آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ ادارے کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ ہر کوئی ماضی کے ریکارڈ توڑنے میں لگا ہوا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب ہمارے ہاں ریکارڈ بنانے والے ہوا کرتے تھے تو ہم نے پاکستان بنالیا اور پھر جب ریکارڈ توڑنے والوں نے پَر پُرزے نکالے تو پاکستان ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد ایسی توڑ پھوڑ شروع ہوئی کہ ہر کوئی ریکارڈ توڑنے میں لگ گیا۔ آئین توڑنا تو ایک عرصہ تک فیشن بنا رہا جبکہ اسمبلیاں توڑنا بھی خاصا مقبول کھیل رہ چکا ہے اس حوالے سے محترمہ بینظیر بھٹو کا ایک جملہ بہت ہی دلچسپ تھا جو غلام اسحٰق خان صاحب کے بارے میں انہوں نے اپنی اسمبلی کے ٹوٹنے پر کہا تھا کہ جو شخص اخروٹ نہیں توڑ سکتا اس نے قومی اسمبلی توڑ دی۔اخروٹ سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں پنجاب یوتھ فیسٹیول میں محمد راشد نے پیشانی سے ایک منٹ میں 155 اخروٹ توڑ کر امریکہ کا وہ ریکارڈ توڑ دیا جو ایک منٹ میں چالیس اخروٹ کا تھا، ٹی وی کے کسی پروگرام میں ایک شخص نے اپنے سر پر تقریباً اسی نوے ناریل ایک منٹ میں باری باری تڑوائے اس میں تشویش کا پہلو بھی تھا کہ وہ ناریل تلوار سے توڑے گئے تھے لیکن اطمینان آمیز پہلو یہ تھا کہ ورلڈ ریکارڈ ٹوٹ گیا، پنجاب یوتھ فیسٹیول میں قریب قریب گیارہ عالمی ریکارڈ توڑے

گئے۔گینز بک ورلڈ ریکارڈ کا عملہ جو اپنی گینز سمیت لاہور کے فیسٹیول میں پہنچا ہوا تھا وہ بار بار حیرت سے انگلیاں دانتوں میں دبالیتا تھا جتنی دفعہ ریکارڈ ٹوٹتا رہا اسی رفتار سے وہ حیران ہوتے رہے سب سے زیادہ عالمی ریکارڈ پش اپ اور پل اپ (Push Up and Pull Up) میں توڑے گئے۔ اگر لیگ پلنگ (leg Pulling) کا مقابلہ ہوتا تو ہمارے ہاں اس ریکارڈ کو بہت بری طرح توڑا جانا تھا ویسے تو دنیا میں بیس سال تک مسلسل نہ نہانے کا ریکارڈ ایک افریقی کا ہے مگر جس تیزی سے وفاقی دارالحکومت میں گھروں میں پانی کی سپلائی بتدریج کم ہوتی جارہی ہے اگلے چند برسوں میں اسلام آباد بھی گینز بک میں آجائے گا۔ ادھر لاہور کے صادق علی حجام نے ایک وقت میں 13 قینچیوں سے ہیئر کٹنگ کرکے اسرائیلی حجام کا 10 قینچیوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ہم ذاتی طور سے کسی قسم کی توڑ پھوڑ کے حق میں نہیں ہیں لیکن بھارت اور اسرائیل کے جب ریکارڈ ٹوٹتے ہیں تو مزہ آتا ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں بگ تھری کا مان بھی ہم نے توڑا اس قسم کی توڑ پھوڑ بہت ہی اچھی لگتی ہے۔
دنیا کے کسی ملک نے اپنے قومی ادارے برباد کرنے کا ریکارڈ نہیں بنایا وگرنہ ہم ریلوے، پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی مثالیں پیش کرکے ان کا ریکارڈ توڑ دیتے اور کسی ملک نے اپنے مشاہیر کو بھی رسوا نہیں کیا اس لئے ہم وہ ریکارڈ بھی توڑنے سے محروم رہے، سیاست کی دنیا میں عمران خان 98 دن تک طویل دھرنا دے کر اتحادی افواج کی سپلائی تو نہ روک سکے کیونکہ بقول ناصر کاظمی: بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے، البتہ ماضی کے دھرنوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ عمران خان دراصل 66 فٹ لمبی اور 10 فٹ چوڑی پچ (Pitch) کے کھلاڑی ہیں جبکہ سیاست بہت بڑا میدان ہے دھیرے دھیرے خان صاحب کو سمجھ آرہی ہے لیکن کیا فائدہ اب تو پلوںکے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے۔ جمشید دستی کسی کی شہ پر سہی پوری دیانت سے پارلیمنٹ لاجز سے خالی بوتلیں اکٹھی کرنے اور انہیں توڑنے میں مصروف ہیں کون سی بوتل سے کس نے منہ لگایا ان کے پاس ثبوت ہیں شاید بوتلوں کا DNA کرایا ہوا ہو بہت سی بوتلیں وہ مختلف چینلز پر پہنچا آئے کچھ اسپیکر قومی اسمبلی کی خدمت میں پیش کردیں بوری بھر کے اپنے حلقے میں بھی لے گئے تاکہ نشئی غریب غرباء جو بوتل خرید نہیں سکتے وہ سونگھ کر دل پشوری کرتے رہیں۔ جمشید دستی کی محنت کا ثمر عالی مرتبت جنرل پرویز مشرف صاحب کی طرح ایویں ای اٹکل پچو میں گم ہوجائے گا جس طرح عالی مرتبت خالی پیلی اپنے قافلے کے ساتھ اسلام آباد میں گھوم پھر کر زندگی کے دن پورے کرجائیں گے۔ اسی طرح دستی صاحب بھی شیخ رشید کی طرح بھینس پالے بغیر دودھ پیتے رہیں گے۔جنرل پرویز مشرف صاحب کے بارے میں خبر ہے کہ وہ بہت جلد کسی ملکانی سے شادی کرنے والے ہیں۔ بات ریکارڈ توڑنے کی ہورہی تھی موجودہ وفاقی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کا ایک ریکارڈ بھی توڑا ہے وہ اس طرح کہ بھٹو صاحب کی کابینہ میں ایک وزیر بے محکمہ تھا جس کا نام خورشید حسن میر تھا جبکہ ڈاکٹر میاں صاحب کی کابینہ میں دو بے محکمہ وزیر ہیں جن کا تعلق جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمن گروپ سے ہے۔
سندھی دنیا کی وہ واحد زبان ہے جس میں سب سے پہلے قرآن مجید کا ترجمہ ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں سندھ فیسٹیول بھی بہت دھوم دھڑکے سے ہوا پیپلز پارٹی کی جواں فکر قیادت بلاول بھٹو زرداری نے امریکی ناول نگار چک پلاہا نیوک (Chuk Palah Niuk) کا قول کہیں پڑھ لیا تھا کہ ’’اگر اپنی دنیا کو کنٹرول کرنا ہے تو پہلے اپنا کلچر کنٹرول کرو‘‘ لہٰذا سندھ گورنمنٹ نے اربوں روپیہ خرچ کرکے بلاول بھٹو زرداری کی ولولہ انگیز شخصیت کے ذریعے سندھ فیسٹیول میں سندھی ثقافت کو اجاگر کیا ہے، اس فیسٹیول میں بھی بہت سے ریکارڈ توڑے گئے جن کی تفصیل میں پھر کبھی جائوں گا، گینز بک ورلڈ ریکارڈ والے جب پاکستان کے مختلف شہروں میں بتیاں دیکھنے نکلے تو اکثر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ تھی سی این جی اسٹیشنوں پر بل کھاتی دور تلک کاروں ویگنوں اور رکشوں کی قطاریں دیکھ کر وہ ان مناظر کو اپنی بین الاقوامی کتاب میں اس لئے شامل نہ کرسکے کہ اس سے پہلے دنیا میں کسی بھی ملک نے ایسا ریکارڈ نہیں بنایا تھا جسے توڑا جاتا۔
اسلام آباد ویسے تو سارے کا سارا ریڈ زون ہے اس لئے نہیں کہ وہ وفاقی دارالحکومت ہے بلکہ اس لئے کہ اس کی اپنی ثقافت ہے رہتل ہے بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں جنازوں کو کندھا دینے کیلئے چوتھا آدمی نہیں ملتا۔ وہ علاقے وزیروں مشیروں اور سفیروں کے ہیں جہاں چڑیا کو پر کھولنے کی اجازت نہیں، پتہ نہیں جمشید دستی کو ان علاقوں میں غیر اخلاقی سرگرمیاں کیسے دکھائی دے گئیں اور اسلام آباد کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کبھی سکندر اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ ہوائی فائرنگ کرتا دکھائی دیتا ہے اور کبھی 3 مارچ کو صبح آٹھ بجے دس بارہ کلاشنکوف والے درجن بھر لینڈ کروزوں میں آتے ہیں۔ عدلیہ وکلا اور موکلوں و دیگر کئی بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا کر چلے جاتے ہیں موقع واردات پر ایس ایس پی ڈیڑھ گھنٹے بعد ڈپٹی کمشنر دو گھنٹے بعد اور سیکریٹری داخلہ کو وہاں جانے کی کلیئرنس ہی نہ ملی دکھ اور ملال اپنی جگہ کرب اور تاسف بجا مگر یہاں بھی پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ ریکارڈ توڑنے میں لگے رہے، دہشت گرد کلاشنکوف لئے ہوئے تھے جبکہ ان کے جانے کے بعد پولیس نے پستولوں سے ہوائی فائرنگ کی بندوقیں خراب تھیں اگر کوئی ٹھیک بھی تھی گولیاں نہیں تھیں تھانوں میں کھڑی گاڑیوں میں پٹرول نہیں تھا، کچہری میں داخلی دروازوں کے حساس آلات خراب تھے عدلیہ اور وکلاء عدم تحفظ اور انتظامیہ وسائل کی عدم دستیابی کا شکار تھی، ایسی بے بسی کم ہمتی اور لاچاری یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ نیرو نے جلتے ہوئے روم پر محض بانسری بجائی تھی ہم نے جلتے ہوئے ملک پر بڑے بڑے فیسٹیول کر ڈالے ایسا کرکے ہم نے نیرو کا ریکارڈ توڑا ہے آپس کی بات ہے، بات ہے تو رسوائی کی مگر حوصلہ افزائی تو کی جانی چاہئے کہ کراچی جل رہا ہے، اسلام آباد بے چارگی کا شکار ہے بلوچستان کسمپرسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ خیبر پختونخواہ طالبانی جہنم میں پڑا ہوا ہے پاکستانی عوام توپ کے دہانے پر بندھے ہوئے ہیں اور ملک کی دونوں بڑی جماعتیں فیسٹیول مناکر مختلف ریکارڈ توڑنے میں لگی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں