آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
آخرکار نوشتہ دیوار پڑھ لیا گیا کہ ریاست کے خلاف مسلح جنگ لڑنے والوں کے ساتھ فیصلہ میدان جنگ میں ہی ہو گا۔ یہ وہ بنیادی تاریخی حقیقت ہے جسے حکمران مصلحت کوشی کی بنا پر نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ ہزاروں جانوں کا نذرانہ دے کر بھی اگر یہ بات سمجھ میں آگئی ہو تو غنیمت ہے وگرنہ پاکستان کی جمہوری ریاست کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ پاکستانی ریاست کی بقا کے لئے لازم ہے کہ نہ صرف مسلح جنگجوئوں کا قلع قمع کیا جائے بلکہ ان کے حق میں معذرتیں پیش کرنے والوں کے عزائم کو بھی بے نقاب کیا جائے۔ طالبان اور پاکستان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ طالبان کے نمائندے شاہد اللہ شاہد نے ستمبر دو ہزار بارہ میں مذاکرات کی تین شرائط پیش کی تھیں۔ ان میں پاکستانی فوج کافاٹا سے انخلاء، طالبان قیدیوں کی رہائی اور ڈرون حملوں کا بند ہونا شامل تھا۔ یہ تینوں شرائط ناقابل قبول یا ناقابل عمل ہیں۔ فاٹا سے پاکستانی فوج کے انخلا کا مطلب ہے کہ پورا علاقہ طالبان کے حوالے کر دیا جائے۔ اسی طرح سے پاکستان کا ڈرون حملوں پر براہ راست کوئی اختیار نہیں ہے لہٰذا وہ اس بارے میں کچھ بھی کرنے یا کہنے سے قاصر ہے۔ غرضیکہ پاکستان کے طالبان کے ساتھ مذاکرات ناممکن عمل ہے۔ طالبان کے نظریئے کے مطابق پاکستان کا ’’قومی جمہوری‘‘ سیٹ اپ نظام کفر ہے۔

وہ مذہب کی بنیاد پر ایک امارت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں ان کی مرضی کا نظام شریعت نافذ ہو گا جو عالمی اسلامی ریاست کے قیام کا ایک حصہ ہوگا۔ طالبان ہوں یا القاعدہ وہ مسلمان ممالک کے درمیان قائم کردہ سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے، ان کے نزدیک افغانستان اور پاکستان کی سرحدیں بھی بے معنی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان ایک قومی ریاست ہے جس کی مخصوص سرحدیں ہیں اور اس کی اپنی جغرافیائی، سیاسی اور سماجی شناخت ہے۔ ویسے ہی جیسے ایران، افغانستان یا دنیا کے کسی بھی قومی حکومت کی ایک شناخت ہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے بھی یہی نظریاتی تضاد تھا۔ قائداعظم کی رہنمائی میں مسلم لیگ ہندوستان میں ایک علیحدہ قومی ریاست قائم کرنا چاہتی تھی جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نئی مملکت کے قیام کی اس بنا پر مخالف تھیں کہ وہ اسلام کو قومی حدود میں قید نہیں کرنا چاہتی تھیں اور پورے ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتی تھیں۔ عالمی اسلامی نظام کے حامی طالبان کی جنگ کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس طرح کے بیشتر عناصر جو یہ کھل کر کہہ نہیں پاتے کہ طالبان کی فتح عالمی اسلامی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم ہے لہٰذا وہ حیلے بہانوں سے طالبان اور القاعدہ کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان میں عالمی اسلامی نظام کی حامی مذہبی پارٹیاں و دیگر عناصر یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ جمہوری نظام میں اس طرح کا نظام قائم نہیں کر سکتے کیونکہ پاکستان کے عوام اور بڑی سیاسی پارٹیاں پاکستان کو ایک منفرد قومی ریاست تسلیم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اسلامی نظام کے حامی طالبان کی جنگجوئی اور گوریلا حکمت عملی سے پاکستان پر قبضے کے حامی ہیں لیکن وہ اس نظریئے کو کھلم کھلا پیش نہیں کر سکتے کیونکہ یہ انتہائی غیر مقبول ہوگا لہٰذا یہ مذہبی پارٹیاں طالبان کی حمایت کی بالواسطہ حکمت عملی اپناتی ہیں اور ان کی غارت گری کی واردات سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ طالبان کے حق میں معذرتیں پیش کرنے والوں کے کئی پینترے ہیں ۔ ان میں سب سے زیادہ مقبول یہ ہے کہ حکومت نے سنجیدگی سے مذاکرات کا راستہ اختیار نہیں کیا(حال ہی میں دفاع کونسل پاکستان کی میٹنگ کے بعد اسی طرح کا بیان دیا گیا)۔چلئے اگر مان بھی لیا جائے کہ حکومت نے مذاکرات میں کوتاہیاں کی ہیں لیکن کیا اس سے طالبان کو حق حاصل ہو گیا کہ وہ سیکورٹی اداروں اور عام شہریوں پر حملے کریں اور پھر ٹی وی پر آکر فخر سے قتل و غارت گری کی ذمہ داری قبول کریں۔
سوال یہ ہے کہ جب سیکورٹی فورسز کے لوگ اور عام شہری طالبان کے ہاتھوں شہید ہوتے ہیں تو اس وقت طالبان کے حمایتی کیوں خاموش رہتے ہیں۔ وہ کھل کر طالبان کی بلااشتعال قاتل پالیسیوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ امیر جماعت اسلامی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ نہ تو خودکش حملوں سے شریعت نافذ ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہوائی بمباری سے امن قائم ہو سکتا ہے۔ ایسے بیانات یہ تاثر دینے کی کوشش لگتے ہیں جیسے طالبان اور پاکستانی فوج برابر کے قصور وار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ طالبان نے بلااشتعال حملے کئے اور اس میں سیکڑوں لوگوں کو شہید کیا۔ اگر فوج پر اعتراض کیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے کارروائی کرنے میں بہت دیر کردی وگرنہ شاید اتنی جانوں کا ضیاع نہ ہوتا۔ اب بھی اگر فوج عمل میں نہ آتی تو سوال اٹھنا شروع ہو گیا تھا کہ پھر فوج کس کام کی ہے!حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ جنگ ناگزیر تھی اور ہے۔
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ دوسرے علماء سے درخواست کرنے کے بجائے طالبان سے مذاکرات کا بیڑا خود کیوں نہیں اٹھاتے؟ مولانا فضل الرحمٰن حکومت میں شامل ہیں تو وہ کیوں طالبان کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ (اگر ہے تو) استعمال نہیں کرتے؟ عمران خان کو طالبان کے ساتھ گفت و شنید کرنے سے کس نے روکا ہے؟ مذاکرات کا شور کرنے والے طالبان سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ چند ہفتوں کیلئے اپنی قاتلانہ کارروائیاں بند کر دیں تاکہ معاملات گفت و شنید سے طے پا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ طالبان پورے پاکستان کو فتح کر کے اس پر اپنی طرز کا قبائلی شریعتی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مسلح نظریاتی جنگ ہے جس کا فیصلہ میز پر بیٹھ کر نہیں ہوا کرتا۔