• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران پشاور میں، 150 مسلح کارکن بنی گالہ میں ہیں، پولیس

پولیس کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پشاور میں موجود ہیں، جبکہ 100 سے ڈیڑھ سو مسلح کارکن بنی گالہ میں موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق بنی گالہ میں موجود کارکنان عمران خان کی حفاظت کے لئے 1 ہفتہ قبل ڈی آئی خان سے آئے تھے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں جمع کرائی گئی آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ میں عمران خان کو سیکیورٹی تھریٹ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔

عمران خان کو سیکیورٹی تھریٹ کے تین لیٹر آئی جی رپورٹ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس میں اس بات کا عزم کیا گیا کہ ہر غیر قانونی کام کا راستہ روکا جائے گا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء نے اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہیں روکا جائے گا، یہ لوگ اسلام آباد آ کر افراتفری پھیلائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ لوگ گالیوں سے گولیوں پر آ گئے ہیں، لانگ مارچ کے نام پر فتنہ مارچ کیا جا رہا ہے، لانگ مارچ کے نام پر قوم کو تقسیم کیا جا رہا ہے، اس فتنے اور فساد کو روکنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا تھا کہ ہرحال میں اسلام آباد کے لیے نکلیں گے، کابینہ کا ہمیں روکنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ جب یہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو انہیں جمہوریت یاد آ جاتی ہے، اس حکومت اور فوجی آمروں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں، فاشسٹ حکومت کی تاریخ ہمیں معلوم ہے، یہ وہی حربے استعمال کرتے ہیں جو آمر کرتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید