پاکستان کی فضا، زمین اور سمندر بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں مگر انھیں بروئے کار نہ لاسکنے کے باعث ملک غربت اور پسماندگی کا شکار ہے اور اس کا بال بال بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔صرف ہمارے ساحل سمندر کے آس پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں،جو اگلی صدی تک ملکی ضرورت پوری کرسکتے ہیںمگر اسے برسراقتدار حکومتوں کی کم فہمی اور انھیں چلانے والے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کی ناکامی ہی کہا جاسکتا ہےکہ تقریباً 8عشرے گزرنے پربھی ملک سنگین معاشی بحران ،مہنگائی، بیروزگاری اور بے یقینی سے دوچار ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ملک کا مالی بجٹ بھی بین الاقوامی اداروں، خصوصاًآئی ایم ایف کی مرضی کے تابع ہوگیا ہےاور اس کے تقاضے پورے کرنے کیلئے حکمران ٹیکس بڑھاتے اور نئے نئے ٹیکس لگاتے چلے جارہے ہیں۔ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ صرف ملکی بندرگاہوں تک جدید نظام کے ذریعے آسان رسائی کی بدولت پاکستان اربوں ڈالر کماسکتا ہے،ملک کے اندرونی وسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی راہ دکھاتا ہے۔کراچی میں بندرگاہوں سے پوری طرح استفادہ کرنے سے متعلق ایک اجلاس میں انھوں نے اصلاحات کا ایک ایجنڈا پیش کیا اور ہدایت کی کہ بندرگاہوں پر جدید اسکینر نصب کیے جائیں اور کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم پر سامان کی کلیرنس کا وقت کم کیا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نجی شعبے کی ترقی، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاروں کو سہولت حکومت کی اولین ترجیحات ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کیلئے سمندری تجارت کا سب سےموزوں راستہ فراہم کرتا ہےاور ان ملکوں نے پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ان کی سہولت کاری اور شپنگ لائنز کی ریگولیشن کیلئے جامع لائحہ عمل بناکر پیش کیا جائے۔کراچی پورٹ ٹرسٹ تک اور اس سے سامان کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے لیاری ایکسپریس وے کو 24گھنٹے کھلا رکھا جائے،ملیر ایکسپریس وے بندرگاہ سے جوڑی جائےاور ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل کی استعدادبڑھائی جائے۔ایل این جی جہازوں کی فیس کم کرکے اسے بین الاقوامی سطح کے مطابق بنایا جائے۔نیشنل شپنگ کارپوریشن اپنی لاگت کم کرے اور آپریشن موثر بنانے کے لئے جامع لائحہ عمل پیش کرے۔وزیراعظم نے خطے میں پاکستان کے اسٹرٹیجک محل وقوع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل وکرم سے ملک کی معیشت مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہے،ہم برآمدی صنعت کی ترقی کیلئے برآمدکنندگان کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے وسط ایشیا کیلئے سمندری تجارت بڑھانے کا جو ایجنڈا پیش کیا ،وہ حالیہ شنگھائی کانفرنس میں سینٹرل ایشیا کے ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں میں ہونے والے تبادلہ خیال اور تجاویز کا نچوڑ ہے۔وسطی ایشیائی ممالک بیرونی تجارت کیلئے پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کرکے خود بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیںاور پاکستانی تجارت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس حوالے سے کراچی اور بن قاسم کے علاوہ گوادر کی بندرگاہ بھی ان کی توجہ کا مرکز ہے۔وزیراعظم نے سامان کی ترسیل کے انتظامات بہتر بنانے سے متعلق جو ہدایات دی ہیں ،ان پر موثر عملدرآمد کرکےپاکستان نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے بلکہ تجارتی خسارے پر بھی قابو پاسکتا ہے۔ملک اس وقت جس معاشی بد حالی سے دوچار ہے،اس پر قابو پانے کیلئے حکومت بہت سے اقدامات کر رہی ہے ۔ان میں بندرگاہوں کا صحیح استعمال سب سے زیادہ اہم ہے۔سمندری تجارت دنیا بھر کی ترجیح ہے،پاکستان کوبھی اس سمت میںبھرپور توجہ دینی چاہئے۔