آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دریا کنارے کھڑا بوڑھا سپاہی دھاڑیں مارمار کر روتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا کہ:’’مئی کے پہلے ہفتے میں ایسا بادوباراں، ایسی بارشیں میں نے کبھی نہیں دیکھیں‘‘۔ یہ سلطان کی تدفین کے آخری لمحات تھے۔ جنازہ محل سے برآمد ہوا تو انگریزوں نے فتح کے باوجود نڈر اور بہادر حریف کو اس کے شایانِ شان خراج عقیدت پیش کیا۔ انگریز فوج کے چاق و چوبند سپاہی جنازے کے دونوں اطراف چل رہے تھے۔ راستے میں ہزاروں لوگ بلاتفریق ہندو اور مسلمان انتہائے غم میں آہ و زاری کررہے تھے۔ فضا نہایت تاریک اور ڈراؤنی تھی۔ خوف کی وجہ سے آسمان کی طرف دیکھنا ممکن نہ تھا۔ جنازہ لال باغ پہنچا تو قلعہ سے ماتمی توپوں نے سلامی دی لیکن ان کی گھن گرج لوگوں کی آہ و بکا میں دب کررہ گئی۔ آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بجلیاں کڑک رہی تھیں۔ نماز جنازہ شروع کرتے ہوئے امام کے منہ سے ابھی اللہ ہی نکلا تھا کہ ایسا معلوم ہوا جیسے آسمان ٹوٹ کر زمین پر آگرے گا۔ ایک ہیبت ناک کڑاکے کے ساتھ بجلی چمکی اور ایک زور کی روشنی میں سب کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ جسم لرز کر رہ گئے۔ آسمان اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ شیرمیسورٹیپوسلطان کے استقبال کی تیاری کررہا تھا۔
سلطان ٹیپو کی سوانح منفرد ہے۔ صداقت شعار، سادہ اطوار، حلیم الطبع اور صاحب تدبیر۔ زمین پر کھدر بچھا کر

سونے، خود کو عام آدمی سمجھنے، ہروقت باوضو رہنے اور تلاوت قرآن کو معمول رکھنے والا۔ تعصب سے بھری قوم ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کرنے کا الزام سلطان پر لگاتی ہے مگر ثبوت پیش کرنے سے قاصر۔ ثبوت ملتا ہے تو اس بات کا کہ سلطان ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفریق نہ کرتے تھے۔ 150مندروں کو سرکاری خزانے سے امداد ملتی تھی۔ ریاست میں شراب، نشہ آور چیزوں اور شادی بیاہ کی فضول رسموں پر پابندی تھی۔ عربی،فارسی، اردو، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں پر دسترس۔ ہفت زباں حکمران۔ مطالعے کا شوقین۔ ذاتی کتب خانے میں کم و بیش دوہزار کتابیں۔ ہروقت عوام کے معاملات پر توجہ۔ ریاست میں زمینداری ختم کردی۔ زمین کاشتکاروں کو دیدی۔ ریاست میں پہلی مرتبہ بینکوں کا قیام۔ میسور میں وہ خوشحالی تھی کہ ایک انگریز نے دیکھی تو کہہ اٹھا: ’’میسور ہندوستان میں سب سے سرسبز علاقہ ہے۔ یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے۔ میسور کے باشندے ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال ہیں۔ اس کے برعکس انگریز مقبوضات صفحہ عالم پربدنما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔ نپولین نے انگریزوں سے صلح کرلی تھی لیکن ٹیپوسلطان نے بخوشی شہادت قبول کی۔ جنگ کے ہنگام فرانسیسی آفیسر نے شکست دیکھی تو سلطان سے کہا کہ آپ پچھلی طرف سے نکل جائیے میں انگریزوں کو سنبھالتا ہوں۔ سلطان نے کمال دلیری سے وہ تاریخی جملہ کہا جو بہادروں کے طرزفکر کی علامت بن گیا۔ ایک آفاقی جملہ ایک آفاقی سچائی۔ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔
سلطان ٹیپو کی زندگی کے تین اصول تھے۔ آزادی، تعمیرو ترقی اور مذہبی رواداری۔ وہ ہندوستانیوں کے لئے ایک ایسا رول ماڈل تھے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن پچھلے دنوں 26جنوری بھارت کے یوم جمہوریہ کے دن دہلی میں عسکری پریڈ میں سابق میسور اور حالیہ کرناٹک کے ثقافتی ٹیبلو میں جب ٹیپو سلطان کا بڑا مجسمہ دکھایا گیا جس میں وہ تلوار لہرارہے تھے تو پورے ہندوستان میں ہلچل مچ گئی۔ مجسمے کے ساتھ سلطان کے سپاہی تھے جو اسی زمانے کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ ٹیبلو میں سلطان کا نشان شیر بھی موجود تھا۔ ٹیپو سلطان بطور ہیرو، یہ سب کچھ ہندوؤں کی اکثریت کے لئے ناقابل قبول تھا۔ میڈیا میں بحث چھڑگئی۔ بے ربط جملے، بے معنی عبارتیں بڑھتے بڑھتے دل آزار بحث کی شکل اختیار کرگئیں۔ ٹوئٹر پر ایک طویل مناظرہ چھڑگیا جس کی گونج بھارتی میڈیا سے ہوتی بی بی سی تک پہنچ گئی۔ دس ہزار سے زائد تبصرے اب تک درج ہوچکے ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیے:’’حیدر علی ایران سے آیاتھا اور حملہ آور تھا۔ ٹیپو اس کا بیٹا تھا۔ یہ لوگ ہندوستانی نہیں تھے۔ اگر ٹیپو کو ہیرو مان لیں تو پھر بابر، محمودغزنوی، نادرشاہ اور محمد بن قاسم کو بھی ہیرو ماننا پڑے گا‘‘
