• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروبار میں اچھا تاثر قائم کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگرچہ ہر کوئی یہ بات جانتا ہے، لیکن بہت سی کمپنیاں اسے بہتر بنانے پر توجہ نہیں دیتیں۔ صارف کا کمپنی سے پہلا رابطہ مصنوعات یا خدمات کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ دوسرا رابطہ براہ راست کمپنی سے کیا جاتا ہے اور کمپنی کے لیے اچھا تاثر چھوڑنا ضروری ہے۔ کاروبار کے ساتھ صارف دوسری بار براہ راست رابطہ عام طور پر اُسی صورت میں کرتا ہے جب کوئی معاملہ خراب ہوگیا ہو، اور اُسے مصنوعات یا خدمات کی وجہ سے کسی پریشانی کا سامنا ہو۔ 

اگر اسے اچھے طریقے سے ہینڈل کیا جائے تو اس صورت ِحال کو کمپنی بہت اچھے تاثر میں ڈھال سکتی ہے۔ تاہم، یہی وہ مرحلہ ہے جو بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں، جہاں زیادہ تر لین دین آن لائن ہوتا ہے، کسی بھی برانڈ کے بارے میں گاہک کا دوسرا تاثر پہلے سے بھی زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ رابطے کے لیے فراہم کی گئی معلومات پر صارفین کے مسائل حل کریں تاکہ ان کی کمپنی کی بہتر ساکھ قائم ہوسکے۔

کمپنی سے رابطے کے نمبرز یا ای میل ایڈریس پر موصول ہونے والے کسی بھی سوال کا فوری جواب فراہم کرنا چاہیے ناں کہ صارفین کو اپنے

مسائل کے حل کے لیے طویل انتظار کرنا پڑے یا مختلف مراحل سے گزرنا پڑے۔

مثال کے طور پر زیادہ تر ایئرلائنز مسافروں کو خود سے معلومات حاصل کرنے کے لیے kiosk کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ یہ دوسرا اچھا تاثر دینے کے لیے کمپنی کے پاس موقع ہوتا ہے چونکہ پہلا رابطہ عام طور پر آن لائن بکنگ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ڈیوائس پاسپورٹ چیک کرتی ہے، بورڈنگ پاس ایشو کرتی ہے اور بعض اوقات سامان کے ٹیگ بھی پرنٹ کرتی ہے۔ اگر یہ طریقہ اور عمل صارف کے لیے کارگر رہے گا تو اس کا تاثر بہت اچھا ہو گا۔ یہ ڈیوائسز صارفین کو ان کا نام لے کر خوش آمدید کہتی ہیں۔ تاہم، جب کام غیر معمولی طور پر چل رہا ہو تو صارفین کی رہنمائی کے لیے انسانی مدد لینا ہی سب سے بہتر ہوتا ہے۔

اس طرح ہوٹل انڈسٹری میں چیکنگ کا طریقہ کار خصوصی طور پر انسانوں کی سرگرمی ہوتی ہے۔ یونیفارم میں ملبوس ریسپشنسٹ برانڈ کے بارے میں کسٹمر کا دوسرا تاثر قائم کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ دنیا کے زیادہ تر لگژری ہوٹلوں نے اس معاملے میں ایر لائن انڈسٹری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ منیجرز اور ایگزیکٹو ز جو اپنی کمپنیوں کا پہلا اور دوسرا مثبت تاثر دینا چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ لیبر سیونگ ایجادات کے ساتھ ساتھ انسانی رہنمائی کا بھی بندوبست کریں جو کسی خرابی کے وقت لوگوں کی رہنمائی کرسکیں۔ 

تمام منیجرز اور ایگزیکٹو زکو اپنی ویب سائٹس پر ایک مرتبہ خود یہ چیک کرنا چاہیے کہ ہیلپ لائن نمبر تلاش کرتے ہوئے کتنا وقت لگتا ہے۔ اگر آپ کو ایک دو سے زیادہ پیجز کھلنے کا سامنا ہے تو اس کا مطلب ویب سائٹ ڈیزائن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسٹمر کی آسانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک بڑا سا "Help" کا لوگو اور نمبر اپنی ویب سائٹ پر مہیا کریں ۔اگر اس کی تلاش مشکل ہوگی تو اس چیز کا رسک موجود رہے گا کہ کسٹمرآپ کی ویب سائٹ دوبارہ نہ کھولنے کے ارادے سے بند کر دے۔

کسٹمر سروس کی اہمیت

کسٹمر سروس کے حوالے سے اکثر ایسے سوالات سامنے آتے ہیں: سرمایہ کاری کو اس سے کیا فائدہ ہورہا ہے ؟ کیا ہم شکایات کے ازالے کے لیے بہت زیادہ رقم تو نہیں خرچ کررہے ؟ ہم اس با ت کی جانچ کس طرح کریں کہ کسٹمر سروس ہماری سرمایہ کاری پر کس حد تک اثر انداز ہورہی ہے ؟ اگرچہ کمپنیاں اور اس میں کام کرنے والے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کسٹمر سروس نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ہر کامیاب کاروبار اپنے کسٹمر ز اور اپنی سروس کے معیار کا خیال رکھتا ہے۔ 

