آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
کبھی کبھی سوچتا ہوں۔ ہم اپنے دور کے عظیم گلوکار محمد رفیع کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کتنا کم واقف ہیں۔ہم ہی میں سے اٹھنے والا ایک شخص موسیقی کی دنیامیں کیسی ہلچل مچا کر چلا گیا اور ہم نے کبھی تفصیل سے جانا ہی نہیں کہ وہ کون تھا، کیسا تھا، کہاں سے آیا اور آخر کہاں گُم ہو گیا۔ میں نے اخبار اور ریڈیو سے اپنی نصف صدی سے بھی زیادہ وابستگی کے دوران رفیع کے بارے میں بہت کچھ جانا، ان سے ملا،ان کا انٹرویو کیا لیکن ابھی پچھلے دنوں رفیع صاحب کی بہو یاسمین خالد رفیع کی لکھی ہوئی کتاب ’’محمد رفیع، میرے ابّا‘‘ پڑھی تو یہ احساس ہوا کہ ہمیں ان کے بارے میں کتنا کم بتایا گیا، مگر کیوں؟ کیا کہیں کوئی تھا جو کوشش کر رہا تھا کہ دنیا ان سے بے خبر رہے؟ کیا کسی کو ان کی شخصیت ناگوار گزرتی تھی؟ کیا انہیں اتنا عاجز کیا گیا کہ وہ بجھ کر رہ گئے، موسیقی سے دلبرداشتہ ہوگئے، گانے سے گریز کرنے لگے اور اپنے سینے میں ٹوٹا ہوا دل لے کر دنیا سے سدھار گئے؟ کتاب میں بہو نے اپنے چہیتے سُسر کی زندگی کے اس رُخ سے پہلو تہی کی۔ وہ تفصیل میں نہیں گئیں،ہوسکتا ہے انہیں حالات کا پوری طرح علم ہی نہ ہو۔
’’محمد رفیع، میرے ابّا‘‘ ایک گھرانے کی داستان ہے جو گھرانے کے اندر ہی لکھی گئی ہے۔ ایک جیتا جاگتا، صحیح معنوں میں ہنستا گاتا گھرانہ اپنے رات دن

کیوں کر گزار رہا تھا۔ بچّے کیسے پروان چڑھ رہے تھے ، شادی بیاہ کیسے ہورہے تھے ، کیسے گھر کا رکھوالا ہر صبح کام پر جاتا تھا اور دن بھر دنیا کے رکھوالے کی تان لگا کر ہشاش بشاش گھر لوٹتا تھا اور بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا، چھت پر چڑھ کر پتنگ اڑاتا تھا، وہ کیونکر گانے کا ریاض کرتا تھا، کس طرح موسیقار اس سے وقت لینے کے لئے بیتاب ہوا کرتے تھے، کیسے وہ ایک ایک دن میں تین تین چار چار گانے ریکارڈ کرا کے آتا تھا۔ یہ سب کرتا تھا لیکن کبھی سنیما ہاؤس میں جاکر فلم نہیں دیکھتا تھا اور کبھی چلا بھی گیا تو حیران ہوکر کہاکرتا تھا کہ میرا گانا کون گا رہا ہے۔ ایک ایسے درویش صفت گلوکار کے بارے میں اس کے مرحوم بیٹے خالد کی بیوی یاسمین نے اپنی یادداشتیں بہت ہی سلیقے سے ہندی میں لکھیں جن کا اب انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔
کتاب کی ابتدا محمد رفیع کے آخری لمحات سے ہوئی ہے۔ صحت ان کی ٹھیک نہ تھی۔ رفیع صاحب کو شاہی ٹکڑوں سے رغبت تھی۔ بیگم گھر پر نہ ہوں تو ذرا زیادہ ہی میٹھا کھا لیتے تھے۔ اُس روز ان کو سینے پر اور معدے میں بھاری پن محسوس ہوا۔انہوں نے سوڈا مِنٹ کی گولیاں کھالیں جس سے کچھ آرام ہوا۔ کھانے کے بعد وہ لیٹے ہوئے تھے کہ سینے کا درد لوٹ آیا۔انہوں نے اپنی بیگم کو بلایا جنہوں نے دیکھا کہ رفیع صاحب کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے اور ان کے ہونٹ نیلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً ذاتی معالج ڈاکٹر مودی کو فون کیا، وہ نہیں ملے پھر ڈاکٹر چندرا منی کو فون کیا گیا، وہ ذرا دیر بعد آگئے ۔ اس دوران رفیع صاحب کو قے آنے لگی۔ ڈاکٹر نے انہیں فوراً نیشنل ہاسپٹل لے جانے کی ہدایت کی۔ ان کی مخصوص نیلی کار دروازے پر لائی گئی۔ وہ نہ مانے اور پیدل چل کر کار تک گئے اور سب کو مسکرا کر خدا حافظ کہا۔ اسپتال پہنچنے پر پتہ چلا کہ اس کی لفٹ خراب ہے۔ انہیں اوپر لے جانے کے لئے اسٹریچر منگایا گیا مگروہ اصرار کرکے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے۔ معائنے میں دیر لگی اور آخر کار اعلان ہوا کہ ان پر دل کا دورہ پڑا ہے۔ ممبئی کے نیشنل ہاسپٹل میں علاج کی سہولت نہیں تھی۔ اب ممبئی ہاسپٹل کو فون کیا گیا، وقت گزرا چلا جا رہا تھا۔ چار بجے دورہ پڑا، سات بجے وہ اس دوسرے اسپتال پہنچے اور علاج شروع ہوااور کچھ آرام آیا لیکن درد پھر لوٹ آیا اور سانس اکھڑنے لگی۔ بیٹی سرہانے کھڑی یاسین شریف پڑھ رہی تھی کہ رفیع صاحب کی نبضیں ڈوبنے لگیں اور رات ساڑھے دس کے قریب روح کا پنچھی پرواز کر گیا۔ رات کو میت گھر لے جانے کی اجازت نہیں تھی اور ممبئی کے اتنے بڑے اسپتال میں مردہ خانہ نہیں تھا۔ ان کی میت کو تمام رات برف پر رکھا گیا۔ اگلی صبح تک ساری دنیا کو علم ہو گیا کہ رفیع صاحب چل بسے ہیں اور دنیا امڈ کر ان کے گھر پہنچ گئی۔ فلم کی دنیا کی کون سی شخصیت ہوگی جو ان کے جنازے میں شریک نہ تھی۔ تیز بارش میں ہزاروں لوگ ان کے جنازے کو قبرستان لے گئے جہاں ان کا آخری دیدار کرایا گیا۔ سب نے دیکھا۔ ان کے چہرے پر عجب سی مسکراہٹ تھی۔ملک بھر کے ریڈیو اسٹیشن ان کے ریکارڈ چلانے لگے ’’یہ زندگی کے میلے ، دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے۔ چل اڑجا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ‘‘۔
اگلا باب یاسمین نے بڑی ہی صداقت اور جرأت سے لکھا ہے ورنہ لوگ بعض باتوں کو چھپاتے ہیں۔ محمد رفیع کے والد حاجی محمد علی تھے ان کے پکائے ہوئے کھانوں کی لاہور میں بڑی شہرت تھی۔ ان کی والدہ اﷲ رکھی تھیں۔ ان کے آٹھ بچے تھے، چھ بیٹے اور دو بیٹیاں۔ یہ لوگ لاہور کے بھاٹی گیٹ میں رہتے تھے۔ امرتسر کے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ کے بارے میں سنا ہے کہ ماں وہاں گئی ہوئی تھیں کہ محمد رفیع پیدا ہوئے (24 دسمبر 1924ء)۔یہ سب ذات کے چوہدری تھے۔ اس سب سے چھوٹے بیٹے کا بس ایک ہی کام میں جی لگتا تھا۔ گانے میں۔ دس برس کے تھے کہ گلی گلی پھیرے لگانے والا ایک فقیر ان کی گلی میں بھی آنے لگا۔ وہ گاتا جاتا تھا ’’ کھیڈن دے دن چار‘‘ اور ننھا رفیع اس کا پیچھا کرتا تھا تاکہ یہ پنجابی غزل دیر تک سنتا رہے۔ ایک روز بچّے نے اس کا نغمہ گاکر اُسی کو سنا دیا۔ فقیر حیران رہ گیا اور دعا دے کر آگے چلا گیا۔ اطلاعاً عرض ہے، دعا قبول ہوئی۔
رفیع صاحب نے عمر بھر پیروں فقیروں سے لو لگائے رکھی۔ ان کے گھرانے میں گانے بجانے کی مخالفت تھی مگر ان کو یقین تھا کہ ان پر کسی کا کرم ہے جو ان کے گلے میں سُر ہے۔ بہو بیگم نے دیانت داری سے لکھا ہے کہ رفیع کے بڑے بھائی محمد دین کی لاہور میں حجّام کی دکان تھی۔ وہ رفیع کو اپنے ساتھ لے جاکر اپنا ہنر سکھانے کی کوشش کرتے تھے مگر چھوٹے میاں کبھی قینچی سے ستار بجاتے تھے اور کبھی کنگھے سے طبلہ (یہ میرا قیاس ہے)۔آخر محمد دین نے تنگ آکر انہیں استاد برکت علی خاں کی شاگردی میں دے دیا۔ یہ سلسلہ فیروز نظامی تک چلا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ رفیع کی زندگی کا پہلا کامیاب گانا’’یہاں بدلہ وفا کا‘‘ ایک روز فیروز نظامی ہی نے کمپوز کیا۔
رفیع تیرہ برس کے تھے کہ ایک عجب واقعہ پیش آیا۔ لاہور میں موسیقی کا ایک بڑا شو ہو رہا تھا جس میں کندن لال سہگل اور زہرہ بائی انبالے والی بھی گارہی تھیں۔ سننے والوں میں رفیع بھی شامل تھے۔ محفل رنگ پر تھی کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ مائیکروفون نے کام بند کردیا۔ دیر ہو گئی تو مجمع بے چین ہونے لگا۔ خدا جانے کس نے رفیع کو اٹھا کر اسٹیج پر کھڑا کردیا اور کہا کہ اپنی کھلی آواز میں گاؤ۔ چھوٹے میاں شروع ہو گئے اور پنجابی لوک گانا اونچی آواز میں گانے لگے۔ مجمع چپ ہوکر گانا سننے لگا۔ بعد میں سہگل نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ ایک روز تم بڑے گلوکار بنو گے۔
وہ تو خیر بننا ہی تھا، اسی تیرہ برس کی عمر میں چچا زاد بہن بشیرن سے ان کی شادی کردی گئی، یہی نہیں ان کے ہاں بیٹا بھی پیدا ہوا جس کا نام سعید تھا مگر یہ شادی زیادہ عرصے نہیں چلی اور بات طلاق پر ختم ہوئی۔ یاسمین نے یہ دلچسپ بات لکھی ہے کہ اگرچہ گھر میں سب ہی کو اس شادی کا علم تھا مگر یہ حکم تھا کہ امّاں (دوسری بیوی) کے سامنے اس کا بھولے سے بھی ذکر نہ کیا جائے اور باہر کی دنیا کو اس کی ہوا بھی نہ لگنے دی جائے کیونکہ امّاں سنیں گی تو سخت برہم ہوں گی۔(جاری ہے)