• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دسمبر 2020ءمیں عالمی ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ برائے پولیو کے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر پاکستان کووڈ 19سے نمٹ سکتا ہے تو پولیو کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ تاہم اس ضمن میں تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ خیبر پختون خوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں رواں سال کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تینوں کیس عملاً صرف ایک ماہ کی مدت میں سامنے آئے ہیں۔ قبل ازیں پہلا کیس 22اور دوسرا 29اپریل کو رجسٹرڈ ہوا تھا۔ صورتحال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی ادارے ماضی میں ایسے ممالک کے سفر پر پابندیاں عائد کرتے آئے ہیں۔ اس سال فروری میں عالمی ادارہ صحت نے گذشتہ 13 مہینوں کے دوران ملک میں پولیو کا کوئی کیس درج نہ ہونے پر پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی تھی۔ انہی دنوں اس بیماری کے خلاف عالمی سطح پر کام کرنے والے بل گیٹس اسلام آباد آئے تھے اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پولیو کے خلاف پاکستان کی کامیابی پر مبارکباد دی تھی تاہم حالیہ دنوں میں نئے کیس سامنے آنے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متذکرہ علاقوں میں بیماری سے بچاؤ کی خوراکوں کی فراہمی میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ پولیو ایک متعدی مرض ہے اور اس کا وائرس عام طور پر ایک سے دوسرے بچے میں منتقل ہوتا ہے جو جسم میں آنتوں کو مسکن بناکر اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا اور معذوری کا باعث بنتا ہے۔ یہ مرض عموماً پیدائش سے پانچ برس تک کی عمر تک لاحق ہوتا ہے۔ متعلقہ اداروں کو اس خطرناک مرض کے پھیلاؤ کو جلد از جلدروکنے کی خاطر قومی سطح پر بلاتاخیر آگہی فراہم کرنے کی بھرپور مہم شروع کرنی چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین