۔ بلند قامت، میخ کی طرح سیدھے، اکل کھرے اور انگریزی لب و لہجہ ایسا کاٹ دار گویا ایک وائسرائے مقامی لوگوں سے خطاب کرتا تھا۔ قاعدے ضابطے کے سخت پابند۔ اس درشت نقاب کی اوٹ میں ایک نرم خو اور مہربان استاد پایا جاتا تھا۔ پنجاب کے اس دیہاتی طالب علم سے ایسی شفقت برتی کہ احسان کا ذکر بھی سوئے ادب کے زمرے میں شمار ہونے کا اندیشہ ہے۔ خاں صاحب ہمیں مہذب انسان بنانے کی جستجو میں تھے۔ اب لاہور کا یہ گوشہ نشین درویش ہماری ناکردہ کاری پر نظر کر کے شاید علی افتخار جعفری کے لفظوں میں کہتا ہو گا… یاں تو آواز لگانا مرا بے کار گیا۔ ایسی ہی کسی کیفیت میں ایران کے ملک الشعرأ طہری نے کہا تھا ”من ایں معاملہ را کردم و زیاں کردم“۔ خان صاحب جی الانہ کی پر شکوہ انگریزی میں محمد علی جناح سے متعارف کراتے یا ونسٹن چرچل کی خطابت کے رموز سمجھاتے، علم کا ایک دریا تھا کہ بہتا چلا آتا تھا۔ تاریخ، معاشرت، فلسفہ اور نفسیات کے حوالے ترشے ترشائے زاویوں کی طرح ایک قدآدم تصویر میں نصب ہو جاتے تھے۔خان صاحب نے ہمارے لئے ارفع اقدار کا ایک دریچہ کھول دیا، زندگی کرنے کا طور سکھایا۔ شاید دفتری کاغذوں میں کہیں لکھا ہو گا کہ وہ ہمیں انگریزی ادب پڑھاتے ہیں۔ ان کا مقصود ہمیں متمدن انسان اور ذمہ دار شہری بنانا تھا۔ یہ گستاخی کبھی ہمارے حیطہٴ خیال سے نہیں گزری کہ خاں صاحب انگریزی ادب کی آڑ میں ہمیں سیاست کا درس دیتے تھے۔ ایک اچھا استاد ریاضی کا درس دے یا جغرافیہ پڑھائے، دراصل تمدنی شعور بیدار کرتا ہے۔
اس شہر میں تعلیم کی روشنی پھیلانے والی خواتین اساتذہ کی روایت بھی ایک ایسا چراغ ہے جسے اندھیروں کی طرف اپنے سفر میں ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ میرا فیلبوس نے کئی عشروں تک نوجوان لڑکیوں کی نسلوں کو تہذیب سے آشنا کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک طلبا تنظیم کی غنڈہ گردی سے ایسا بجوگ پڑا کہ ”کوّا اندھیری رات میں شب بھر اڑا کیا“۔ اساتذہ پر خوف طاری رہتا تھا اور طالب علم ایسے کبوتر کی طرح درس گاہ میں آتے تھے جس کے پر نوچ لئے جائیں۔ اس تاتاری یلغار کی رستاخیز میں ڈاکٹر غزالہ عرفان فلسفے جیسے ادق مضمون کو موسیقی کی چاشنی سے وسعت بخشتی رہیں۔ اطلاقی نفسیات میں ڈاکٹر سیمیں عالم زندگی کی حقیقتیں بیان کرتی رہیں۔ انگریزی زبان و ادب کا شعبہ ایسی چمگاڈر طبیعتوں کا خصوصی ہدف تھا جنہیں اپنی اڑان کیلئے اندھیروں میں وسعت کی خواہش تھی۔ بڑے بڑے جغادری دانشوروں نے اس فسطائیت کے سامنے سپر ڈال دی مگر دھان پان سی شائستہ سونو نے شائستگی کا پرچم جھکنے نہیں دیا۔ جدید انگریزی شاعری اور ڈرامہ ہی نہیں پڑھاتی تھیں، سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ بھی سکھاتی تھیں۔ اسی روایت کے تسلسل میں نسرین شاہ کا نام آتا ہے۔ چار عشروں سے ننھے دماغوں میں روشنی کر رہی ہیں۔ پاکستان میں چند اسکول ہی ایسے ہوں گے جہاں تعلیم پانے والے بچے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر دنیا بھر میں اپنے ہم عمر بچوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور شاید سبقت بھی لے جائیں۔ پچھلی صدی کا آخری برس تھا اور ہماری بچی کا اسکول میں پہلا دن۔ نسرین شاہ والدین سے ملاقات کر رہی تھیں۔ سوال کیا کہ اپنی بچی کو کیا بنانا چاہتے ہیں۔ عرض کیا۔ اسے اچھی پاکستانی شہری بننا چاہئے۔ بہت رسان سے فرمایا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ بچے زندگی سے محبت کرنا سیکھیں۔ چھوٹے سے جملے میں کس قدر بصیرت بھر دی تھی۔ یہی نسرین شاہ ان دنوں ملامتوں کی زد میں ہیں۔ تقصیر یہ کہ ساتویں درجے کی بچیوں کو اسکول میں مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرایا جا رہا ہے۔ مختلف مذاہب کی چھوٹی چھوٹی خوبیوں اور رسم و رواج سے بچوں کو آشنا کیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ کہ بچوں کے ذہن کا غرفہ کھلے۔ وہ بسم اللہ کے گنبد سے نکلیں اور یہ سمجھیں کہ اس بڑی دنیا میں بہت سی رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ اچھے انسانوں کا منصب مختلف گروہوں کے درمیان فساد کی جڑیں تلاش کرنا نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ رشتوں کو سمجھنا ہوتا ہے۔ اس سے رواداری پیدا ہوتی ہے۔ بس اتنی سی خطا پر کچھ بچیوں کے والدین بھڑک اٹھے اور طرہ یہ کہ ایک محترم صحافی نے ٹیلی ویژن پر پروگرام بھی کر ڈالا جس میں دیکھنے والوں کی ذہنی تعلیم کا بندوبست کم اور اشتعال انگیزی کا زیادہ اہتمام کیا گیا۔ لاہور شہر میں علم، ادب اور ثقافت کی روایت بہت مضبوط ہے۔ اس دھرتی نے انیسویں صدی میں محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا تھا۔ چنانچہ کچھ برس بعد یہاں اقبال پیدا ہوئے۔ اساتذہ کا احترام لاہور کی اساسی روایت ہے۔ اس تہذیب کو کوتاہ فکری کی نذر ہونے سے بچنا ہے تو اقبال ہی سے درس لینا پڑے گا۔
خبر نہیں کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی و ملّا کی ناخوش اندیشی

ادارتی صفحہ سے مزید