• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے لال مسجد کے باہر موجود سڑک فوری کھولنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت کے موقع پر ڈپٹی کمشنر عرفان نواز عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لال مسجد کے باہر سڑک بھی بند ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ مولانا صاحب کا مدرسہ ہے، شاگرد اکثر بطور احتجاج سڑک بلاک کر دیتے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈی سی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ تو پھر آپ نے کیا کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ تو پھر افغانستان، بھارت اور اسرائیل سے بھی مذاکرات کر لیں تاکہ وہ معاملات بھی حل ہو جائیں۔

عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ڈی سی کو ہدایت کی کہ جائیں اور جا کر لال مسجد کے باہر کی سڑک کھولیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے عوام کو اپنے نمائندوں کے پاس جانا چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ قانون سب کے لیے ہو، صرف چند لوگوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننا چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو چند افراد کے مطابق ہی چل رہا ہے، گراؤنڈ ریئلٹی یہی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدلیہ بحال ہو کر بھی وکیلوں کے ہاتھوں قید ہے، سڑکوں کی بندش سے متعلق حکم جاری کریں گے۔

قومی خبریں سے مزید