• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ضدی بابا‘‘ کے ترکش میں کچھ تیر باقی تھے (چوبیسویں قسط)

پاکستان پولیس سروس کے ’’رول ماڈل‘‘، سابق آئی جی ، ذوالفقار احمد چیمہ کی کہانی، خُود اُن کی زبانی
پاکستان پولیس سروس کے ’’رول ماڈل‘‘، سابق آئی جی ، ذوالفقار احمد چیمہ کی کہانی، خُود اُن کی زبانی

اٹھاون۔ ٹو بی کی تلوار سے مسلّح صدر غلام اسحاق نے پارلیمنٹ کی گردن اُڑا کر میاں نواز شریف سے وزارتِ عظمیٰ چھین لی، تو پرائم منسٹر ہاؤس کے کھچاکھچ بھرے ہوئے ہال میں موجود سیکڑوں لوگوں نے نوازشریف صاحب کو امامت کے منصب پر فائز کردیا کہ اس روز اُن کی امامت میں مغرب کی نماز ادا کی گئی۔ 

بعدازاں، پی ایم ہاؤس کے دروازے کھول دیئے گئےاور نوازشریف صاحب کے چاہنے والے بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے ۔ وزارتِ عظمیٰ کا پروٹوکول ختم ہوچُکا تھا، مگر عقیدت ومحبّت کے جذبات چھلک رہے تھے، کوئی اُن سے گلے مل رہا تھا، تو کوئی ہاتھ چُوم رہا تھا۔ اُسی ہجوم میں پہلی بار مشاہد حسین سیّد اور شیریں مزاری بھی اظہارِ یک جہتی کے لیے آئے۔ ہر شخص میاں صاحب کے ساتھ محبّت و عقیدت کا اظہار کر رہا تھا۔ میرے دوست مسعود ملک(مرحوم) کہنے لگے۔’’1990ء میں یہیں ہم نے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوتے بھی دیکھی تھی۔ 

اُن کی قیادت بہت مغموم تھی، مگر میاں صاحب کا حوصلہ قابلِ داد ہے۔‘‘ ہمارا اس بات پر اتفاق تھا کہ اب اگر میاں صاحب ’’عوامی رابطہ مہم‘‘ پر نکل کھڑے ہوں، تو اُنہیں عوام میں بڑی پذیرائی ملےگی۔ توّقع کےعین مطابق نوازشریف پرائم منسٹر ہاؤس سے نکلے، تو سیدھے عوام کے دِلوں میں جا اُترے۔ وہ جس صوبے، جس شہر میں گئے، عوام کا سیلاب اُمڈ آیا۔ پوری قوم نے معزول وزیرِاعظم کو پلکوں پر بٹھا لیا۔ میاں نوازشریف نے چاروں صوبوں میں جلسے کیے اور ہر جگہ سے بے پناہ پذیرائی اور مقبولیت کے نشے سے سرشار ہوکر لَوٹے۔ 

اُدھر ان کی جماعت نے صدر کے اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ میاں صاحب نے کراچی کے ایک معروف وکیل، خالد انور کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے بہت اچھا کیس لڑا۔ ایک دو بار مَیں بھی خالد انورکے دلائل سُننے سپریم کورٹ گیا۔ کورٹ نمبر1 کھچا کھچ بھری ہوتی تھی۔ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ ماحول کو زیادہ دیربوجھل نہیں ہونے دیتے تھے، گاہے بگاہے پھلجڑیاں چھوڑتے رہتے تھے۔ بالآخر سپریم کورٹ کی طرف سے اعلان ہوا کہ فلاں تاریخ کو فیصلہ سنایا جائے گا۔ 

اُس روز پرائم منسٹر اسٹاف کے کچھ پرانے دوستوں کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ سب ایف ایٹ میں چوہدری شجاعت حسین کی کوٹھی پر جمع ہیں۔ مَیں بھی وہیں پہنچ گیا، کچھ دیر بعد چوہدری نثار علی نے آکر بڑے ڈرامائی انداز میں عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ سُنایا اور حکومت کی بحالی پر مٹھائیاں تقسیم ہونے لگیں۔ 

کچھ دیر بعد میاں صاحب بھی وہیں پہنچ گئے اور سب سے مبارک باد وصول کرتےرہے۔ وہیں ہمارا جی سی لاہور اور پنجاب یونی ورسٹی لاء کالج کا کلاس فیلو ثاقب نثار نظرآیا،جو کتابیں اُٹھائے خالد انور ایڈووکیٹ کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا تھا۔ میرے پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ وہ خالد انور کے لاہور آفس کی نگرانی کرتا ہے۔ بہرکیف، اِسی عدالتی کام یابی کے صلے میں خالد انور کو بعد میں وزیرِ قانون بنایا گیا اور خالد انور نے اپنے جونئیر اور ہم برادری ثاقب نثار کو پہلے لاء سیکریٹری اور پھر ہائی کورٹ کا جج بنوا دیا۔

ایک دومزید واقعات قارئین کی دل چسپی کے لیے شیئر کررہا ہوں۔ ایک روز مَیں پولیس کلب راول پنڈی سے(جس کے ایک کمرے میں، مَیں قیام پذیر تھا) پرائم منسٹر آفس، اسلام آباد کے لیے جارہا تھا تو ایک کار نے ہمارے برابر آکر مسلسل ہارن بجانا شروع کردیا۔ مَیں نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’دیکھو، کوئی لائٹ نہ جل رہی ہو یا ڈِکی نہ کُھلی ہو؟‘‘مگر، ایسا کچھ نہیں تھا۔ دوسری کار کے ہارن جاری تھے اور پھر اُس کار میں سوار شخص نے ہاتھ کے اشارے سے روکنے کی کوشش کی۔ پہلے تو مَیں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے سے منع کردیا، لیکن جب دوسری گاڑی نے مسلسل اشارے دینے شروع کردیئے، تو مَیں نے گاڑی رکوالی۔ اُس گاڑی میں سے لپک کرایک ایم این اے صاحب اُترے اور تقریباً زبردستی میری گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ 

بیٹھتے ہی فرمانے لگے۔’’آپ وزیرِاعظم کے ساتھ ہوتے ہیں، سُنا ہے کہ آپ کے اچھے کردار کی وجہ سے وزیرِاعظم آپ کی بہت عزّت کرتے ہیں۔ مَیں بھی آپ کواپنا دوست سمجھتا ہوں اور آخر دوست ہی دوستوں کے کام آتے ہیں۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد بولے۔’’کابینہ میں توسیع ہونے جارہی ہے۔ آپ پرائم منسٹر سے میری وزارت کے لیے بات کریں۔‘‘ یہ سب سُن کر مَیں کبھی اُن کو دیکھتا، کبھی اُن کی بہت بڑی گاڑی اور اپنی چھوٹی سے کار کو۔ اورحیران ہوتا رہا کہ لوگ اب وزارتوں کے لیے مجھ سے رابطے کریں گے۔ 

اپنے اِس ’’اثرورسوخ‘‘ سے تو مَیں خُود بھی واقف نہیں تھا۔ خیال تو آیا کہ وقت گزاری کے لیے’’سائل‘‘ سے پوچھ ہی لوں کہ’’بول بچّہ! کون سی وزارت چاہیے؟‘‘ مگر معزّز رکنِ اسمبلی کا پست اور خوشامدانہ انداز اور کمپنی میرے لیے ناقابلِ برداشت تھی، لہٰذا فوری گلو خلاصی کے لیے کہہ دیا۔ ’’جی بالکل، کابینہ آپ جیسےہیروں ہی سےسجتی ہے۔ مَیں پرائم منسٹر سے ضرور بات کروں گا۔‘‘ اور ساتھ ہی کار کا دروازہ کھول دیا تاکہ وہ اپنی بڑی گاڑی میں شفٹ ہوسکیں۔ بعدازاں، اِسی نوعیت کی خواہشات لیے کئی صاحبان اندرون اور بیرونِ مُلک سے آ آکر دفتر میں بھی ملتے رہے۔

بہرحال، سپریم کورٹ نے حکومت بحال کردی، تو نوازشریف نے پھر وزارتِ عظمیٰ سنبھال لی۔ اُنہوں نے اپنےاسٹاف کو بلا کر ایک نئے جوش و جذبےسے کام شروع کرنے کی ہدایات دیں۔ ہم نے تو کام شروع کردیا، مگر ایوانِ صدر کے مکین کے تَرکش میں ابھی کچھ تیر باقی تھے، جنہیں وہ چلانے پربھی تُلے بیٹھے تھے۔ کسی صحافی سے ملاقات کے دوران ضدّی بابا نے فارسی کا وہ مشہور شعر پڑھا، جس کا مفہوم ہے کہ’’میرے انگوروں میں ابھی رس باقی ہے۔‘‘ یعنی میرا سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ صدر نے اپنے مقرر کردہ گورنرز کو تھاپڑا مارا اور اُنہیں وزیرِاعظم کےخلاف بغاوت پراُکسایا۔ سب سے پہلے پنجاب کے گورنر جہلم والے چوہدری الطاف حسین نے اعلانِ بغاوت کیا۔ 

اُن کی دیکھا دیکھی سندھ میں بھی یہی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ ایک بار وزیرِاعظم کا اندرونِ سندھ کے دورے کا پروگرام بنا، تو وزیرِاعلیٰ مظفّر حسین شاہ نے (جو ہمیشہ وزیرِاعظم کے استقبال کے لیے موجود ہوتے تھے) پیغام بھیجا کہ سندھ کا کوئی وزیر یا افسر وزیرِاعظم کے استقبال کے لیے نہیں آسکے گا، لہٰذا بہتر ہے، وزیرِاعظم اپنا دورہ منسوخ کر دیں۔ اور وزیرِاعظم کو دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ 

نواز شریف صاحب کو چند ہفتوں ہی میں احساس ہوگیا کہ اِن کی وزارتِ عظمٰی تو صرف اسلام آباد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے، لہٰذا اُنہوں نے دوبارہ عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ صدر اوروزیرِاعظم کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ قائم کروانے کی مخلصانہ کوششیں کرنے والے طاقت وَر حلقوں کے سامنے پرائم منسٹر نے خُود تجویز پیش کی کہ مُلک کو اِس بحران سے نکالنے کا واحد حل نئے انتخابات ہیں۔ 

مگر اس سے پہلے مَیں بھی استعفیٰ دیتا ہوں اور صدر بھی مستعفی ہوجائیں۔ فوج نے دباؤ ڈالا یا سمجھایا تو ایوانِ صدر کا مکین بھی مستعفی ہونے پر تیار ہوگیا۔ پھر پتا چلا کہ نگران وزیرِاعظم کے طور پر بیرونِ مُلک سے ایک شخص درآمد کیا جارہا ہے، جس کا نام معین قریشی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد موصوف کا شناختی کارڈ تیار کیا گیا اور ایف آئی اے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری شریف نے کراچی ایئرپورٹ پر اُنہیں شیروانی پہنائی۔ جس روز درآمد شدہ وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب تھی، اُس روز میاں نواز شریف بھی انہیں ملنے یا دیکھنے کےلیے ایوانِ صدر گئے۔ اُن کے قافلے کےساتھ راقم کی چھوٹی سی کاربھی تھی، نوازشریف صاحب معین قریشی سے مل کر واپس چلے گئے۔ مَیں حلف برداری کی تقریب دیکھنے کے لیے رُک گیا۔ 

غلام اسحاق خان نے معاہدے کے مطابق وہیں اپنے استعفے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی پینشن اور مراعات کے ضمن میں انتہائی غیر ضروری باتوں کا بھی سب کے سامنے تذکرہ کردیا۔ اس پر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے اسلام آباد کے ایک سینئر سول سرونٹ نے کہا۔ ’’یہ تو اندر سے کلرک ہی نکلا۔‘‘ بلاشبہ انسان کا طرزِ عمل ہی اُسے چھوٹا یا بڑا بناتا ہے اور بعض اوقات اُس کا کوئی فعل یا حرکت ہی اُسے ہمالیہ سے تحت الثریٰ میں گِرا دیتی ہے۔ سروس کے آخری چند ماہ کے طرزِ عمل نے غلام اسحاق خان کی شخصیت کو بُری طرح مسخ کردیا تھا۔

سنگین نوعیت کے مقدمات کے ٹرائل کے لیے ملک بھر میںSpeedy Trial Courts قائم کی گئی تھیں۔ کون سے مقدمات اسپیڈی ٹرائل کورٹس میں بھیجے جاسکیں گے، اس کے لیے قانون، طریقۂ کار اور ایک معیار مقرر کیا گیا تھا۔ وزیرِاعظم آفس میں ایک جوائنٹ سیکرٹری (پولیس سروس کے ملک یثرب صاحب) اس کی نگرانی کرتے تھے۔ ملک یثرب صاحب، صحت اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔ نیز، وہ کبھی فیلڈ میں کمانڈ پوسٹ پر تعینات نہیں رہے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک دو بار جب پرائم منسٹر نے اُن سےکچھ اہم امور سے متعلق پوچھا، تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ اور اسی سبب وزیرِاعظم اُن کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ لیکن، ایک بات سچ ہے کہ پی ایم کسی کی توہین نہیں کرتے تھے۔ جونیئر اہل کاروں کے لیے بھی تُو یا تُم کی بجائے جمع کا صیغہ یعنی آپ کا لفظ ہی استعمال کرتے۔ ایک روز جب مَیں دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا، تو ایم ایس کا فون آیا کہ ’’فوری طور پر پہنچیں۔ پی ایم نے بلایا ہے۔‘‘ مَیں پی ایم آفس پہنچا، تو پرنسپل سیکریٹری قاضی علیم اللہ بھی داخل ہو رہے تھے۔ پرائم منسٹر صاحب پرنسپل سیکرٹری سے مخاطب ہوئے۔ 

’’قاضی صاحب! وہ جوائنٹ سیکرٹری، جو اسپیڈی ٹرائل کورٹس کے معاملات دیکھتے ہیں، اُن کا کیا نام ہے؟‘‘ قاضی صاحب نے کہا۔ ’’سر! ملک یثرب۔‘‘ ’’ہاں، آپ اُن کا سارا کام اِن کو(مجھے) دے دیں اور ملک یثرب کو عزّت و احترام کے ساتھ واپس ان کے محکمے میں بھیج دیں۔‘‘ قاضی صاحب نے کہا۔ ’’بہتر سر! فیلڈ کا کام تو یہی کرتے ہیں۔ دفتر کا بھی یہی سنبھال لیں، تو اچھا ہوگا۔‘‘ ہم دونوں پرائم منسٹر کے احکامات سُن کر پی ایم آفس سے باہر نکل آئے۔ چند منٹ بعد ایک آفس آرڈر نکلنا تھا اور پھر اسٹیبلشمینٹ ڈویژن سے نوٹی فیکیشن کے بعد ملک یثرب نے پرائم منسٹر آفس سے رخصت ہوجانا تھا۔ 

مگر لاؤنج میں آکر مَیں نے قاضی علیم اللہ سےگزارش کی کہ’’یثرب صاحب بیمار رہتے ہیں۔ یہاں اُنہیں گاڑی اور دفتر ملے ہوئے ہیں۔ او ایس ڈی بن گئے، تو اِن سہولتوں سے محروم ہوجائیں گے۔ آپ اُنہیں فارغ نہ کریں، اُن کا ساراکام مَیں کردیا کروں گا، مگر اُنہیں یہیں رہنے دیں۔ کسی مناسب موقعے پر ہم پرائم منسٹر صاحب کوبھی بتادیں گے۔‘‘ پرنسپل سیکرٹری ایک نیک دل انسان تھے۔ اُنہوں نے میری بات سےاتفاق کیا اورملک یثرب اپنے عہدے پر برقراررہے۔

اُدھر معین قریشی صاحب کی تعیناتی کے بعد تمام صوبوں میں اہم عہدوں پر ان افسران کو تعینات کیا گیا، جو یا تو نواز شریف کے مخالف سمجھے جاتے تھے یا آصف زرداری کے قریب تھے۔ اِسی قماش کے لوگوں نے اپنی مرضی کے افسر ضلعوں اور ڈویژنژ میں تعینات کروائے، لہٰذا مَیں نے واپس پنجاب نہ جانے کا فیصلہ کیا اور پی ایم آفس ہی میں ٹِکا رہا۔ 

اب کرائم اور لاء اینڈ آرڈر کو نگران وزیرِاعظم کے بھائی (جو ایڈیشنل آئی جی رینک کے پولیس افسر تھے) دیکھتے تھے۔ وہ بھی اندر سے میاں نواز شریف کے خلاف تھے۔ نئے سیٹ اَپ کی تمام تر ہم دردیاں پیپلزپارٹی کے ساتھ تھیں اور یوں لگتا تھا کہ تمام فورسز مِل کر نوازشریف کو ہرانے اور بےنظیر کو دوبارہ وزیرِاعظم بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سو، 1993ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو زیادہ سیٹس ملیں اور بےنظیر بھٹو صاحبہ دوبارہ وزیرِاعظم بن گئیں۔ 

صدر غلام اسحٰق خان نے ایک صحافی سے ملاقات میں فارسی شعر پڑھا، جس کا مفہوم تھا’’میرے انگوروں میں ابھی رس باقی ہے‘‘
صدر غلام اسحٰق خان نے ایک صحافی سے ملاقات میں فارسی شعر پڑھا، جس کا مفہوم تھا’’میرے انگوروں میں ابھی رس باقی ہے‘‘

