• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارشد شریف ازخود نوٹس کیس کی 8 دسمبر کی سماعت کا حکم نامہ جاری

ارشد شریف قتل ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ نے 8 دسمبر کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

 سپریم کورٹ میں صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے 5 ارکان پر مشتمل نئی جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔

حکم نامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ارشد شریف قتل کیس کیلئے بنائی گئی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کا نوٹیفکیشن پیش کیا، جے آئی ٹی کی معاونت کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس افسران پر مشتمل ٹیم بھی ہوگی۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی نیروبی میں معاونت کے حوالے سے رپورٹ بھی جمع کروائی ہے، رپورٹ میں مزید سفارتی اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو اسپیشل جے آئی ٹی کی معاونت کے بارے میں بتایا۔

ارشد شریف قتل از خود نوٹس کے حکم نامے میں کہا گیا کہ توقع ہے مختلف ممالک سے شواہد اور بیانات اکٹھے کرنے کیلئے جے آئی ٹی دل جوئی سے کام کرے گی، تحقیقات کی پیش رفت کاجائزہ لینے کیلئے کیس جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کیا جارہا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ کسی بھی مشکل یا رکاوٹ آنے پر تحقیقاتی ٹیم براہ راست چیف جسٹس کو تحریری طور پر آگاہ کرے گی۔ توقع ہے جےآئی ٹی تحقیقات سے متعلق عبوری رپورٹس بھی وقتاً فوقتاً جمع کروائے گی۔ پہلی عبوری رپورٹ آئندہ سماعت سے پہلے جمع کروائی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید