• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

انسان کے بغیر اُڑنے والے ہیلی کاپٹر، ہائپر سونک ہوائی جہاز تیار

انسان ہمیشہ سے خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہا ہے ۔ دورِ حاضر میں ہم نئی نئی ٹیکنالوجیوں سے روشناس ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نئی اور اچھوتی دریافتیں انسانی زندگی کو آسان بنا نے کے لئے ایجاد کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

وہیل چیئر برقی کرسی میں تبدیل

اب وہیل چیئر کو عارضی وقت کے لیے برقی چیئر میں تبدیل کرنے کی آسان تکنیک آگئی ہے۔ اس حوالے سے جاپان نے ایک انوکھی ڈیوائس تیار کی ہے۔ یہ ڈیوائس وہیل چیئر کے پہیوں میں چڑھا دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں برقی ڈرائیور بھی ہوتی ہے۔ اس کا کنٹرول وہیل چیئر پر بیٹھے فرد کی کمر پر بندھے ایک Bridgeمیں نصب کیا جاتا ہے۔ اس میں لگے ہر مرکزمیں 24وولٹ کی موٹر طاقت کی حامل لیتھیم آئن بیٹریاں نصب کی گئی ہیں۔ اس سے وہیل چیئر کو 20km.h کی رفتار اور30کلومیٹر فاصلے کی طاقت مل جاتی ہے۔ 

وہیل چیئر استعمال کرنے والا فرد اپنی مطلوبہ سمت میں خود کو ہلکا سا جھکاتا ہے تو وہیل چیئر اسی سمت چلنا شروع کردیتی ہے۔ یہ کام وہیل چیئر میں نصب فورس سینسنگ میکزم کی وجہ سے انجام پاتا ہے جو کہ دائروی رفتار Rotational Speed کو گاڑی کی رفتار (Speed) میں تبدیل کردیتا ہے۔پہلی مثالی وہیل چیئر جاپانی ادارے WHILLنے تیار کی ہے اور ابھی یہ ابتدائی جائزے کے مرحلے میں ہے، جس کے بعد اس کو مارکیٹ میں پیش کردیا جائے گا۔

انسان کے بغیر اُڑنے والے ہیلی کاپٹر

چند سال قبل افغانستان میں بغیر انسان کے چلنے والے کارگو لے جانے والے ہیلی کاپٹر نے پہلی پرواز کی۔ یہ جہاز 72ٹن سامان (کارگو) لے جاسکتے ہیں۔ اس طرح سامان کی ترسیل کے لیے ٹرک کے بجائے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا جاتاہے۔یہ ہیلی کا پٹر Kaman- KMAX ، Lockheed Martin اور Kaman Aerospace کی مشترکہ کاوش ہے۔

ان ہیلی کاپٹر کے پرواز کے راستے کو ایک مرکزی اڈے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان کو اگلے موجوں میں موجود فوجیوں کو جنگی کمک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ جنگی مشن پر زیادہ تر رات کے وقت بھیجے جائیں گے۔

انسانی جسم کے اعضاء کا بطور ٹرانسسٹر استعمال

تل ابیب یونیورسٹی (TAU) کے محققین خون، دودھ اور Mucus پروٹین کو ٹرانسسٹر میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ ایجاد حیاتیاتی انحطاط پذیر اور لچکدار برقی آلہ جات کی تیاری کے لیے وسیع بنیاد فراہم کرے گی۔ دودھ، میوکس اور خون کے پروٹین کے مختلف بلاک کو استعمال کرتے ہوئے محققین کی ٹیم نے دریافت کیا ہےکہ نینو اسکیل پر نیم موصل Semi Conducting فلم تیار کرنا ممکن ہے۔ 

ان فلمز کی مدد سے مکمل الیکٹرونک فلم بنائی جاسکتی ہے جو کہ کارآمد برقی اور بصری Opticalخوبیوں کی حامل ہوں گی۔ ان پروٹین کی مختلف خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے مختلف موصلیت Conductivity اور Memory Star Age اور Flourescenceکے حامل ٹرانسسٹرز بنائے جاسکتے ہیں۔ 

اس وقت استعمال کیے جانے والے سیلیکون ٹرانسسٹرز میں خرابی یہ ہے کہ وہ مڑنے پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ پروٹین پر بنی ٹرانسسٹر انتہائی لچکدار ہیں اور ان کو ٹی وی ڈسپلے، موبائل فون، ٹیبلٹ یا بائیو سینسرز اور مائیکرو چپس میں آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مواد حیاتیاتی طور پر انحطاط پذیر ہے۔ لہٰذا ان سے برقی کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ بھی درپیش نہیں ہوگا۔

ہائپر سونک ہوائی جہاز

امریکی حکومت، ڈیفنس ایڈوانس ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی (DARPA) کے ذریعے نئی ملٹری ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اسی پروگرام کے تحت ہائپر سونک ائیر کرافٹ (جس کا نام فیلکن HTV رکھا گیا ہے) تیار کیا جارہا ہے، اس جہاز کی تیاری کے بعد امریکا کو پوری دنیا پرمزید ایک صدی کے لیے برتری حاصل ہوجائے گی۔ یہ جہاز اس قدر تیز رفتار ہیں کہ محض ایک گھنٹے کے اندر کرۂ ارض پر موجود کسی بھی مقام تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ محض دو گھنٹے میں دنیا کا چکر مکمل کرلیں گے۔

یہ جہاز فضا میں پرواز کرتے ہوئے3500گری فارن ہائیٹ کے سطحی درجۂ حرارت کی وجہ سے انتہائی گرم ہوکر سرخ ہوجاتا ہے۔ اس جہاز کی پہلی پرواز 2010 ء میں عمل میں آئی تھی، مگر9فیٹ کا سفر طے کرنے کے بعد یہ جہاز کریش ہوگیا۔ بعدازاں اس کی ترمیم شدہ شکل HTV-2 تیار کی گئی۔ اس کے ساتھ بھی پہلے جہاز والا حادثہ پیش آیا اور یہ 128منٹ پرواز کرکے بحرالکاہل کے اوپر تباہ ہوگیا۔ پرواز کے دوران حاصل کی جانے والی معلومات کی مدد سے انجینئرز اس جہاز میں تبدیلی کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر یہ اپنی تیسری پرواز میں کامیاب ہوگیا تو ہوائی جنگوں میں ایک نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔

ہتھیاروں کا نیا نظام تیار کرلیا

امریکی فوج ہتھیاروں کا ایک نیا نظام تیار کر رہی ہے، جس کی مدد سے زمین پر کسی بھی جگہ سے ایک گھنٹے کے اندر دنیا میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، اس کی درستی روایتی ہتھیاروں کے مساوی ہوگی (بین الا براعظمی میزائل کی طرح (ICBM) جس میں نیوکلیئر وارہیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے)۔ اس حوالے سے حال ہی میں Advance Hypersonic Weaponکا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار Conventional Prompt Global Strike (CPGS) پروگرام کا حصہ ہیں۔

کافی سے کپڑے گرم کریں

کیلی فور نیا کی کپڑاتیار کرنے والی کمپنی نے ایسا کپڑا بنا یا ہے جن کوکا فی پائوڈر سے تیار کیا گیا ہے ۔کمپنی کی مصنوعات میں’’stay warm‘‘کے تحت بنائے جانے والے کپڑوں میں یہ کارنامہ انجام دیا گیا ہے ۔یہ کپڑا سارا دن آپ کو گرم رکھے گا۔ یہ کافی کے چارکول سے بنایا گیا ہے، یہ ایک ری سائیکل مواد ہے، جس کو آرام دہ بنیادی کپڑے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ یہ سطح کے درجۂ حرارت کو 10 oF تک بڑھا دیتا ہے (جلد اور کپڑے کے درمیان موجودحرارت کو قید کرکے) یہ کپڑا جسم کو UV شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

شمسی توانائی سے کپڑے دھوئیں

اس جدید دور میں ماہرین ایسے کام ممکن بنا رہے ہیں جن کے بارے میں پہلے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ لیکن سائنس کی حیرت انگیز دنیا میں ایسی کام ممکن ہو گئی ہیں۔ شنگھائی چین کی Jiao Tong Universityکے Deyong Wu اور Mingce Long نے دریافت کیا ہے کہ اگر کپڑوں کوٹیٹینئیم ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن مرکب سے گزارا جائے تو وہ صرف سورج کی روشنی میں لٹکانے سے ہی صاف ہوجائیں گے۔ ان Treated کپڑوں پر لگنے والی گرد مٹی سورج کی روشنی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر جادوئی انداز میں غائب ہوجائے گی اور اس میں موجود جراثیم ہلاک ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ مٹی کے دھبے بھی غائب ہوجائیں گے۔ 

