• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زرِمبادلہ منڈی میں استحکام کا کریڈٹ آرمی چیف اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے

انٹرویو: لیاقت علی جتوئی

جنگ: پراچہ صاحب، آپ کے وقت کا بہت شکریہ۔ سب سے پہلے ہمارے قارئین کے لیے بتائیں کہ اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر زرِمبادلہ منڈی اور خاص طور پر ڈالر کی شرحِ تبادلہ اور دستیابی کی کیا صورتِ حال ہے؟

محمد ظفر پراچہ: بہت شکریہ آپ کا۔ اس وقت پاکستان کی زرِمبادلہ مارکیٹ کے حوالے سے سب سے خوش آئندہ بات یہ ہے کہ گزشتہ مہینوں کے دوران اوپن مارکیٹ اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی شرحِ تبادلہ کے درمیان جو فرق تھا وہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔یہ فرق ایک وقت میں 20سے 25روپے تک بڑھ گیا تھا جوکہ انتہائی تشویش ناک تھا۔ اس کے بعد آرمی چیف اور ان کی ٹیم کی طرف سے ہنگامی طور پر سخت انتظامی لیے، جن کے نتیجے میں زرِمبادلہ مارکیٹ میں استحکام آیا، اس لیے اس کا سارا کریڈٹ آرمی چیف اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ 

میں آپ کے قارئین کو یہ بات بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ انتظامی اقدامات صرف زرِمبادلہ مارکیٹ تک ہی محدود نہیں تھے، بلکہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ، بارڈر اسمگلنگ اور مختلف اشیا جیسے یوریا کھاد، گندم اور چینی وغیرہ کی اسمگلنگ کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں معیشت پر دور رس نتائج مرتب ہوئے، ناصرف ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں کمی آئی بلکہ مہنگائی قابو میں آئی، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں بہتری آئی ۔ ان تمام عوامل کے پیشِ نظر میں سمجھتا ہوں کہ ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں آنے والے دنوں میں مزید کمی آئے گی۔

جنگ: پراچہ صاحب آپ نے ڈالر کی قیمت میں کمی کی ایک اچھی خبر سُنائی ہے۔ یہ بتائیے کہ حکومت، آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے آخری اور حتمی جائزے کو بھی کامیابی سے مکمل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور پاکستان آنے والی آئی ایم ایف کی ٹیم مطمئن ہوکر واپس گئی ہے۔ اس کے بعد توقع ہے کہ آئی ایم ایف کا بورڈ پروگرام کی آخری قسط جاری کردے گا۔ اس پیشرفت کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

محمد ظفر پراچہ: آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی معیشت کا جائزہ کامیابی سے مکمل کرنا یقیناً ایک اچھی بات ہے اور اب تو ہم ایک نئے طویل مدتی اور بڑے پروگرام کی بات کررہے ہیں۔ اگر ہم گزشتہ پی ڈی ایم دورِ حکومت کی بات کریں تو اس وقت ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے لیے مذاکرات شروع کرنے میں بڑے مسائل کا سامنا تھا۔

اس وقت وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کو بذاتِ خود کوششیں کرنا پڑی تھیں، اس کے باوجود آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آنے کی تیار نہیں تھی کیوں کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر بھی چل رہی تھی، ایسے میں ہماری معاشی ٹیم کو ان کے پاس جانا پڑا تھا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ملک دشمن قوتیں اور کئی تجزیہ کار بھی اس خدشہ کا اظہار کررہے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا۔

آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کافی بڑھی اور میرا خیال ہے کہ نئے پروگرام کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہم اس کا بھی طریقہ نکال سکتے ہیں۔ ملک کی ایلیٹ کلاس سالانہ تقریباً 18ارب ڈالر کی سبسڈیز حاصل کرتی ہے، اگر ہم ان سبسڈیز میں 50فی صد کٹوتی کردیں تو آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے توانائی کے نرخ بڑھانے اور دیگر عوام دشمن اقدامات سے بچا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے اور آئی پی پیز کی کیپیسٹی پے منٹ کے مسئلے کو حل کرنے کےلیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ریاست کے زیرِ ملکیت اداروں (SOEs)کی یا تو نجکاری کردی جائے یا انھیں پبلک۔پرائیویٹ طریقہ کار کے تحت چلایا جائے۔ ساتھ ہی حکومت کو اب این ایف سی ایوارڈ کا بھی ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا، جس کا آئی ایم ایف نے بھی مطالبہ کیا ہے۔

جنگ: آپ نے ملک کی معیشت کو درپیش اہم مسائل کا مختصراً جائزہ اور ان کا ممکنہ حل حکومت کے سامنے رکھ دیا ہے۔ نئی حکومت کی سمت کے بارے میں آپ کی ابتدائی رائے کیا ہے؟

