• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری پر میڈیا چیخ اُٹھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے گرفتاری کا نوٹس لیا اور ہدایت جاری کی کہ ڈاکٹر صاحبہ کو فوری رہا کیا جائے۔

 رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر مزاری جن کو، گرفتار کر کے ڈیرہ غازی خان لے جایا جا رہا تھا ،جہاں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے اُن کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی ہوئی تھی، کو وزیر اعلیٰ کی ہدایت ملنے پر راستے سے ہی واپس اسلام آباد کی طرف روانہ کر دیا گیا۔

اسی دوران ڈاکٹر صاحبہ کی صاحبزادی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ہفتہ کے روز آفس ٹائم کے بعد گھر سے ہی حکم جاری کیا کہ رات ساڑھے گیارہ بجے ڈاکٹر صاحبہ کو چیف جسٹس صاحب کی عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس کیس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سب کو طلب کرلیا گیا۔

رات ساڑھے بجے عدالت لگ گئی ، جن کو طلب کیا گیا وہ سب بھی وہاں پہنچ گئے، ڈاکٹر صاحبہ بھی وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالت پہنچ گئیں اور تقریباً کوئی رات بارہ بجے ڈاکٹر شیریں مزاری کو رہائی مل گئی اور ساتھ ہی ساتھ جوڈیشل انکوائری کا بھی حکم دے دیا گیا تاکہ دیکھا جائے کہ کن حالات میں، کس قانون کے تحت اور کس بنیاد پر تحریک انصاف کی خاتون رہنما کو گرفتار کیا گیا۔

یہ میڈیا، تحریک انصاف اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے لیے بڑی کامیابی تھی لیکن یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا جو انصاف ڈاکٹر صاحبہ کو ملا، جس طرح میڈیا نے اُن کی گرفتاری پر شور مچایا، جیسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس پر نوٹس لیا اور کہا کہ عورتوں کے ساتھ ایسا رویہ ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے اور پھر جیسے رات بارہ بجے عدالت کھلی اور ڈاکٹر صاحبہ کو رہائی ملی، کیا یہ انصاف پاکستان کی عام عورت کو حاصل ہے؟ نجانے کتنی عورتوں کو روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے سچے کیسوں میں گرفتار کیا جاتا ہے، اُن کے لیے کتنی بار میڈیا نے اس طرح اُ ن کی رہائی تک ایک منٹ کے لیے بھی خاموشی اختیار نہیں کی، کتنی بار وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نے اُن کی گرفتاری پر نوٹس لیا، کتنی بار اس ملک کی عدالتیں رات گئے اُن کے لیے کھلیں۔

 کوئی ایک واقعہ تو بتا دیں؟ڈاکٹر صاحبہ کی گرفتاری تو خواتین پولیس اہلکاروں نے کی، یہاں تو عورتوں کو مرد پولیس والے مارتے اور گھسیٹے ہوئے تھانوں میں لے جاتے ہیں، اُنہیں ذلیل کیا جاتا ہے۔ نجانے کتنی بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات پر یا جھوٹے جرائم پر عورتیں اور بچے جیلوں میں کتنے عرصہ سے پڑے ہیں۔

میڈیا، وزیر اعلیٰ پنجاب اورعدالت کو مبارک کہ شیریں مزاری کو انصاف ملا لیکن کاش کسی عام عورت، کسی غریب عورت کے لیے بھی فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ایسے ہی میڈیا تڑپ اٹھے، ایسے ہی وزیراعلیٰ رہائی کے احکامات جاری کریں اور ایسے ہی عدالتیں اپنے مقررہ وقت کے بعد آدھی رات کو مقدمہ سنیں اور رہائی کا حکم سنائیں۔

اس کیس میں تاثر یہ ملا کہ یہاں بڑوں کے لیے قانون و انصاف اور ہے جبکہ عام لوگوں اور غریب کے لیے اور ہے ۔ مجھے باقیوں سے تو کوئی امید نہیں لیکن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب سے یہ مطالبہ ضرور کروں گا کہ وہ ایک ایسا نظام وضع کریں اور اُس کی خوب تشہیر کریں جس کے ذریعے اُن کے عدالت اور اُن کی زیر نگران تمام عدالتیں اور اُن کے جج حضرات کسی عام اور غریب کے ساتھ ناانصافی کے کیس یا شکایت کو اسی انداز میں سنیں جیسے ڈاکٹر شیریں مزاری کے کیس میں اُنہوں نے سنا اور فیصلہ سنایا۔

ایسا نظام بنائیں کہ ٹی وی چینلز اور میڈیا کسی کی آواز نہ بھی بنے تو شکایت کنندہ یا مظلوم کی درخواست اُن تک فوری پہنچ سکے۔

 میں رات بارہ بجے عام اور غریب کے لیے بھی عدالتوں کو کھلتے اور انصاف فراہم ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری وزیر اعظم شہباز شریف، تمام وزرائے اعلی خصوصاً حمزہ شہباز اور عدلیہ سے بھی یہ درخواست ہے کہ کم از کم فوری طور پاکستان بھر کی جیلوں میں موجود خواتین، بچوں اور دوسرے ایسے قیدیوں کی فوری رہائی کا حکم دیں جو جھوٹے اور مشکوک مقدمات میں نجانے کتنے عرصہ سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین