وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہول سیل، ریٹیل، ریئل اسٹیٹ سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے، یکم جولائی 2025 سے زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے غیر ملکی کمپنی کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری اور اقتصادی اصلاحات پر گفتگو کی گئی، وفد نے وزیر خزانہ کو لندن میں انویسٹرز ڈے میں شرکت کی دعوت بھی دی، پنشن منصوبے میں اصلاحات کی تجویز، ریٹائرمنٹ بچت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، اخراجات میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی ایف بی آر سے وزارت خزانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، برآمدات پر مبنی ترقی حکومتی ایجنڈے میں سرفہرست ہے، پاکستان پانڈا بانڈز کے مذاکرات میں مصروف ہے۔
پاکستان میوچل فنڈز ایسوسی ایشن کے وفد نے بھی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں وفد نے میوچل فنڈ سرمایہ کاری پر ٹیکس مراعات کی بحالی کی تجویز دی، وفد کی جانب سے پاکستان اعلیٰ تعلیم بچت فنڈ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ میوچل فنڈز کا معیشت میں بچت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ہے، پاکستان کی مجموعی بچت کی شرح مجموعی قومی پیداوار کا 13 فیصد ہے، پاکستان میں بچت کی یہ شرح علاقائی ممالک سے کم ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے فنڈز کے فروغ کے لیے حکومتی معاونت پر زور دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ نے سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور متعلقہ حکام کو اصلاحات کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