ایسے وقت، کہ مرکز میں معلّق پارلیمنٹ وجود میں آنے کی کیفیت ایک مخلوط حکومت کی ضرورت واضح کررہی ہے، مسلم لیگ(ن) کی نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی یہ وضاحت اہم ہے کہ میاں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ قبول نہ کرنے کا مطلب ان کی سیاست سے کنارہ کشی نہیں۔ منقسم مینڈیٹ کی صورت حال میں یہ دانشمندانہ فیصلہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے قائد آزادذہن کے ساتھ مخلوط حکومت کی نگرانی کریں اور اسے زیادہ مستحکم ، مربوط، فعال کرنے میں کردار ادا کریں۔ نواز شریف حالیہ الیکشن میں حصہ لینے کیلئے وطن واپس آئے تھے تو ان کا مقصد سیاست میں حصہ لینا ہی تھا۔ انتخابی نتائج کی صورت حال گمبھیر نہ ہوتی تو خیال یہی تھا کہ وہ وفاق میں حکومت کی قیادت خو دکرتے مگر ہر فرد کاکام کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ایسے حالات میں کہ مخلوط حکومت میں شامل پارٹیوں کی شرائط اور مطالبات کو پیش نظررکھ کر فیصلے کرنے ہوں، ان کے لئے اپنی سوچ کے مطابق آزادی سے آگے بڑھنا ممکن نہ ہوتا جبکہ حکومت کا بوجھ براہ راست قبول کئے بغیر ان کے لئے یہ زیادہ آسان ہوگا کہ پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کی نگرانی وسرپرستی کریں اور وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں ان حکومتوں کی رہنمائی کریں اس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نئی حکومت کی توانائیاں اور پرانی قیادت کی بصیرت مل کر بہتر نتائج دینگے۔ انتخابات کے بعد کے منظر نامے میں پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی میں مدد دینے کی جو پیش کش کی گئی اسے ملک کو غیر یقینی صورت حال سے نکالنے کی ایک سنجیدہ کوشش کہا جاسکتا ہے تاہم دونوں جماعتیں اگر مخلوط حکومت کا حصہ ہوتیں تو قوانین کو منظور کرانے سمیت متعدد امور میں آسانیاں پیدا ہوجاتیں۔ اس باب میں منعقدہ پہلے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری سے نجات دلانے کے لئے مستحکم حکومت کی ضرورت ہے ۔یہ اشارے بھی حوصلہ افزا ہیں کہ سیاسی، معاشی اور دیگر میدانوں میں ایسے میثاق کئے جائیں جن سے حکومتوں کی تبدیلیاں بنیادی پالیسیوں کو راہ سے ہٹانے کا ذریعہ نہ بنیں۔ایک طرف یہ پیش رفت ہے۔ دوسری طرف سندھ میں گرینڈنیشنل الائنس سمیت کئی پارٹیوں کے انتخابی نتائج پر تحفظات پر مبنی سرحد و بلوچستان سے آنے والی آوازوں میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی آواز بھی شامل ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اگلی تحریک کا شیڈول اور طریق کار جماعت کی مشاورت سے جاری کریں گے،الیکشن کمیشن یرغمال بنا رہا، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے، ن لیگ بھی ہمارے ساتھ اپوزیشن میں آجائے قبل ازیں نگراں وزیر اعظم اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ جن پارٹیوں کو انتخابی بےضابطگیوں کی شکایات ہیں ان کے لئے قانونی راستے کھلے ہیں، مگر حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے مل جل کر ملک کے مفاد میں سر نہ جوڑا تو سیاسی درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔ اس باب میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی دل بڑا کرکے دوسری پارٹیوں سے مشاورت کرنی چاہیے اور ملکی مفاد میں راہ عمل کا تعین کرناچاہیے ۔ صدر ن لیگ شہباز شریف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کو حکومت سازی کیلئے مطلوب ارکان کی حمایت حاصل ہے تو وہ اپنی حکومت قائم کرلے، ن لیگ کو اپوزیشن میں بیٹھنے میں عار نہ ہوگا۔ درپیش صورتحال سہل نہیں۔ سول سوسائٹی کے رہنمائوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات میں بہتری لانے کے لئے مختلف الخیال اور شاکی قیادتوں کو ایک مقام پر جمع کرکے کسی اتفاق رائے پر لانے کی سعی کریں۔