’’تم لوگ تاریخ نہیں بدل سکتے۔ اس نے مادروطن کا دفاع کیا۔ اس کے برعکس نظام اور مرہٹے انگریزوں کا ساتھ دیتے رہے اور ان کی مدد سے انگریز قابض ہوئے‘‘
’’جو ٹیپو کو ہیرو بناکر پیش کررہے ہیں انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ اس نے ہزاروں ہندوؤں کو قتل کیا، مندر جلادئے اور آج ہم اسے اس لیے ہیرو مان لیں کہ وہ تمھارے فرقے سے تھا‘‘۔ یہ ایک طویل بحث ہے جو 26جنوری سے پورے بھارت میں چل رہی ہے۔ ہزاروں لوگ ٹوئٹر کے ذریعے اس بحث میں شریک ہیں جن میں صرف پندرہ فیصد ٹیپو سلطان کے حامی ہیں باقی بدترین مخالف۔ ہندوستان کے معروف اخبار’’ہندو‘‘ کے مطابق: ’’ٹیپوسلطان کی وراثت کی بابت بے لگام لفظی جنگ جاری ہے جو بعض اوقات انتہائی نچلی سطح گالم گلوچ تک جاپہنچی ہے‘‘۔
کسی بھی دوسرے حکمران نے انگریوں کو اتنا پریشان نہیں کیا جتنا ٹیپو سلطان نے لیکن آج ہندوستان کی آزادی کے لئے لڑنے والے اس عظیم مجاہد کی اولاد ہندوستان میں پریشانی، فاقہ کشی اور افلاس کا استعارہ ہے۔ سلطان کے خاندان کے افراد میں کوئی رکشہ چلارہا ہے کوئی ڈھابہ اور کوئی در در کی ٹھوکریں کھارہاہے۔ ہزار برس کی غلامی کا بدلہ چکاتے یہ منتقم مزاج ہندو سماج کا رویہ ہے جسے دیکھیں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کا فیصلہ درست تھا کہ مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ قائداعظم علیہ رحمہ نے فرمایا تھا: ’’ہندو اور مسلمان تاریخ کے جن سرچشموں سے قوت لیتے ہیں وہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔ ان کے ہیرو الگ ہمارے ہیروالگ ہیں۔ ان کا کیلنڈر الگ ہمارا کیلنڈر لاگ۔ ان کی عبادات الگ ہماری الگ۔ وہ گائے کی پوجا کرتے ہیں ہم گائے کھاتے ہیں‘‘۔ آزادی کے 66برس بعد بھی کچھ نہیں بدلا آج بھی سب کچھ ایسا ہی ہے۔ ان حقائق کے ادراک کے باوجود قائداعظم علیہ رحمہ پاک بھارت دوستی چاہتے تھے کیونکہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے بغیر خطے کے لوگوں کی حالت نہیں بدل سکتی۔ وزیراعظم نوازشریف بھی شدت سے بھارت سے دوستی کے خواہشمند ہیں لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ممبئی حملوں کے بعد بھارتی فوج اور اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بھارتی میڈیا بھی پاکستان دشمنی میں دیوانہ ہوگیا ہے جس نے بھارتی عوام میں ایسا تکبر اور رعونت پیدا کردی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ دوستی پاکستان کو بھیک کے طور پر دی جارہی ہے۔ حالیہ تجارتی پیشرفت کو دیکھ لیجئے اُس طرف وہ جوش و خروش نہیں ہے جو یہاں پایا جاتا ہے۔ لکھ رکھئے کہ اس تجارت کے نتیجے میں بھارت ہم سے بہت کچھ لے لے گا لیکن ہمیں فائدہ اٹھانے کے محدود مواقع مہیا کرے گا۔
1929ء میں شاعر مشرق علامہ اقبال ٹیپو سلطان کے مزار میں داخل ہوئے تو تین گھنٹوں سے پہلے باہر نہ آسکے۔ باہر آئے تو گریہ مسلسل سے آنکھیں سرخ تھیں۔ یہی شاعرمشرق علامہ اقبال تھے جنہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور ہم نے اس فکری محاذ پر وہ جنگ لڑی کہ دنیا کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ پاکستان کا قیام اس لئے ممکن ہوا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آسکے جو اسلامی تہذیب اور اسلامی تشخص پر اصرار کرتا ہو لیکن آج پاکستانی سماج بکھررہا ہے۔ کیا ملک، کیا ریاست، کیا نظریہ۔ ہم نے اپنا سب کچھ فراموش کردیا ہے حتی کہ ہیروز بھی۔ ہماری نصابی کتب میں ٹیپوسلطان، محمود غزنوی اور دیگر ہیروز کا ذکر خارج ہے۔ دریا کے کنارے کھڑا بوڑھا آج بھی دھاڑیں مار مار کر رورہا ہے۔ 4مئی1799ء ٹیپوسلطان کا یوم شہادت ہے۔ 4مئی آتا ہے پاکستان کے میڈیا اور اخبارات کو یاد نہیں رہتا۔ ہمارے آسمانوں پر اس بجلی نے کڑکنا بند کردیا ہے جو ٹیپوسلطان اور دوسرے مجاہدین کے جاہ و جلال سے معمورتھی۔ ہندوستانی تاریخ سے سرٹکرارہے ہیں لیکن ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنی تاریخ ہی فراموش کربیٹھے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں