آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آمنہ بہت غیرت مند لڑکی تھی۔ بے حرمتی کی زندگی گوارا نہ کی اور مر گئی ہر چند کہ اس طرح موت کو گلے لگانے کی ہمارے دین اسلام میں ممانعت ہے بلکہ بہت ہی سخت لفظوں میں منع فرمایا گیا ہے مگر میاں محمد صاحب نے کہا تھا کہ لسے دا کی زور محمد نس جانا یا رونا یعنی کمزور اور بے بس رو پڑتا ہے یا بھاگ جاتا ہے۔ آمنہ نے راہ فرار کا یہی طریقہ بہتر جانا ہوگا حالانکہ موت کو گلے لگانا اور اذیت ناک طریقے سے تو بہت ہی مشکل کام ہے۔ آمنہ ہمارے بھلا مانس معاشرے کے منہ پر چپیڑ مار کر خود تو جل مری ساتھ ہمیں بھی مار گئی، ہمارا جینا بھی کوئی زندگی ہے۔ سوچتا ہوں مرنے والی پر مغفرت کروں یا انتظامیہ پر لعنت، دونوں کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔ ایک طرف اسلامی قیود کی ان دیکھی دیواریں تو دوسری طرف روایتی بے حسی۔ تازہ خبر یہ ہے کہ مظفر گڑھ خود سوزی کیس میں سستی برتنے اور مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے فرار پولیس والوں میں سے DSP جتوئی عبدالطیف کانجو اور ایس ایچ او مظفر گڑھ شہر سلطان کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہDSPاصغر اور تھانہ ہزار خان کے شاہد حسن ابھی تک فرار ہے۔ کہاں چلے گئے کوئی پتہ نہیں، حیرت ہے سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ زمین کے اندر کنکریٹ کی تہوں میں بھی پتہ چل جاتا ہے، ڈیجیٹل میپنگ کا زمانہ ہے ۔
33خفیہ ادارے ہیں ہمارے جن کے

پاس جدید ترین سہولتیں موجود ہیں۔پھر بھی مفرور پولیس والے نہیں پکڑے جاتے، کیا ہوتا جا رہا ہے اداروں کو لوگوں کو اور ملکوں کو، ادھر ملائیشیا کا طیارہ نہیں مل رہا ،ادھر پولیس والے غائب ہیں ،چند دن پہلے امریکہ کے سائنس دانوں نے دنیا کی تخلیق کا وہ پہلا سیکنڈ پکڑ لیا ہے جس کے بارے میں مزید شواہد ملے ہیں یہ وہ لمحہ پکڑا گیا ہے جب دنیا وجود میں آئی تھی امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ’’بگ بینگ‘‘ تھیوری کے مطابق آسمان میں خلا کے انتہائی تیزی سے پھیلائو کا ایک نشان ملا ہے جو لازم فرض کر لیا گیا ہے کہ کائنات کی تخلیق کے لمحے میں ہی وجود میں آیا ہو گا ۔اب ایک طرف تحقیق اور تفتیش کا یہ عالم اور دوسری طرف ملائیشیا کا طیارہ نہیں مل رہا اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے کیمیائی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ طیارہ سمندر میں نہ گرا اور نہ ہی زمین سے ٹکرایا اقوام متحدہ کے سی ٹی بی ٹی نے جواب دے دیا ہے۔
جب دنیا کی ساری ٹیکنالوجی اور سیسمک سینٹر بھی لاجواب ہو گئے تو پھر وہ طیارہ پاکستان پر ڈال دیا گیا اسے ہماری خوش قسمتی جانیں کہ پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی سینٹر میں ہیلی پیڈ کے علاوہ کوئی رن وے نہیں ہے وگرنہ دنیا کو شک ہو جانا تھا کہ وہ طیارہ کہوٹہ میں موجود ہے پھر ایبٹ آباد ٹائپ آپریشن ہوتا یا بین الاقوامی اٹامک انرجی کمیشن کے انسپکٹر وہاں اتار دیئے جاتے لیکن وہاں کامیابی اس لئے ممکن نہیں ہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار ہاتھ ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں جس طرح آج کل عالی مرتبت جنرل پرویز مشرف صاحب کے پڑے ہوئے ہیں۔ عالی مرتبت کے دیرینہ دوست ان کی ممبر کیبنٹ اور انہی کی طرح ون مین پارٹی کے سربراہ جناب شیخ رشید نے جنرل پرویز مشرف کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ ضد کے بجائے کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں، شیخ صاحب کے مشورے سے پہلے ہی وہ ایک درمیانی اور غیر جانبدار جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ اگر عدالت نہیں جاتے تو گھر میں بھی تو نہیں ہیں، ایک تیسری جگہ اسپتال میں ہیں اور اگر شیخ صاحب جنرل صاحب کے گھر اور عدالت کے درمیان کسی جگہ کا ذکر اشاروں کنائیوں میں کر رہے ہیں تو پھر ان دونوں جگہوں کے درمیان راول ڈیم پڑتا ہے جو آج پانی سے بھرا ہوا ہے لیکن جن کے اندر احساس انگڑائیاں لے رہا ہو ان کے لئے ڈیم نہیں چلو بھر پانی ہی کافی ہوتا ہے۔
اسلام آباد کی انتظامیہ تو گھروں کے لئے چلو بھر پانی بھی نہیں کھولتی اور پانی کا بل بھی لے لیتی ہے یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے لوڈ شیڈنگ کے دنوں میں گیس اور بجلی کے بل زیادہ آتے ہیں، یہی نہیں ہمارے ہاں بہت کاموں اور اداروں میں کرامتیں وقوع پذیر ہو رہی ہیں مثلاً ڈیڑھ ارب ڈالر کسی دوست ملک نے تحفہ دیا اصولی طور پر اس کے اثرات مثبت طریقے سے نیچے تک آنے چاہئیں۔ اشیاء خوردونوش سستی ہونا چاہئے مگر کل ایل پی جی کی قیمتوں میں پانچ روپے کلو اضافہ کر دیا گیا ہے۔ 30جون تک3ارب ڈالر ملنے سے ہمارا روپیہ تو مستحکم ہو جائے گا مگر عوام تو روز بروز کمزور پڑ رہے ہیں۔ سچی بات ہے مجھے آنے والے وقت سے ہول آ رہا ہے کیونکہ ابھی 24مارچ کو آئی ایم ایف نے اپنے پیکیج کے500ملین ڈالر کی نئی قسط بھی دینی ہے،موجودہ مالی سال ختم ہوتے ہی 30جون تک عالمی بینک آئی ڈی اے کے تناظر میں ایک بلین ڈالر فراہم کرے گا موجودہ مالی سال کے پہلے تین ماہ میں ہماری برآمدات میں بھی اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھی ترسیل زر کی مد میں ایک بڑا حصہ ملنے والا ہے یا اللہ عوام کا کیا بنے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں