• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے، خالد مقبول صدیقی

اسکرین گریب/ جیو نیوز یوٹیوب
اسکرین گریب/ جیو نیوز یوٹیوب 

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کل سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے؟ کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے، جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شریک جرم ہے، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھےکیا وہ سندھودیش کےحامی ہیں؟ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ ہےجنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، جو سلوک 50 سالوں سے شہری علاقوں کے ساتھ جاری ہے کیا اس کی مثال کہیں اور ہے؟ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں سب سے زیادہ غربت بڑھنے کی شرح سندھ میں ہے۔

چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ مطالبہ کرتے ہیں آئین زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واحد ایم کیو ایم نے 10 کے بجائے 5 سال کے اندر دو مردم شماری کروائیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بےوفائی کر رہی ہے، آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہے جو پورے پاکستان کیلئے ہے، آئین ہی ہمیں پر امن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے، انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو 7 ڈسٹرکٹ میں تقسیم کس نے کیا، پیپلز پارٹی پہلے ہی کراچی کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکی ہے، آئین کا آرٹیکل 48 کی شق 6 کسی بھی علاقے میں ریفرنڈم کا بھی اختیار دیتی ہے، یہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہی، ہم ایک بار پھر توہین عدالت کی پٹیشن میں جائیں گے۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔

انہوں نے مردم شماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کو 37 فیصد کم گنا گیا،  صدر اور سابق چیف جسٹس اس شہر کی آبادی 4 کروڑ بتا چکے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، بانی ایم کیو ایم نے ایک نعرہ لگایا ہم نے اس کو چھوڑ دیا، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو صوبے کے حوالے سے ہم نے قبول کیا ہوا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 72 سال قبل کوٹہ سسٹم لگایا گیا تھا، کوٹے کے تحت کبھی کسی ہاری کو تعلیم نہیں ملی،  پاکستان میں سب سے زیادہ غربت سندھ میں بڑھی ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنے چاہیے تھے،  وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے سندھ حکومت عیاشی پر خرچ کرتی ہے،  پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید