کراچی (نیوز ڈیسک/رفیق مانگٹ) ایران کے مطالبے پر امریکا سےمذاکرات عمان منتقل کردیئے گئے، امریکا ایران مذاکرات، کشیدگی میں عارضی کمی، جنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات صرف ایرانی ایٹمی پروگرام تک محدود ہوں گے، بیلسٹک میزائل پروگرام علاقائی معاملات بات نہیں ہوگی، مذاکرات اسی ہفتے عمان میں براہِ راست متوقع ہیں۔
ایران چاہتا ہے پہلے امریکا سے بات چیت مستحکم ہو، اس کے بعد ہی پاکستان و دیگر علاقائی ممالک کو شامل کیا جائے۔ امریکا نے ٹرمپ کے داماد کو بھی وفد میں شامل کیا ہے ۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری ایک محدود مگر اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
علاقائی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ خطے کے کئی دیگر ممالک کے وزراء جن میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، کی شرکت بھی متوقع تھی، لیکن تہران چاہتا تھا کہ بات چیت صرف امریکا کے ساتھ دو طرفہ ہو۔
تہران نے زور دیا ہے کہ مذاکرات صرف اس کے ایٹمی پروگرام تک محدود ہوں گے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائل پروگرام یا دیگر علاقائی معاملات پر مذاکرات نہیں کرے گا اور یہ اس کے لیے سرخ لکیر ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن نے دباؤ اور مذاکرات کی دوہری حکمتِ عملی جاری رکھی ہے۔ اگرچہ فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر کم ہوا ہے۔
فی الحال سفارت کاری آگے بڑھ رہی ہے، جنگ ٹلی ہوئی ہے اور مذاکرات کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ یہ کھڑکی کتنی دیر کھلی رہتی ہے، اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ڈھانچے کے بعد اصل مواد پر کتنی سنجیدگی سے پیش رفت ہوتی ہے۔