آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمارے ہاں نظام ہستی تین پہیوں پر رواں ہے ۔ امید، انتظار اور اعتماد۔ جیسے انصاف کی امید، بجلی کا انتظار اور قیادت پر اعتماد وغیرہ۔ آج ہم ان میں سے ایک کھوچل سے پہیے یعنی اعتماد کی اقسام پر کچھ عرض کریں گے ۔ یہاں اعتماد کی جتنی اقسام رائج ہیں ، اتفاق سے اتنے ہی انہیں ٹھیس پہنچانے کے طریقے بھی موجود ہیں ۔ چیدہ چیدہ اقسام ملاحظہ فرمائیے ، کچھ آج ، کچھ پھر کبھی ۔
غیر متزلزل اعتماد: یہ اعتماد کی بڑی مقبول اور سدا بہار قسم ہے ۔ یہ پارٹی رہنمائوں ، ورکروں اور عوام کا اپنی ولولہ انگیز سیاسی قیادت پر اعتماد ہے ، جو اس قیادت کے برسر اقتدار آتے ہی کسی خود کار طریقے سے قائم ہو جاتا ہے ۔ غیر متزلزل اعتماد کا ایک ثبوت زیر نظر ہے کہ جب کوئی ممبر اسمبلی اپنی کرپشن ، دھاندلی یا جعلی ڈگری کی بنا پر عدالت سے نااہل قرار پاتا ہے تو حلقے کے ووٹر ضمنی انتخابات میں ولولہ انگیز سیاسی قیادت کے حکم پر پھر اسی کو منتخب کر کے عدالتوں اور اپنے حق رائے دہی کا منہ چڑاتے ہیں ۔ اگرچہ اقتدار کے بعد بھی یہ اعتماد غیر متزلزل ہی رہتا ہے لیکن خاصی مائیکرو سی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ جبکہ اس کا غالب حصہ اپنی قیادت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے نئی بر سر اقتدار قیادت کے چرنوں میں جا بیٹھتا ہے مگر رہتا یہاں بھی غیر متزلزل ہی ہے ۔ غیر متزلزل

اعتماد کے حامل کچھ پیشہ ور اعتمادیے ہماری تاریخ کا جھومر ہیں ۔ان میں سے کچھ کا غیر متزلزل اعتماد تو کمال کا ہے کہ حکمران چاہے آمر ہو یا منتخب رہنما، وہ سب کی قیادت پر قائم ہو جاتا ہے ۔ جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ جو سیاسی دور میں بڑی سیاسی جماعتوں سے اتحاد قائم کر کے عوا م کے اعتماد پر سواری کا اپنا شوق پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان جماعتوں کی طرف سے اپنے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے یعنی اقتدار میں شامل نہ کرنے پر انہیں کرپٹ اور نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ٹرین مارچ، پیدل مارچ اور دھرنے جیسے نیک اعمال بجا لاتے ہیں ۔ تاہم ان سب کا اصل غیر متزلزل اعتماد آمریت کے ظہور پذیر ہونے پر اپنے جوہر دکھاتا ہے اور خوب حلوے مانڈے سمیٹتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے غیر متزلزل اعتماد کی پوٹلیاں بغل میں دبائے کسی نئے آمر کی راہ میں سرخ قالین بچھانے کو بے تاب رہتے ہیں ۔ وہ اشاروں کنایوں میں اور کبھی کھلم کھلا فوجی قیادت کو ’’دعوتِ گناہ‘‘ دیتے نظر آتے ہیں ۔
جانثاری پر اعتماد: یہ جوابی اعتماد ہے ۔ جب لوگ کسی ولولہ انگیز سیاسی قیادت پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا پر شور اظہار کرتے ہیں تو وہ سیاسی قیادت جواباً اپنے پارٹی رہنمائوں ، ورکروں اور عوام کی جانثاری پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے ۔ تاہم ان کی اس جانثاری کا کوئی بدلہ دینے کی بجائے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے فقط اپنے لئے مال سمیٹنے میں مگن ہو جاتی ہے اور جانثاروں کو روٹی کی جگہ کیک اور دال کی جگہ مرغی کھانے کے مشورے دیتی ہے ۔ ٹھیس پہنچنے کے اس عمل کا ردِ عمل یہ ہوتا ہے کہ غیر متزلزل اعتماد رکھنے والے جانثار اقتدار کے بعد اپنی قیادت کو ’’قدم بڑھائو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کے پر جوش مشورے دیتے ہیں ۔ پھر جب قیادت ان کے جھانسے میں آ کر قدم بڑھاتی ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے تو وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ غیر متزلزل اعتماد رکھنے والے ولولہ انگیز قیادت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر غائب ہو چکے ہوتے ہیں ۔
وفاداری پر اعتماد : یہ بھی غیر متزلز ل اعتماد کا ایک ردِ عمل ہے ۔ تاہم اس کا دائرہ کار خاصا محدود ہے ، جس میں اراکین اسمبلی اور سینیٹرز وغیرہ ہی آتے ہیں ۔ سیاسی قیادت کو اپنے ممبران کی وفاداری پر مکمل اعتماد ہوتا ہے اوروہ ہمیشہ اس اعتماد پر پورا اترتے ہیں ، چاہے وہ ضیاء الحق کی قیادت ہو ، بے نظیر کی ہو ، نواز شریف کی ہو یا پرویز مشرف کی ۔ مراد یہ ہے کہ ان میں سے اکثر خواتین و حضرات کی غیر مشروط وفاداری پر ہر قیادت اعتماد کر سکتی ہے ، بشرطیکہ وہ برسرِ اقتدار ہو۔ گویا اس گروہ کو بھی پیشہ ور اعتمادی پرندوں کا غول کہا جا سکتا ہے ، جو آج ایک چمن میں نغمہ گری کر رہا ہے تو کل پہلے چمن کے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے کسی اور گلستاں میں زمزمہ پرواز ہوگا۔
ووٹروں پر اعتماد: یہ سب سے کمزور اعتماد ہے ،لہذا انتخابات میں فرشتوں کو زحمت دینا پڑتی ہے ۔ امیدواربظاہر تو اپنے ووٹروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے لیکن اندر خانہ اسے ہر ووٹر کی وفاداری پر شک ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امیدوار کامیابی کے لئے ووٹروں کی طرف سے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے ڈر سے متبادل بندوبست بھی کرتا ہے ۔
باہمی اعتماد: یہ دو طرفہ اعتماد ہے جو دودلوں سے لے کر دو ملکوں کے درمیان کہیں بھی اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔ اس کی روشن مثال اخوت کے لازوال رشتے میں پروئے دو پڑوسی اور برادر اسلامی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اعتماد ہے ، جس کی تاریخ افغانستان کی طرف سے پاکستان کو تسلیم نہ کرنے سے لے کر حالیہ طور خم جھڑپوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ہم نے بھی اعتماد کے اک رشتے کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور افغانستان کے ہر مسئلے اور ہر جنگ کو اپنا معاملہ سمجھ کر اپنی قوم کا بے دریغ خون بہایا ہے ۔ دشمنوں نے اس باہمی اعتماد میں دراڑ ڈالنے کی ہزار کوششیں کیں ، حتیٰ کہ پچیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو ہمارے ملک میں لاقانونیت، دہشت گردی اور عدم استحکام کا ذمہ دارقرار دیا، مگر آفرین ہے ہم پر کہ جنہوں نے اس باہمی اعتماد کے رشتے کو نبھاتے ہوئے عشروں سے ان مہاجرین کو گلے لگا رکھا ہے اور وہ بھی اسی جذبے سے مغلوب ہوکر ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں ۔ نیز ہر دو ملکوں کے درمیان بھائیوں کا آنا جانا کسی دنیاوی ضابطے یا قانون کا پابند نہیں ۔ افغان برادران کی طرف سے ہمارے خلاف گولہ باری اور دہشت گردی کی اِکا دُکا وارداتوں سے کبھی کبھار اس اعتماد کو ٹھیس بھی پہنچتی ہے تاہم جلد ہی باہمی اعتماد کا رشتہ بحال ہو جاتا ہے ۔ باہمی اعتماد کا یہ رشتہ ہم نے کئی دوسرے ممالک کے ساتھ بھی قائم کر رکھا ہے ۔ دو طرفہ محبت کے اسی جذبے کے تحت کئی برادر اسلامی ممالک جو اپنے ملکوں میں ریاست کی اجازت کے بغیر ادارے ،مدارس یا مساجد بنانے کی اجازت نہیں دیتے ،انہوں نے پاکستان کو اپنا سگا بھائی سمجھتے ہوئے ، پلے سے خرچ کر کے یہاں ایسے غیر رجسٹرڈ اداروں کا جال بچھا رکھا ہے ۔ امریکہ کے ساتھ بھی ہم باہمی اعتماد کے اسی رشتے میں پروئے ہوئے ہیں ۔تاہم امریکہ اکثر ہماری طرف سے اپنے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے لغو الزامات لگا کر ہمیں دی جانے والی امداد کے استعمال اور دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے ۔ ہمالیہ سے بھی اونچا ہمارا ایک اور باہمی اتحاد چین کے ساتھ قائم ہے ۔باہمی اتحاد کے اس لازوال رشتے کے باوجود چینی بھائی اقتصادی راہداری کے منصوبے کے فنڈز شرافت سے ہمارے حوالے کرنے کی بجائے خود اپنی نگرانی میں خرچ کرنے کے خواہاں ہیں ۔ چینی بھائیوں بلکہ امداد دینے والے تمام ممالک کو ایسی حرکتوں سے گریز کرنا چاہئے ۔باہمی اعتماد کا رشتہ سالوں میں قائم ہوتا ہے جبکہ ذرا سی بے احتیاطی ایک لمحے میں اسے ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں