• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلطنت عمان اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں کی سمندری حدودآپس میں ملتی ہیں پاکستان کی دوسری بڑی بندرگاہ پر مشتمل شہر گوادر عمان کا پاکستان کیلئے وہ تحفہ ہے جسے بہت کم پیسوں میں عمانی حکومت نے پاکستان کے نام کر دیا تھا۔ آج بھی بلوچی قوم عمان اور پاکستان کے ان علاقوں میں ایک دوسرے سے شادیاں کرتے ہیں اور عمان اور پاکستان دونوں کو اپنا گھر سمجھتے ہیں ۔سلطنت عمان تیل کی دریافت کے بعد تیزی سے ترقی کی جانب آگے بڑھی مگر اس کے پیچھے عمان کے مرحوم سلطان قابوس بن سعید کی اعلیٰ سوچ اور قائدانہ صلاحیتوں کا عمل دخل زیادہ ہے۔ انہوں نے عمان کے صحرا کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا کہ آج کویت کے بعد دنیا کی دوسری طاقتور کرنسی عمان کی ہے اور اس ملک کو دنیا کے صاف ترین اور پر امن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔یہاں کم و بیش 4لاکھ پاکستانی آباد ہیں اور عمان اور پاکستان کی معاشی جدوجہد اور ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اپنے پیاروں کو کثیر تعداد میں رقوم پاکستان بھیجتے ہیں ایک عددی جائزے کے مطابق دنیا بھر کے پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں بالترتیب امریکہ کے پاکستانی پہلے، برطانیہ کے دوسرے، سعودیہ کے تیسرے، متحدہ عرب امارات کے چوتھے اور عمان کے پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جو عمان کی اہمیت کو پاکستانی حلقوں میں اجاگر کرنے کیلئے کافی ہے جسکی اشد ضرورت بھی ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر یہاں پاکستان کا ایک بڑا سفارت خانہ کئی سال سے قائم ہے جو اس وقت کرائے کی عمارت میں اپنا کام سر انجام دے رہا حالانکہ کئی سال سے عمانی حکومت نے سفارت خانہ کو اپنی عمارت بنانے کیلئے زمین تحفے میں دے رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمین پر سنگ بنیاد کا افتتاح تین بار ہو چکا ہے مگر عمارت کا کام آج کئی سا ل بعد بھی شروع نہیں ہو سکا جبکہ ایک اطلاع کے مطابق اس کے کچھ فنڈز بھی موجود ہیں بس حکومت پاکستان کی طرف سے اجازت ملنا باقی ہے۔ ایک خط سابق سفیر پاکستان احسان وگن کی جانب سے اس وقت کے صدر پاکستان جناب عارف علوی کو بھی لکھا گیا مگر کوئی پیش رفت نظر نہ آئی۔ سلطنت عمان میں موسم بدل رہا ہے سابق سفیر پاکستان ڈاکٹر عمران علی چوہدری عمان میںاپنی تین سالہ مدت ملازمت پوری کر کے جا چکے ہیں انہیں کئی حوالوں سے یاد رکھا جائیگا جن میں انکے عوامی سطح پر کئے گئے ویلفیئر کے کاموں کے علاوہ کمرشل اتاشی عشرت بھٹی اور سفارتی عملے کے ساتھ مل کر ایکسپو کا کامیاب انعقاد اور پاکستان اسکول سسٹم کی بہتری کیلئے کئے جانے والے اقدامات ہیں۔ انہوں نے عمان میں جہاں اپنے وی لاگز سے زیادہ تر مثبت عوامی شہرت حاصل کی وہیں بعض اوقات غیر ضروری تنقید سے اپنا دامن بھی داغدار کیا مگر جو سب سے اہم کام انہوں نے کیا وہ دہشت گردی کے واقعہ ’’سانحہ امام بارگاہ‘‘ کے موقع پر پاکستانیوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں اعلان کرنا تھا کہ ’’اس دہشت گردی کے واقعہ میں کوئی ایک بھی پاکستانی ملوث نہیں‘‘۔ یہ ایسا اعلان تھا جب پاکستانی ڈر رہے تھے کہ کہیں ان پر اس دہشت گردی کا الزام عائد نہ ہو جائے۔ سب پاکستانیوں نے اس اعلان پر سکھ کا سانس لیا۔ اس ویڈیو کو عالمی سطح پر بھی بہت زیادہ دیکھا گیا اور بی بی سی اور دی نیشن نے بھی اس واقعہ پر رپورٹس جاری کیں۔ اب انکی جگہ نئے سفیر پاکستان سید ڈاکٹر نوید صفدر بخاری لے چکے ہیں جو دیکھنے میں سادہ، ہنس مکھ اور علمی اور تجربہ کار سفارتکار لگتے ہیں انکی کمیونٹی سے ملاقاتیں جاری ہیں،وہ بلاتفریق ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے مل رہے ہیں اور عمان کے بارے وہ بالکل واضح ہیں کہ انہیں سفارتی سطح پر کیا کرنا ہے۔ ہماری ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ وہ دوکام فوری کرنا چاہتے ہیں ایک تو پاکستان اور عمان کے مابین جو اعلیٰ سطحی سفارتی تعلقات کی بہتر انداز سے اعلیٰ سطح پر بحالی اور پاکستان کے مثبت امیج کو عمان میں اجاگر کرنا اور دوسرا کمیونٹی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا جہاں وہ اپنے اختلافات ختم نہ بھی کر سکیں تو کم ضرور کر لیں۔ ان کا اپنا وژن ہے جس پر وہ یقینی طور پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ڈاکٹر سید نوید صفدر بخاری سے دو سے تین ملاقاتیں ہماری ہو چکی ہیں۔ ان کا سفارتی تجربہ ان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے ہمیں ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت کچھ کرنے کے خواہاں ہیں اور کمیونٹی نے انکا ساتھ دیا تو ان شاء اللہ وہ عمان اور پاکستان کے مابین بہت سے کام کر گزریں گے جن کی اب بھی بہت گنجائش باقی ہے۔ البتہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پاکستانیوں کے عمان کیلئے ویزہ کی بندش ہے جس میں انکا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ عمل حکومت عمان کی ایک پالیسی کے تحت ہے ۔جس پر سفیر پاکستان کی جانب سےعمان کی حکومت سے فوری بات چیت شروع کی جا چکی ہے۔ سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ پاکستانیوں کی ملازمت ویزہ اور وزٹ ویزہ دنوں پر غیر علانیہ پابندی عائد ہو چکی ہے، جسے بات چیت سے فوری کھلوانا ضروری ہے اور اس ضمن میں سوشل میڈیا پر سفیر پاکستان نوید صفدر بخاری کا ایک بیان بھی جاری ہوا ہے جس میں وہ مقامی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہیں۔ البتہ یہ ان کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہو گا جس پر انہیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور حکومت پاکستان کی مدد بھی درکار ہو گی اور سننے میں آ رہا ہے کہ بہت جلد اسحاق ڈار عمان کا دورہ کرنیوالے ہیں جو سفیر پاکستان نوید صفدر بخاری کی کوششوں سے ممکن ہو گا۔ اسکا پہلا مقصد عمان اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کو اگلی منزل کی جانب لے کر چلنا اور پاکستانیوں کیلئے ویزہ بندش کو ختم کرنا ہے۔ سفیر پاکستان کےتوجہ طلب معاملات میں سفارت خانہ پاکستان کی اپنی بلڈنگ کا قیام، نئے پاکستانی اسکول ’’سیب‘‘ کی تعمیر، پاکستان سوشل کلب کی میرٹ پر بحالی اور عوامی ادب و ثقافت کے کئی بڑے پروجیکٹس اور عمان پاکستان کے اعلیٰ سطحی تعلقات میں بہتری ان کی توجہ کے منتظر ہیں۔ امید ہے ان کا قومی جذبہ ہر مشکل کو آسانی سے پار کر لے گا۔

تازہ ترین