محمد ظفر پراچہ: میری رائے یہ ہے کہ گزشتہ پی ڈی ایم حکومت نے جس حالت میں ملکی معیشت نگراں حکومت کے حوالے کی تھی، نگراں حکومت اپنی مؤثر پالیسیوں کے نتیجے میں اس میں بڑی حد تک بہتری لانے میں کامیاب رہی اورنگراں حکومت نے نئی حکومت کو ملکی معیشت کافی بہتر حالت میں دی ہے۔ نئی حکومت بھی اب یہی کہہ رہی ہے وہ ملکی معیشت میں بہتری کے لیے ہر حد تک جائے گی۔ فی الحال تو یہ باتیں ہیں، آنے والا وقت بتائے گا کہ حکومت معیشت میں بہتری کے لیے ضروری اقدامات لے پائے گی یا اہم معاملات پر سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو جائے گی۔

جنگ: اگر میں یہ کہوں کہ ملکی معیشت کی بحال کے لیے حکومت بھی بڑی پرعزم نظر آتی ہے۔ اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ لگانا مسلم لیگ ن کا استحقاق تھا اور وہ اسحاق ڈار کو دوبارہ یہ ذمہ داری دے سکتی تھی لیکن اس نے سیاسی مفاد سے بالاتر ہوکر کارپوریٹ سیکٹر سے ایک معتبر شخصیت کو وزیرِ خزانہ لگایا ہے اور انھیں فری ہینڈ دینے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔ آپ کیا کہیں گے؟

محمد ظفر پراچہ: جی یقیناً یہ ایک انتہائی اہم اور مثبت فیصلہ ہے کہ معاشی بحالی کے لیے اتحادی حکومت نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر نجی شعبے سے ایک پروفیشنل کو وزیرِ خزانہ لگایا ہے۔ ساتھ ہی وزیرِ داخلہ کے لیے محسن نقوی کا انتخاب بھی بہت اچھا فیصلہ ہے، جنھوں نے بطور نگراں وزیرِ اعلیٰ صوبہ پنجاب کو بہت اچھا چلایا۔ میرا خیال ہے کہ اگر اہم معاملات پر نگراں حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھا جاتا ہے تو انتہائی حوصلہ افزا نتائج کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

خاص طور پر SIFCکے تحت کارپوریٹ فارمنگ اور اربوں ڈالر کی دیگر سرمایہ کاری کے لیے جن MOUsپر دستخط ہوئے ہیں، جن کے بارے میں توقع تھی کہ نگراں حکومت کے دور میں ہی شروع ہوجائیں گے لیکن شروع نہ ہوسکے، نئی حکومت کو ان معاہدوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔ نئے وزیر خزانہ نے بھی حوصلہ افزا بیان دیا ہے کہ وہ قرض کے بجائے نئی سرمایہ کاری لانے پر کام کریں گے۔

جنگ: ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے حکومت کو کیا اقداما ت کرنے چاہئیں؟

محمد ظفر پراچہ: حکومت کو فارن ایکس چینج کمپنیز اور اوورسیز پاکستانیوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری کا درجہ دینا چاہیے۔ ہماری روایتی ایکسپورٹ انڈسٹریز 35-30فی صد کی سبسڈیز لیتی ہیں لیکن اس باوجود گزشتہ کئی برس سے ہماری ایکسپورٹس ایک جگہ رُکی ہوئی ہیں۔ ہم حکومت سے بغیر کوئی سبسڈی لیے اربوں ڈالرسالانہ قومی خزانہ میں ڈالر رہے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

میرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اگر وہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ہر اووسیز پاکستانی کو براہِ راست پانچ فی صد کی سبسڈی بھی دے تو وہ چند اضافی روپوں کے لیے غیر ضابطہ طریقوں سے ترسیلات زربھیجنا ترک کردیں گے اور سارا زرمبادلہ باضابطہ چینلز سے بھیجیں گے، جس سے ترسیلاتِ زر میں کئی ارب ڈالر کا مزید اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی میں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کروں گا کہ فاریکس کمپنیاں ایک انتہائی اوور۔ریگولیٹڈ ماحول میں کام کررہی ہیں، جس پر نظرِ ثانی کرنا ضروری ہے۔

جنگ: یومِ پاکستان کے موقع پر آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

محمد ظفر پراچہ: پورے پاکستان کے لیے میرا پیغام یہ ہوگا کہ ہم سب کو اپنے حقوق کا ہر وقت بڑا خیال رہتا ہےاور اس کے لیے ہر وقت آواز اُٹھاتے ہیں کہ ہمیں ہمارے حقوق دو۔ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ہماری کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جن کی ہماری ریاست ہم سے متقاضی ہے۔ میری سب سے درخواست ہے کہ خدارا ملک دشمن قوتوں کے پراپیگنڈے میں نہ آئیں، اپنے ملک، اپنی افواج کی قدر کریں۔ یہ ملک وسائل اور صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ اگر ہم سب ملکر نیک نیتی سے ملک کی بہتری کے لیے کام کریں تو یہ ملک بہت آگے جاسکتا ہے۔