عہدِ قدیم سے دورِ جدید تک
مصنف: پروفیسر محمّد ادریس احمد
صفحات: 1050، قیمت: 3000 روپے
ملنے کا پتا: ماڈرن بُک ڈپو ،نزد حیدری چوک، باغ، آزاد کشمیر۔
مصنّف 2010ءمیں ایک ڈگری کالج سے بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے اور پھر اِس کتاب کی تصنیف میں جُت گئے۔ گویا یہ اُن کی 11 برس کی محنت کا ایک نہایت ہی خُوب صُورت اور بیش بہا نتیجہ ہے۔جمّوں کشمیر کی اِس ضخیم اور تفصیلی تاریخ میں3180 قبلِ مسیح سے 2021ء تک، یعنی تقریباً پانچ ہزار سال کے اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
36 ابواب پر مشتمل اِس کتاب میں کشمیر کے جغرافیائی حالات، وہاں بسنے والی اقوام، ہندو حکم ران خاندانوں، اُن کے دَور کی خصوصیات، زوال کے اسباب، شاہمیری، چک، چغتائی، افغان، سِکھ اور ڈوگرہ حکم رانوں کی تفصیلات کے بعد جنگِ آزادیٔ کشمیر، گلگت بلتستان کی تحریکِ حریّت، مسئلہ کشمیر، پاک بھارت مذاکرات، 1965ء کی جنگ کے عنوانات کے تحت بہت سی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
آخری دو ابواب میں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے سیاسی و سماجی حالات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاضل مصنّف نے مستند معلومات کے حصول اور پھر اُسے ایک ترتیب سے قارئین کے سامنے رکھنے کے لیے بہت جاں فشانی سے کام کیا ہے۔یقیناً اِس طرح کے کام اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں،لیکن یہاں یہ کارنامہ ایک شخص نے تنِ تنہا سر انجام دیا ہے۔کتاب کے آخر میں حوالہ جاتی کتب کی طویل فہرست دی گئی ہے، تاہم اگر اہم حوالے حاشیے یا باب کے اختتام پر دے دئیے جاتے، تو قارئین کی بنیادی ماخذ تک رسائی آسان ہوجاتی۔