متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن سندھ اسمبلی فرحان انصاری نے پیپلز پارٹی پر تنقید کی اور الزامات لگادیے، سینئر وزیر شرجیل میمن نے اُن کی طرف پین پھینکا۔
ایوان سے خطاب میں فرحان انصاری نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ گلے کی ہڈی بن چکا ہے، 8 ارب روپے کی اس منصوبے میں ڈکیتی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبہ اب 80 ارب روپے کا بن چکا ہے، اس سے قبل سولر پروگرام پر ساڑھے 6 ارب کی کرپشن ہوئی ہے۔
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کا نام، سیہون پبلک سروس کمیشن رکھ دیا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ کورنگی کے اندر چائنا کٹنگ میں ان کی سرپرستی ہے یا نہیں؟ ایم کیو ایم کے اندر کوئی گروپ نہیں، پیپلز پارٹی کے اندر گروپ ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ارکان نے فرحان انصاری کی تقریر پر شدید احتجاج کیا اور ان کے الفاظ حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے فرحان انصاری کے الفاظ پر ایکشن لینے اور کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرحان انصاری کے الفاظ پورے ایوان کو دھمکی ہیں، بعد میں اسپیکر نے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کردیے، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