منیجرز اور ایگزیکٹوز کو ان شعبوں پر مستقل نظر رکھنی چاہیے۔ جیسے ہی ان شعبوں میں کوئی مسئلہ سراٹھائے تو اس پر فوراً توجہ دی جائے۔ آج کے دور میں ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر اگر کسی شکایت کو نظر انداز کیا جائے یا اس پر مناسب کارروائی نہ کی جائے تو یہ چند لمحوں میں ایک خبر بن جاتی ہے۔ جب کوئی ایشو سامنے آتا ہے تو کسی کمپنی کا ردِعمل اس کی ساکھ اور طویل المدت کامیابی پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔

کسٹمرز کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ

کچھ کمپنیوں میں چیف ایگزیکٹو کو خود آگے بڑھ کر کارروائی کی قیادت کرنی چاہیے۔ ان کی ذاتی مداخلت کسٹمرز پر بہت خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔ کچھ کسٹمرز اگر ناراض بھی ہورہے ہوتے ہیں لیکن اچھے رویے اُن کا غصہ ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ 

پیغام رسانی اور کسٹمر سروس صرف ہنگامی حالت میں فعال نہیں ہونی چاہیے۔ ضروری ہے کہ کمپنیاں اپنے کسٹمرز کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ اس کی وجہ سے انھیں مسائل کے سر اٹھانے سے پہلے ہی مشکلات سے آگاہی ملتی رہے گی۔ کمپنیاں جان لیں گی کہ ان کا کاروبار کب اور کس وجہ سے پٹری سے اترنے کے خطرے سے دوچار ہونے والا ہے۔

کسٹمر سروس نئے کسٹمرز بنانے کا ذریعہ 

کسٹمر سروس کو لاگت کے پیمانے میں تولنے کی بجائے اسے کسٹمرز تک رسائی اور نئے کسٹمرز بنانے کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ زیادہ تر شعبوں میں، ایک کامیاب کمپنی اور اس کی حریف دیگر کمپنیوں میں واحد فرق یہی ہوتا ہے۔ آپ کو بزنس میں اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ لگن اور جذبے کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ پہلا اچھا قدم یہ ہے کہ آپ اپنے اسٹاف میں سے ہر کسی کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ مصنوعات اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے نئے تصورات اور مسائل کا حل پیش کرے۔ 

اپنے اسٹاف کو تجربات کرنے اور تجاویز پیش کرنے کا حوصلہ دیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انھیں اُن کے افسران کے سامنے شرمندہ نہیں کیا جائے گا۔ انھیں اعتماد ہو کہ وہ کسٹمر سے جو بات کررہے ہیں، کمپنی اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ کچھ تصورا ت کا حصول مشکل ہوتا ہے ۔ بطور ایک منیجر لگے بندھے طریقہ کار پر کام کرنے کی بجائے نت نئے خیالات کو ترجیح دیں۔

ایک بات یاد رکھیں کہ لوگ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے انٹرنیٹ پر اس کے ریویوز ضرور پڑھتے ہیں، اسی لیے اپنی مصنوعات یا خدمات کا نام لکھ کر جانیے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا تاثرات قائم کررہے ہیں۔ مثبت ریویوز آپ کے لیے مزید کسٹمرز بڑھنے کا ذریعہ بنیں گے۔ اگر منفی ریویوز آرہے ہیں تو ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے کاروبار کا آن لائن امیج بہتر کرنا آپ کے کاروبار کے لیے نہایت ضروری ہے۔

طویل المدت پالیسی کے حوالے سے سروسز پر دی جانے والی توجہ کسٹمرز کے ساتھ ساتھ کمپنی کے اسٹاف پر بھی بہت مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ آپ کی کمپنی صرف کام کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک کمیونٹی سینٹر بن جاتی ہے۔ کمپنی میں پیشہ ورانہ کلچر کو فروغ دینا اور کسٹمر سروس کو فعال کرنا کسی بھی کمپنی کو بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانے والوں کی قدر بھی کی جاتی ہے اور بعض اوقات انھیں انعا م و اکرام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ 

کسٹمر ز آپ کے کاروبار کو صرف مصنوعات یا خدمات خریدنے کی جگہ ہی نہیں سمجھتے ، وہ اس سے لطف بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اپنی کمپنی کی کامیابی کے لیے کسٹمر سروس کو اہم شعبہ بنانے سے آپ کے کسٹمر پر خوشگوار اثر پڑے گا اور آپ کا اسٹاف بھی اس تجربے سے خوش ہوگا۔ وہ لوگ محسوس کریں گے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک بامقصد کام کررہے ہیں۔ یہ احساس ہی کاروبار کی اصل روح ہے۔