• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام کے زریں اصول صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں

کینیڈا میں مقیم معروف آنکولوجسٹ، ڈاکٹر طاہر عباس سے بات چیت
کینیڈا میں مقیم معروف آنکولوجسٹ، ڈاکٹر طاہر عباس سے بات چیت

ڈاکٹر طاہر عباس کا تعلق جھنگ سے ہے، جہاں اُن کے دادا اور نانا رہتے تھے۔ تاہم اُن کی تعلیم و تربیت کا بیش تر عرصہ ملتان میں گزرا، جہاں اُن کے والد، جو ریلوے سے وابستہ تھے، منتقل ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے 1981ء میں نشتر میڈیکل کالج، ملتان سے ایم بی بی ایس کیا، جس کے بعد تقریباً ساڑھے چار سال تک وہیں خدمات انجام دیتے رہے۔بعدازاں، 1986ء میں طب کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن پہنچے، جب کہ اِس سے قبل MRCP کی ڈگری بھی حاصل کر چُکے تھے۔نیز، FRCPکی ڈگری بھی حاصل کی۔ 

برطانیہ میں پہلے گیسٹرو کے شعبے میں کام کیا، پھر 1996ء میں کینسر کے علاج معالجے میں اسپیشلائزیشن کی ڈگری حاصل کی اور گزشتہ 30سال سے اِسی شعبے سے وابستہ ہیں، جس کے دَوران انہیں 2010ء میں مکّہ مکرّمہ کے ایک اسپتال میں بطور ہیڈ آف انکالوجی کینسر اسپتال بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ پہلے وہاں صرف کینسر کیئر یونٹ تھا۔ 2010ء میں کینیڈا چلے گئے اور اب وہیں مقیم ہیں۔ 

اِن دنوں کینیڈا کے صوبے، Saskatchewan کے شہر، Saskatoon میں واقع رائل یونی ورسٹی اسپتال میں کینسر اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر عباس ایک کتاب’’حق کی تلاش‘‘ کے بھی مصنّف ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر صاحب لاہور تشریف لائے، تو اُن کے ساتھ ایک خصوصی نشست ہوئی، جس کا احوال جنگ،’’سنڈے میگزین‘‘ کے قارئین کی نذر ہے۔

س: آپ کی زندگی کا بیش تر حصّہ کینسر کا علاج معالجہ کرتے گزرا ہے،تو یہ بتائیے کہ اِس مرض کے پھیلاؤ کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟

ج: اِس وقت کینسر دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے امراض میں شامل ہے۔ 2020ء میں ایک کروڑ افراد اِس مرض کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنے۔ یعنی ہر6میں سے ایک شخص کینسر کی نذر ہوگیا۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ 2050ء تک اِس مرض میں75فی صد اضافہ ہو جائے گا۔ پاکستان میں بھی صُورتِ حال خاصی تشویش ناک ہے۔ یہاں خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پاکستان اِس مرض میں شرحِ اموات کے حوالے سے دنیا میں سرِفہرست ہے، جب کہ مَردوں میں Oral کینسر سب سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، پاکستان میں سرطان کے ہر سال ایک لاکھ،74 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور ہر سال سرطان میں مبتلا ایک لاکھ 18ہزار افراد انتقال کر جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہہ چُکا ہوں، پاکستان میں پہلے نمبر پر خواتین میں بریسٹ کینسر، دوسرے نمبر پر اورل کینسر(مَردوں میں)، تیسرے نمبر پر پھیپھڑوں کا کینسر، چوتھے نمبر پر بچّوں میں لیوکیمیا اور پانچویں نمبر پر بون کینسر ہے۔ 