پیپلزپارٹی کی جیت کے ساتھ ہی پرائم منسٹر آفس کے اسٹاف میں کھلبلی مچ گئی۔ پچھلے دَور میں جولوگ اہم ذمّےداریاں سنبھالے ہوئے تھے، وہ اپنے تبادلے کروانے لگے۔ سعید مہدی، جو نگران دَور سے پرنسپل سیکرٹری ٹو پی ایم چلے آرہے تھے، میرے ساتھ بڑی شفقت کرتے تھے۔ اُنہوں نے خُود ازراہِ ہم دردی مجھ سے کہا کہ ’’پنجاب جانا چاہتے ہو، تو آرڈر کردوں۔‘‘ مَیں نےکہا۔ ’’سر! نئی حکومت آجائے،وہ جیسے کہیں گے، ویسا کر لیں گے۔‘‘ وہ مُسکرا دیئے، پھرکہنے لگے۔ ’’دیکھ لو۔ بہتر ہے، اُن کے آنے سے پہلے ہی چلے جاؤ۔‘‘ مگر مَیں نہ مانا۔ 

وہ تجربہ کار افسر تھے، مستقبل کا نقشہ اُن کے سامنے واضح تھا، لیکن مَیں چوں کہ ناتجربہ کار تھا، تو اپنی لاعلمی اورمعصومیت میں سمجھ رہا تھا کہ جب نئے حُکم رانوں کو پتا چلے گا کہ ذوالفقارچیمہ نام کا ایک دیانت دار اور محنتی پولیس افسر یہاں موجود ہے، جس نے ہمیشہ وزیرِاعظم نوازشریف کے سامنے دو ٹوک اور سچی بات کی ہے اورکسی کی ناراضی کی پروا نہیں کرتا۔ تو وہ بھی مجھے پلکوں پر بٹھائیں گے۔ مجھے وزیرِاعظم بےنظیر بھٹو صاحبہ سے ملوایا جائے گا۔ اور وہ کہیں گی کہ ’’ہمیں رُول آف لاء قائم کرنے کے لیے آپ جیسے سول سرونٹس ہی کی ضرورت ہے۔ ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گے۔

آپ کرائم اور لاء اینڈ آرڈر کے معاملات پر مجھے بھی ایڈوائس دیا کریں گے۔‘‘ مگر میری یہ سوچ خواب اور سراب ہی تھی۔ مَیں ٹاپ فلور پر، جس کمرے میں بیٹھتا تھا، اُس کا آخری کمرا حسین حقانی کو الاٹ ہوگیا۔ وہ ہر روز ہمارے دفتر کے سامنے سے گزر کر جاتے تھے، مگر کبھی اُن سے سلام دعا نہ ہوئی۔ چند دنوں ہی میں میرے خواب و خیالات بکھرنے لگے۔ تلخ حقائق نظر آنے لگے، وہاں اب سعید مہدی کی جگہ احمد صادق پرنسپل سیکریٹری مقرر ہوکر آگئے تھے۔ 

ایک روزمَیں نے ایڈیشنل سیکریٹری سےکہا۔ ’’مجھے واپس پنجاب بھجوادیں تاکہ اپنے محکمے میں جا کرکام کروں، لگتا ہے، اب میری یہاں کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ انہوں نےحامی بھرلی۔ دوسرے روز اُن کا فون آیا کہ آپ کو پنجاب کی بجائے فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بھیجا جارہا ہے۔ آپ پرنسپل سیکرٹری سےمل لیں۔‘‘ بعد میں معلوم ہوا کہ وہی ملک یثرب، جنہیں مَیں نےکوشش کر کے پرائم منسٹر آفس سے فارغ ہونے سے بچایا تھا، اُنہوں نے ہی نئی حکومت کا قُرب حاصل کرنے کے لیے ’’مخبر‘‘ کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ 

اُنہوں نے اپنی صوابدید کے مطابق سابق وزیرِاعظم کے ’’قریبی‘‘ افراد کی فہرست بنائی (جس میں میرا نام بھی شامل کیا) اور نئے پرنسپل سیکرٹری کو فراہم کردی، چناں چہ مجھےVictimise کرنے کے لیے پنجاب بھیجنے کے احکامات منسوح کرکے فرنٹیئر کانسٹیبلری بھیجنے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ بہرحال، مَیں اتمامِ حجّت کے لیے پرنسپل سیکرٹری سے ملنےچلا گیا۔

میراخیال تھا کہ میری ملاقات کسی سینئر سول سرونٹ سے ہوگی، مگر مَیں جس شخص سے ملا، وہ کوئی سول سرونٹ نہیں، بلکہ کٹّر قسم کا سیاسی جیالا تھا۔ ملاقات توقع سے زیادہ ناخوش گوار رہی۔ پرنسپل سیکرٹری مجھے فرنٹیئر کانسٹیبلری بھیجنے پربضد رہے۔ سو، میں اُن سے ہاتھ ملائے بغیر اُٹھ آیا۔ اگلے روز میرا فرنٹیئر کانسٹیبلری میں تعیناتی کا نوٹی فیکیشن جاری ہوگیا۔ (جاری ہے)