• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’اہم عالمی شخصیت کی موت، 7 ماہ کی عظیم جنگ‘، نوسٹرڈیمس کی 2026ء کیلئے ہوش ربا پیشگوئیاں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

جیسے ہی سال 2026ء کا آغاز ہوا ہے، مشہور فرانسیسی نجومی نوسٹرڈیمس کی مشہور پیش گوئیاں ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ 

نوسٹرڈیمس کا اصل نام مشیل ڈی نوسترڈم تھا، وہ 16ویں صدی کے ایک معالج اور نجومی تھے۔

اِن کی کتاب ’دی لیز پروفیسیز‘ 1555 میں شائع ہوئی جس میں 942 منظوم اشعار (کوآٹرینز) شامل ہیں۔ 

ان تحریروں میں کسی سال کا واضح ذکر نہیں مگر سازشی نظریات رکھنے والے افراد انہیں جدید واقعات سے جوڑتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نوسٹرڈیمس کی بیشتر پیش گوئیاں مبہم اور غیر واضح رہی ہیں تاہم ان کے ماننے والے ہر نئے سال میں ان تحریروں کو موجودہ حالات سے جوڑتے ہیں۔

نوسٹرڈیمس کی 2026 سے منسوب اہم پیش گوئیاں:

اہم عالمی شخصیت کی موت

نوسٹرڈیمس کے ایک شعر میں کہا گیا ہے کہ ’ایک عظیم آدمی دن کے وقت بجلی کی مانند گر پڑے گا،‘ اس کی تشریح کسی مشہور سیاسی یا عالمی شخصیت کے قتل یا اقتدار کے خاتمے کے طور پر کی جا رہی ہے۔

خونریزی کا انتباہ

ایک اور شعر میں سوئٹزرلینڈ کے اطالوی زبان بولنے والے علاقے ٹیسینو میں خون بہنے کی بات کی گئی ہے۔ 

اس پیشگوئی کو یورپ میں کسی نئے تنازع یا سیاسی کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔

بائبل کی مکھیاں (Biblical Bees)

’شہد کی مکھیوں کے عظیم جھنڈ‘ سے متعلق پیش گوئی نے سوشل میڈیا پر الجھن پیدا کی ہوئی ہے۔ 

بعض تشریحات کے مطابق اس سے مراد حشرات نہیں بلکہ سخت گیر یا آمرانہ سیاسی قوتیں ہو سکتی ہیں۔

سات ماہ کی عظیم جنگ

ایک مشہور شعر میں سات ماہ تک جاری رہنے والی ایک بڑی جنگ کا ذکر ہے جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 

بعض افراد اسے عالمی سطح کے تنازع سے جوڑ رہے ہیں۔

بحری جنگ کا امکان

نوسٹراڈیمس کے ایک اور شعر میں سات بحری جہازوں کے گرد مہلک جنگ کا ذکر ملتا ہے۔ 

اس کی تشریح جنوبی بحیرۂ چین میں ممکنہ بحری تصادم کے طور پر کی جا رہی ہے جس میں چین اور خطے کے دیگر ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ماہرین کا دعویٰ ہے کہ نوسٹراڈیمس کی تحریریں علامتی اور مبہم ہیں جنہیں ہر دور میں مختلف انداز سے بیان کیا جاتا رہا ہے تاہم ان پیشگوئیوں نے ایک بار پھر دنیا بھر میں تجسس اور خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید