• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی آڈیو لیکس کمیشن کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے معطل کردیے جانے پر ملک کے قانونی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بالعموم حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اس اقدام پر نہایت اہم آئینی و قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔ان کے مطابق انکوائری کمیشن کے قیام سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، کمیشن کو بغیر نوٹس معطل نہیں کیا جاسکتا،قواعد کی رو سے فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کرنا غلط ہے،کمیشن کا دائرہ کارکسی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ محض یہ پتہ لگانا تھا کہ آڈیوز اصلی ہیں بھی یا نہیں لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ اس طرح سپریم جوڈیشل کونسل کے حدود میں مداخلت ہوئی ہے ،محض آڈیوز کی بنیاد پر کسی جج کا معاملہ کونسل میں نہیں لے جایا جاسکتا بلکہ اس سے پہلے آڈیو کی تصدیق ضروری ہے اور کمیشن اسی لیے بنایا گیا ہے۔ کسی جج کو کسی مقدمے میں رقم کی پیشکش کا ثبوت سامنے لایا جانا پرائیویسی کے حق کے خلاف نہیں کیونکہ یہ حق نجی امور تک محدود ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے اس موقف کی معقولیت بالکل واضح ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کے ممتاز تجزیہ کاروں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ آڈیو لیکس کمیشن کو معطل کرکے چیف جسٹس نے خود کو مزید متنازع بنالیا ہے۔ تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کیلئے معاملے کے اس پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے کہ قومی وآئینی اور سیاسی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل معاملات میں اعلیٰ عدلیہ کے بعض ججوں اور دیگر ممتا ز شخصیات سے متعلق پچھلے چند ہفتوں کے دوران قومی میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگز نے فی الحقیقت اعلیٰ عدلیہ کے اعتبار کو بری طرح مجروح کیا کیونکہ ان سے اہم مقدمات میں سودے بازی اور ساز باز کا تاثر ملتا ہے ۔صورت حال کو جس چیز نے مزید مشتبہ بنادیا وہ یہ ہے کہ متعلقہ شخصیات نے بالعموم ان کلپس کے جعلی ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیا بلکہ اظہار برہمی بس اس بات پر کیا گیا کہ نجی گفتگو ریکارڈ کرنا پرائیویسی کے حق کے منافی ہے۔ یہ آڈیو ریکارڈنگز سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی،پرویز الٰہی اور وکیل ارشدجوجہ ،پرویز الٰہی اور عابد زبیری ایڈووکیٹ،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور طارق رحیم، فیصل چوہدری اور فواد چوہدری، جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب اور پی ٹی آئی کے ابوذر چدھڑ،عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما مسرت چیمہ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی ساس مہ جبین نون اور مسز رافعہ طارق، عبدالقیوم صدیقی اور خواجہ طارق رحیم کی مبینہ گفتگو پر مشتمل ہیں۔ ملک کی وکلاء برادری، سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے پرزور مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ ان آڈیوز کی فارنزک تحقیقات کرواکے اس بات کا تعین کریں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ اگر آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں تیار کرنے اور منظر عام پر لانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر درست ہیں تو ساز باز میں شامل شخصیات کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔تاہم چیف جسٹس نے واضح طور پر تاثر دیا کہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کو مشتبہ بنادینے والا یہ معاملہ اتنا اہم تھا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس فائز عیسیٰ اور اسلام آباد و بلوچستان ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل کمیشن بنانا ضروری سمجھا جس کا مقصد متعلقہ شخصیات میں سے کسی کیخلاف کارروائی نہیں بلکہ صرف حقائق کا پتہ لگانا اور نتائج قوم کے سامنے لانا تھا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کی روشنی میں ہر شخص بآسانی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ آڈیو لیکس کمیشن کے حوالے سے چیف جسٹس کا موقف درست ہے یا جسٹس فائز عیسیٰ کا۔

تازہ ترین