• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھلاڑیوں کو این او سی دینے کی قیمت ایشیاکپ کے بعد ورلڈکپ میں بھی چکا رہے ہیں، ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) منیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ بورڈ کے گزشتہ چیئرمین نے کھلاڑیوں کو لیگز کھیلنے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) دیے تھے جس کی قیمت ایشیاکپ کے بعد اب ورلڈکپ میں بھی چکا رہے ہیں۔ 

ایک انٹرویو میں ذکا اشرف نے کہا کہ ورلڈکپ کا وقت آیا تو کھلاڑیوں کے فٹنس مسائل سامنے آگئے، کھلاڑی انجریز کا شکار ہیں، نسیم شاہ اسکواڈ میں شامل نہیں۔چار سے پانچ کھلاڑی فنٹنس مسائل کا شکار بنے جبکہ کچھ کی پرفارمنس اچھی نہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں بھارت نہیں جارہا تھا، سب نے کہا کہ ٹیم کو بیک کرنے کےلیے آپ کو جانا چاہیے۔

چیئرمین پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ انگلینڈ کی بھی پرفارمنس اچھی نہیں، انگلینڈ دفاعی چیمپئن ہے پوائنٹس ٹیبل پر ہم سے بھی نیچے ہے، مجھے بھی دکھ ہے 4 میچز نہیں ہارنے چاہیے تھے۔

ذکا اشرف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنا چاہیے، نتائج کچھ بھی ہوں ورلڈ کپ کے بعد جو ماہرین رائے دیں گے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے، ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کو برا بھلا نہ کہا جائے، ان کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے۔

چیئرمین پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ سابق کھلاڑیوں اور عوام سے درخواست ہے مثبت انداز میں بات کریں۔

انکا کہنا تھا کہ راشد لطیف کا بیان غلط تھا جس پر افسوس ہے، مجھے یہ بھی کسی ایجنڈے کا حصہ لگتا ہے، راشد لطیف کو کرکٹ کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے بلایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پلیئرز کے جو معاہدے ہیں وہ انہیں بھارت بھیج دیں گے، پلیئرز سائن کریں تو پیسے ان کے اکاؤنٹ میں پہنچ جائیں گے، نہ پلیئرز کہیں جا رہے ہیں، نہ بورڈ کہیں جا رہا ہے۔

ذکا اشرف نے مزید کہا کہ نجم سیٹھی نے پچھلے دور میں میرے خلاف کیس کیا تھا، اس وقت بھی میرے خلاف ایک روپے کی بےضابطگی ثابت نہیں ہوئی، بھارت کے دورے میں یہ ماحول نہیں تھا کہ وہاں چیمپیئنز ٹرافی پر بات کرتا، مجھے جے شاہ نے بہت عزت دی۔

چیئرمین پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی نے کہا کہ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، نجم سیٹھی کو بھی فیئرویل دینا چاہتا تھا، پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ان سے تعاون کرنے کو کہا تھا، پچھلے تین چار جو چیئرمین رہے انہوں نے کوئی پلان ہی نہیں کیا، یہ کمزوریاں ہیں جو ورلڈ کپ کے بعد کام کریں گے۔

ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے کہ میں بورڈ چیئرمین رہوں گا یا نہیں، پیٹرن مجھے بہتر سمجھیں گے تو برقرار رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زوم پر ٹیم کو گائیڈ کرنا اس سے پہلے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورلڈکپ ٹیم سلیکشن میں انضمام الحق کا ہاتھ نہیں تھا، ہارون رشید کی منتخب ٹیم ہے وہ بھی نجم سیٹھی کے ساتھ چلے گئے، انضمام کا نام بہت بڑا ہے، وہ سب سے کم پیسوں پر چیف سلیکٹر بنے ہیں۔

 ذکا اشرف نے کہا کہ ایشیا کپ کے بعد کپتان، نائب کپتان، چیف سلیکٹر، کوچز کے ساتھ میٹنگ کی تھی، بابر اعظم سے الگ بھی ملاقات کی تھی، ان کا کہنا تھا ٹیم یکجا ہے، چند کھلاڑیوں پر گفتگو ہوئی تھی، تبدیلی کی تجویز کوئی نہیں تھی، کپتان اور کوچز ٹیم سلیکشن سے مطمئن تھے، شاداب خان کی فارم پر حفیظ اور مصباح نے تجویز دی تھی، کپتان اور کوچز نے شاداب کو ٹیم میں رکھنےکو کہا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرفراز احمد تجربہ کار ہے، اچھا کھیلتا ہے، شاہنواز دہانی بھی ملاقات میں موجود تھے، سرفراز احمد کی کپتانی سے متعلق کوئی بات نہیں کی، ابھی ورلڈ کپ چل رہا ہے، آگے ماہرین کے مشورے سے فیصلے کریں گے۔

ذکا اشرف نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں کھلاڑیوں کو بہت بھاری تنخواہیں دی جا رہی ہیں، میری سوچ تھی کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں کھیلنے کے لیے زیادہ پیسے دیں، کھلاڑیوں کو ایک دو لیگز کے لیے اجازت دیں، کھلاڑیوں کو لیگز سے روکیں، نیشنل ڈیوٹی کے لیے استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ کئی پلیئرز نے 25 لاکھ روپے سے بھی زیادہ ڈیمانڈ کی تھی، کھلاڑیوں اور چیف سلیکٹر کے ایجنٹ ایک ہی ہیں تو دیکھیں گے، بورڈ میں ایجنٹس سے متعلق نیا قانون لانا پڑے گا، ایک ایجنٹ کے ایک دو سے زیادہ پلیئرز ہوں گے تو اس کی مونو پلی قائم ہوگی۔

ذکا اشرف نے مزید کہا کہ ہماری کرکٹ جو چل رہی ہے وہ ماڈرن ڈے کرکٹ نہیں ہے، کسی کھلاڑی کو انجری ہو جائے تو اس کے لیے بہت زیادہ سہولت نہیں، پاکستان ٹیم میں فٹنس کے بہت سے مسائل ہیں، جو کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرے اس کو ڈراپ کر دینا چاہیے، ٹیم میں دوستی یاری کا تو نہیں کہہ سکتا لیکن کئی کھلاڑیوں کی فٹنس اور پرفارمنس سامنے ہے، ورلڈ کپ میں ٹیم کی پرفارمنس پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید