• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصطفیٰ قتل کیس: قائمہ کمیٹی داخلہ نے ایف آئی اے، اے این ایف کو تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایف آئی اے اور اینٹی نارکوٹکس فورس کو مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

قائمہ کمیٹی کے  اجلاس میں عبدالقادر پٹیل نے سوال اٹھائے کہ جعل سازی سے بینک اکاؤنٹ کھولے گئے، نشہ اسلام آباد سے کراچی کوریئر کے ذریعے جاتا رہا، ڈارک ویب سے خرید و فروخت اور اسلحے کی خریداری کیسے ہوئی؟
ایف آئی اے اور وفاقی ایجنسیاں کہاں ہیں؟

عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کہا جا رہا ہے 22 سال کا لڑکا خود یہ سب دھندا کر رہا تھا، سمجھ سے باہر ہے کہ بغیر کسی سپورٹ کے 22 سالہ لڑکا سب کچھ کیسے کر رہا تھا۔

کمیٹی کے رکن آغا رفیع اللّٰہ نے الزام لگایا کہ مصطفیٰ عامر کیس میں ملزم کے خلاف تحقیقاتی ٹیم میں اس کا رشتے دار شامل ہے۔

آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ مصطفیٰ عامر کیس میں 500 سے زائد لیپ ٹاپ اِدھر اُدھر کیے گئے، کیس سے متعلق بہت سے کردار ملک سے فرار ہوگئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اس کیس پر کراچی میں ذیلی کمیٹی بنائی ہے، بہتر ہوگا کہ جے آئی ٹی بنا دی جائے، ممبر کمیٹی نبیل گبول نے کہا کہ جے آئی ٹی کا قیام کمیٹی کا اختیار نہیں ہے۔

کمیٹی کے ارکان وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی عدم موجودگی پر بھی برہم ہوگئے، چئیرمین کمیٹی راجہ خرم شہزاد نے کہا جب وزیر داخلہ کا پوچھو تو کہا جاتا ہے وہ وزیراعظم آفس میں ہیں، وہ پتہ کریں گے کہ وزیر داخلہ وزیراعظم آفس میں ہیں یا نہیں، اگر وزیر داخلہ وزیراعظم ہاؤس میں نہ ہوئے تو کمیٹی کارروائی کرے گی۔

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے آئندہ اجلاس میں  آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔

کیس کا پس منظر:۔

واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی لاش 14 فروری  کو حب سے ملی تھی، مصطفیٰ کو اس کے بچپن کے دوستوں نے تشدد کرنے کے بعد  گاڑی میں بٹھا کر جلایا تھا، اب تک کی تحقیقات کے مطابق ارمغان اور شیراز نے گاڑی کو آگ لگائی۔

قومی خبریں سے مزید