سورج کی روشنی سے دھبوں کو صاف کرنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر اس میں سلور (چاندی) اور آیئوڈین نینو ذرّات کا اضافہ کردیا جائے۔ یہ تہہ بعد ازاں کپڑے دھونے اور خشک کرنے کے باوجود موثر رہے گا۔آسڑیلیا، وکٹوریہ کی موناس یونی ورسٹی کے محققین کی ٹیم پہلی ہے، جس نے 2009ء میں یہ دریافت کیا تھا کہ اگر کپڑوں پر ٹیٹینم ڈائی آکسائڈ کے نینو کرسٹل کی تہہ چڑھا دی جائے تو وہ سورج کی روشنی کی موجودگی میں غذااور مٹی کے ذرّات کو توڑ سکتے ہیں۔ 

روشنی سے فعال ہوکر خودکار صفائی کا کام انجام دینے والے کپڑے اس سے قبل بنائے جاچکے تھے، مگر ان کے لیے بالائے بنفشی شعاعوں کی طاقت اور خوراک کی ضرورت تھی جب کہ چین کی تیار کردہ تہہ جس میں نائٹروجنی مرکب کو شامل کیا گیا ہے قدرتی روشنی میں بھی کام کرسکتی ہے۔ ٹیٹنیم ڈائی آکسائیڈعام پایا جانے والا مواد ہے جو کہ ٹوتھ پیسٹ، رنگوں اور سن اسکرین میں استعمال کیا جاتا ہے یہ بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) روشنی اور پانی کے بخارات کی موجودگی میں طاقت ور Photo Catalyst کا کام کرتا ہے۔

یہ ہائیڈرو آکسائل ریڈیکل پیدا کرتا ہے جو کہ عمل تکسید کے ذریعے نامیاتی مواد کو تحلیل کر سکتے ہیں۔ ٹیٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو شیشے پر تہہ چڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ تہہ 10نینو میٹر پتلی ہوتی ہے۔ اس دریافت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود صاف ہونے والی کھڑکیاں تیار کی گئی ہیں۔

یوایس بی کی مدد سے چلنے والی قلم سے پانی کی صفائی 

آپ ایک چھوٹے ری چارج ہونے کے قابل UV Water Purifier کی مدد سے نصف لیٹر پانی کو صاف کرسکتے ہیں۔ یہ جراثیم کش قلم جس کی شکل USB ڈیوائس جیسی ہوتی ہے۔ UVلائٹ خارج کرتی ہے جوکہ پانی میں موجود 99.9فی صد بیکٹیریا کو ہلاک کردیتی ہے ۔اس قلم کو steri pen freedom کا نام دیا گیا ہے ۔یہ یو ایس بی پورٹ سے آسانی سے چارج ہو سکتا ہے۔

یا پھر AC outlet سے یا شمسی چارجر سے، ایک دفعہ چارج کرنے کے بعد اس قلم کو 48دفعہ پانی کو صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس آلہ کی قیمت 120ڈالر مقرر کی گئی ہے اور اس کی بیٹری اور UV لیمپ8000دفعہ استعمال کے قابل ہے۔ اس کے پانی میں ڈبونے کے بعد سبز رنگ کی روشنی سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ پانی اب پینے کے قابل ہے۔ اس قلم کو تیار کرنے والا ادارہ Steri PEN یہ آلہ مسافروں کو فروخت کرے گا جو دنیا میں ایسے مقامات پر سفر کرتے ہیں جہاں کا پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوتا ہے۔

فٹ پاتھ پر وائی فائی ہاٹ اسپاٹ

انٹر نیٹ کی سہولت اب ایک ضرورت بنتی جارہی ہے ۔ اب اکثر ہوٹلوں میں وائی فائی کی سہولت موجود ہوتی ہے ، اس کا مقصد ان کے بزنس میں اضافہ کرنا ہے۔ اب اس میدان میں مزید ترپیش رفت کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر WiFi hotspot نصب کیا جارہا ہے، تاکہ وہاں سے گذرنے والے مسافروں کو بھی یہ سہولت میسرآسکے۔ ہسپانوی کمپنی نے اس حوالے سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے فٹ پاتھ کے پتھروں کو WiFi hotspot میں تبدیل کردیا ہے۔ ہر پتھر میں 5GB کا مائیکرو پروسیسر نصب کیا گیا ہے جو کہ بلیو ٹوتھ اور وائی فائی کے ذریعے موبائل ڈیوائس کے ساتھ رابطہ قائم کر لیں گے۔

ان پتھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے100واٹ کے تار فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ چل رہے ہوں گے۔ فٹ پاتھ سے انٹرنیٹ کی بلا تعطیل فراہمی کے لیے ہر 20میٹر کے فاصلے پراس طرح کا پتھر نصب کیا جائے گا۔ iPavement مختلف Cloud based apps بھی فراہم کریں گے، جس میں ڈیجیٹل لائبریری، مقامی سپر اسٹورز، ریسٹورنٹ، اسپتال اور اسکولوں کی نشاندہی کرنے والے نقشے، قریبی سڑکوں اور جگہوں میں ہونے والے تعمیراتی کام اور دیگر حوالے سے فوری اطلاعات اس کے علاوہ تفریح کے لیے موسیقی کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ سروس کئی زبانوں میں پیش کی جائے گی اور اس کو مختلف بروزرزکے ذریعے چلایا جا سکے گا۔

دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر

جاپانی ٹیکنالوجی کمپنیFujitsuنے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر متعارف کروایا ہے۔ اس کمپیوٹر کا نام Fujitsu kرکھا گیا ہے۔ یہ کمپنی معیاری لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، سرورز ، کمپیوٹر اوردیگر سامان تیار کرتی ہے ۔اس کی مصنوعات سازی کا کام جرمنی میں انجام دیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے یہ کمپنی دنیا بھر کی مارکیٹوں میں تیزی سے قدم جما رہی ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ امریکا کے کمپیوٹر ساز ادارے نے یہ اعلان کیا ہے وہ دنیا کا تیز رفتار ترین کمپیوٹر تیار کرے گا۔

روس نے دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ خلا میں بھیج دی

جولائی 2011ء میں قازقستان کے مقام سے روس نے Radio Astron نامی خلائی جہاز خلا میں بھیجا تھا۔ اس خلائی جہاز کو زمین پر موجود ٹیلی اسکوپ (جس کو interferometry کہا جاتا ہے) سے آنے والے سگنل سے منسلک کیا گیا ہے، تاکہ ایک ورچول ٹیلی اسکوپ تشکیل پاسکے۔ جب کہ روسی خلائی جہاز کے اینٹینے کی لمبائی صرف 10میٹر ہے دوسری ٹیلی اسکوپ کے ساتھ مل کر ایک بڑی ڈش تشکیل دیں گے جوکہ قطر میں 3500 میٹر تک ہوگی اور زمین سے 30گنا زیادہ بڑی ہوگی اگرچہ کہ یہ virtual ٹیلی اسکوپ ہے، تاہم یہ انسانی ہاتھ کی تیار کردہ سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ ثابت ہوگی۔

 Interferomety کے عمل میں دو یا دو سے زائد ٹیلی اسکوپ سے آنے والے اشاروں کو یکجا کیا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بننے والی شبیہہ زیادہ resolution کی حامل ہوتی ہے اور اس کو کسی بھی انفرادی ٹیلی اسکوپ پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ روسی ٹیلی اسکوپ مغربی ورجینیا اور پرٹوریکو اور جرمنی سے حاصل ہونے والے سگنلز کے ملاپ سے جو تصویر حاصل کرے گی۔ اس کی ریزولیشن ہبل ٹیلی اسکوپ سے 100,000زیادہ ہوگی ۔روسی سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ اس کی مدد سے ہماری کہکشاں کے قریب موجودروزن سیاہ Black hole کا مطالعہ کر لیں گے۔

فلائنگ جیٹ مین

سوئس پائلٹ، موجد اورفضائی قلاباز Aviation Acrobatروزی وہ پہلا شخص ہے جس نے پہلی دفعہ اس بات کا مظاہرہ کیا کہ انسان کافی دیر تک فضا میں پرندوں کی طرح اُڑ سکتا ہے۔ اس نے یہ کام جٹ انجن سے طاقت حاصل کرنے والے پروں کی مدد سے انجام دیا۔ 

کاربن فائبر کے بنے ہوئے پر کی چوڑائی 8فیٹ تک ہے اور اس کو چار چھوٹے جٹ انجن سے طاقت فراہم کی جاتی ہے۔ اس نے نومبر 2006ء میں 6 فیٹ اونچائی تک اپنی پہلی پرواز کا مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ جیٹ 186 mph کی رفتار تک جاسکتا ہے، اس کو طاقت فراہم کرنے والے 4 انجن کا وزن 68 پائونڈز ہے ۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید