ہمارے تیسرے خلیفۂ راشد، عشرہ مبشرہ صحابی رسولؐ، دامادِ پیغمبر آخر الزماںﷺجن کا لقب ذوالنورین ہے یعنی دونوروں والے، سیدہ رقیہ بنتِ محمدﷺ کی وفات ہوجاتی ہے تو پیغمبرِ خدا اپنی دوسری بیٹی سیدہ اُمِ کلثوم ؓکو آپ ؓ کے نکاح میں دے دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ ؓدو ہجرتوں والے بھی ہیں پہلے حبشہ کی جانب اور مابعد مدینۃ الرسولﷺ کی جانب، سخاوت ایسی کہ تاقیامت سخی و غنی کہلائے، جب مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو پانی کی شدید قلت در پیش تھی تو یہ سیدنا عثمان ابن عفان ؓ ہی کا کارنامہ تھا کہ یہود سے مہنگے داموں (بیس ہزار درہم) میں کنواں بیئر رومہ خرید کر اُمتِ رسولؐ کے حوالے کر دیا۔ ہادیٰ عالمﷺ نے جب بھی کسی جنگ کیلئے مالی تعاون کی ترغیب دی تو سیدنا عثمان ؓنے بڑھ چڑھ کر مال و دولت کے ڈھیر پیش فرما دیئے۔ غزوۂ تبوک کے لیے تیس ہزار شمعٔ رسالت کے پروانے نکلے تو سیدنا عثمان ؓ نے تن تنہا دس ہزار فوج کے تمام اخراجات کی ذمہ داری اُٹھالی۔ جامع القرآن کی حیثیت سے آپ کا یہ کتنا بڑا کارنامہ ہے کہ آپ نے قیامت تک کیلئے پوری امہ کو ایک قرآنی نسخے پر متفق کر دیا۔ بصورتِ دیگر قرآن پر ہی اختلافات کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوتا۔ حرم شریف اور مسجد نبوی کی پہلی بڑی توسیع آپ ؓ ہی کے مبارک ہاتھوں ہوئی۔ یہ سیدنا عثمان ؓ ہی کی خلافت تھی جس میں سلطنتِ اسلامیہ خراسان، سیستان، افریقہ اور قبرص تک پہنچ گئی۔ بازنطینی سلطنت کے حملوں سے بچاؤ کیلئے بحری افواج کا آغاز بھی آپ ؓ ہی کا قابلِ فخر کارنامہ ہے۔ ان تمام تر عظمتوں کے باوجود اوائل اسلام میں دکھ آپ ؓ جیسی اولوالعزم ہستی نے بھی اٹھائے۔ آپ ؓکا چچا حکم بن ابی العاص لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر آپ کو دھوپ میں ڈال دیتا، قید تنہائی میں رکھتا لیکن بالآخر عزمِ عثمان ؓ کے سامنے اُسی چچا کو سرنگوں ہونا پڑا۔ شرم و حیا ایسی کہ پیغمبر اسلام ؓ ان کی توصیف کو بطور نمونہ پیش فرماتے جبرائیل امین بھی اس کی مدح سرائی کرتے اور پھر کتنے نرم خو کتنے صلح جو، اس کی مثال ڈھونڈنے سے نہ ملے گی۔ سیدنا عثمان بن عفان ؓ وہ ہستی ہیں جنہیں سرور ِ کائنات ﷺ سردارانِ مکہ کے پاس اپنا سفیر بناکر بھیجتے ہیں اور بالآخر یہی عظمت صلح حدیبیہ اور بیعتِ رضوان پر منتج ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سردارانِ مکہ سے اتنی لڑائیوں کے بعد جب کعبۃ اللہ سے بچھڑے اتنے برس بیت چکے تھے۔ نبی کریم ﷺنے عمرہ کی نیت سے بیت اللہ شریف پہنچنے کا قصد فرمایا۔ مدینہ سے چلتے ہوئے مکہ کی قربت میں پہنچے تو خبر ملی کہ مشرکین مکہ اس پر امن قافلۂ پیغمبر پر یلغار کی تیاریاں کررہے ہیں۔ نبی آخرالزماںؐ کی نظروں میں سیدنا عثمان ذوالنورین ؓکا کس قدر بلند مقام، صلح جوئی و ہر دلعزیزی کے حوالے سے تھا کہ اپنا سفیر بناکر بھیجنے کیلئے نظر انتخاب آپ پر ٹھہر گئی۔ فرمایا مومنین ہی نہیں کفار بھی آپ کا احترام کرتے ہیں آپ مکہ جائیں اور میرا پیغام پہنچائیں کہ ہم لڑنے کیلئے نہیں دیدار و طوافِ کعبہ کیلئےآ رہے ہیں۔ اس سفارت کاری کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس نوع کی افواہیں پھیلنا شروع ہو گئیں کہ کفارِ مکہ نے سفیرِ رسولؐ کو معاذ اللہ شہید کر دیا ہے۔ یہ وہ جذباتی منظرنامہ تھا جس میں شمعٔ رسالت کے چودہ سو قدسی و مقدس پروانے قصاصِ عثمان ؓ کیلئےحدیبیہ کے مقام پر ایک درخت کے نیچے جوق در جوق بیعت کررہے ہیں۔ اس بات پر کہ ہم کٹ جائیں گے مگر قصاصِ عثمان ؓ لے کر رہیں گے وہ بھی کیسا منظر تھا کہ جب نبیِ آخر الزماںؐ اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ دوسرا عثمان ابن عفان ؓ کا ہاتھ ہے اور وہ بھی اس بیعتِ رضوان کا حصہ ہیں جس پر وحئ الٰہی نازل ہوتی ہے کہ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے ان کا پروردگار راضی ہوگیا ہے یہ تھی وہ صورتحال جس سے آگہی ہونے پر سردارانِ مکہ صلح پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور سیدنا عثمان ؓ کی ہمراہی میں حدیبیہ پہنچتے ہیں۔ دوسری طرف جبرائیل امین سورہ الفتح کے ساتھ تشریف لاتے ہیں۔ شمع رسالت ؐ کے چودہ سو پروانے جس صلح سے رنجیدہ خاطر تھے پروردگارِ عالم اُسی کی خوشخبری’’فتح مبین“ کی صورت بھیج رہا ہے۔ پھر وہ منظرنامہ بھی کیسا رقت آمیز ہے جب خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر ِفاروق ؓ ابو لولو فیروز مجوسی کی لگائی ضربوں کے کارن زخموں سے چور ہیں دودھ پلایا جاتا ہے تو انتڑیوں سے بہہ نکلتا ہے ایسی صورت میں سیدنا عمر ابن خطاب ؓ عظیم صحابہ ؓ کی مشاورت سے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے یہ اعلان فرماتے ہیں کہ یہ کمیٹی اپنے میں سے جسے منتخب کرلے گی میرے بعد وہی امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین ہو گا۔ اس کمیٹی میں سرفہرست نام سیدنا عثمان غنی ؓ کا ہے دیگر اجل صحابہ کرام ؓ میں سیدنا علی ؓ ابن ابی طالب، سیدنا سعد ابن ابی وقاص ؓ، سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ ، سیدنا زبیر بن عوام ؓ اور سیدنا طلحہٰ بن عبیداللہ ؓ شامل ہیں۔ ایسی کیفیت میں کوئی صاحب سیدنا عمر ؓ کے فرزند عبداللہ ابن عمر ؓ کا نام پیش کرتے ہیں تو امیر المومنین ؓ فرماتے ہیں عبداللہ ؓ مشاورت میں تو شامل ہو سکتا ہے مگر خلافت میں نہیں، خلیفہ انہی چھ جلیل القدر صحابہ ؓ میں سے چنا جائے۔سیدنا عمر فاروق ؓ کی درد ناک شہادت اور تجہیز و تکفین کے بعد یہ چھ برگزیدہ صحابہ جمع ہوتے ہیں دو دن کی بحث و مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ نہیں ہوپاتا تو تیسرے دن سیدنا عبدالرحمن ابن عوف ؓ تجویز پیش فرماتے ہیں کہ کیوں نہ ہم چھ میں سے تین دوسرے تینوں کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔ یہ سنتے ہی سیدنا طلحہٰ ابن عبیداللہ ؓ، سیدنا عثمان ابن عفان ؓ کے حق میں بیٹھ جاتے ہیں جبکہ سیدنا زبیر ابن عوامؓ ، سیدنا علی ابن ابی طالب ؓ کے حق میں اور سیدنا سعد ابن ابی وقاص ؓ سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ کا نام پیش فرماتے ہیں لیکن سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ اپنے حقِ خلافت سے دستبردار ہوتے ہوئے سیدنا عثمان غنی ؓاور سیدنا علی ابن ابی طالب ؓ سے عرض گزار ہوتے ہیں کہ آپ دونوں اپنا معاملہ مجھے سونپ دیں۔ (جاری ہے)