اب پاکستان میں بہت سے سرکاری و غیر سرکاری اسپتال علاج معالجے کی خدمات فراہم کر رہے ہیں، لیکن مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر سہولتیں بہت محدود ہیں۔ پھر یہ کہ علاج بہت منہگا ہے اور غریب مریض اسپتال تک پہنچنے سے بھی قاصر ہیں۔ یہ مرض پہلے بھی ہوتا تھا، لیکن اب زیادہ تعداد سامنے آ رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تشخیص کے مراحل بیش تر افراد کی پہنچ میں ہیں۔

تاہم اِس امر میں شک نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں دورِ حاضر میں اس کی شرح میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ طبّی نقطۂ نگاہ سے سادہ الفاظ میں بیان کروں، تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب جینیات (Genetics) کی کار فرمائی ہے، جس میں انسانی خلیے کا بنیادی کردار ہے۔ کینسر، درحقیقت انسانی جسم میں جِینز کے بگاڑ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ 

ہر خلیے میں دو جین ہوتے ہیں اور اگر دونوں میں خرابی پیدا ہو جائے، تو کینسر کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ واضح رہے، جین میں ایک خرابی قدرتی طور پر، جب کہ دوسری خرابی ماحولیاتی اثرات (جیسے تمباکو نوشی یا منفی غذائی عادات وغیرہ) سے پیدا ہوتی ہے۔ نیز، کینسر کے خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور بہت مشکل سے مرتے ہیں۔

س: اِس مرض کے علاج میں کوئی پیش رفت بھی ہوئی ہے؟

ج: جی ہاں۔ پوری دنیا میں ریسرچ لیبارٹریز اس کا شافی علاج ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ پیش رفت اگرچہ سُست ہے، لیکن بالآخر انسان کام یاب ہو جائے گا۔ پہلے مرض کے علاج میں کیموتھراپی کا اہم کردار تھا، لیکن اس کے ذیلی مضر اثرات بہت تھے۔ اِسی طرح ریڈی ایشن اور کیمو میں کینسر زدہ سیلز کے ساتھ صحت مند سیلز بھی تباہ ہو جاتے تھے۔ 

اب ان کی جگہ ٹارگٹ تھراپی اور امیون تھراپی نے لے لی ہے، جس سے ذیلی نقصانات کم ہوتے ہیں۔ یہ علاج بہت منہگا ہے اور کینیڈا میں ایک مریض پر ماہانہ 16ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اِس وقت میرے پاس 2ہزار مریض زیرِ علاج ہیں، جو صحت یاب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک انجیکشن 5لاکھ روپے سے زائد میں دست یاب ہے، جو ظاہر ہے کہ ہر مریض کے بس کی بات نہیں۔ پھر یہ کہ اس کا علاج بھی کافی طویل ہوتا ہے۔

جو جدید ادویہ متعارف ہوئی ہیں، اُن سے مریضوں کی زندگی میں طوالت آگئی ہے۔ جیسا کہ پہلے اگر چوتھے مرحلے کے مریضوں کو صرف 6ماہ کی زندگی کا کہا جاتا تھا، تو اب یہ سالوں تک بڑھ گئی ہے۔ امیون تھراپی میں انسانی قوّتِ مدافعت بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے، جس سے صحت مند خلیے، کینسر زدہ خلیوں کو شکست سے دوچار کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں کئی نجی اور سرکاری ادارے کافی کام کر رہے ہیں اور اگر منہگی ادویہ کی مستحق مریضوں تک رسائی آسان بنا دی جائے، تو مرض کے خاتمے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

س: پاکستان میں اِس سلسلے میں مزید کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟

ج: یہاں اِس بات کی وضاحت کر دوں کہ کینسر اب لاعلاج مرض نہیں رہا۔ اگر ابتدا ہی میں( خاص طور پر خواتین کے بریسٹ کینسر کے کیسز میں)،درست تشخیص کر کے ادویہ یا جرّاحی سے علاج کرلیا جائے، تو مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ بیش تر مریض اُس وقت رجوع کرتے ہیں، جب مرض جسم میں پھیل کر خطرناک صُورت اختیار کرچُکا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، مُلک کے عمومی حالات بھی اِس مرض کی نشوونُما کے لیے بہت سازگار ہیں۔ 

ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہمارا لائف اسٹائل بھی سرطان کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ مرغّن خوراک، منشیات، تمباکو نوشی، ورزش کا فقدان، سہل پسندی، ذہنی دباؤ اور غربت کی وجہ سے قوّتِ مدافعت کی کمی جیسے عوامل اِس مرض کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ 

جہاں تک اِس سے بچاؤ کا تعلق ہے، تو مختصراً سمجھ لیجیے کہ سادہ طرزِ زندگی، سادہ خوراک، ورزش یا پیدل چلنا، صاف پانی، کھانے پینے میں اعتدال، موبائل اور لیپ ٹاپ کا مناسب حد تک استعمال، مرغّن غذاؤں سے پرہیز، میٹھے (شوگر)، خاص طور پر سفید چینی سے ممکن حد تک پرہیز اور اس طرح کی دیگر عادات سرطان سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ 

حکومت کو اِس سلسلے میں’’پرہیز،علاج سے بہتر ہے‘‘ کی بنیاد پر ایک آگہی مہم چلانی چاہیے، جس سے یقیناً نہ صرف کینسر بلکہ دیگر درجنوں امراض سے بھی بچا جاسکتا ہے۔’’بھوک رکھ کر کھاؤ‘‘،’’ کھاؤ پیو، لیکن اعتدال سے‘‘ اور’’ کھانا چبا کر کھاؤ‘‘ جیسے اسلام کے زریں اصول صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔

س: کیا روزے اور کینسر سے صحت یابی میں بھی کوئی تعلق ثابت ہوا ہے؟

ج: ابھی اِس ضمن میں سائنسی بنیادوں پر کام ہورہا ہے، لیکن ابتدائی تجربات سے فاسٹنگ، یعنی روزہ رکھنے یا خوراک کو بہت محدود رکھنے سے کینسر سے صحت یابی کے عمل میں زیادہ بہتری دیکھی گئی ہے۔ 

چند برس قبل ایک جاپانی سائنس دان کی یہ ریسرچ پوری دنیا میں دل چسپی سے دیکھی گئی، جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ کافی دیر بھوکا رہنے یا فاسٹنگ یعنی روزہ رکھنے سے انسانی سیل بھوکے ہوں، تو وہ نقصان دہ سیلز کو خود بخود کھا جاتے ہیں، جس سے کینسر سمیت متعدد امراض میں افاقہ دیکھا گیا۔ 

اِس ریسرچ پر ابھی مزید کام ہورہا ہے، تاہم میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ فاسٹنگ سے کینسر کے مرض، خاص طور پر کیمو تھراپی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے ضمن میں کافی بہتری دیکھی گئی ہے۔ سائنس دان متفّق ہیں کہ روزے سے نقصان دہ خلیات کی صفائی اِس طرح ہو جاتی ہے، جیسے کمرے میں جھاڑو دے کر، کاٹھ کباڑ باہر پھینک دیا جائے۔ اِس میڈیکل ریسرچ سے قطع نظر، ہم مسلمانوں کے لیے روزہ جسمانی اور اخلاقی اعتبار سے ایک بہترین وسیلہ ہے، جس سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ 

جسمانی اور نفسیاتی خواہشات پر قابو پانے سے انسان کو خود اعتمادی حاصل ہوتی ہے۔ روزے سے اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے۔ افطار اور سحری کے وقت سب گھر والے ایک دستر خوان پر اکٹھے ہوتے ہیں، مساجد کی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں اور زکوٰۃ کی ادائی سے کروڑوں مستحق افراد کو کم از کم ایک ماہ کے لیے پیٹ بَھر کر کھانا ملتا ہے۔

نیز، مخیّر افراد کے تعاون سے اُن کی دیگر بنیادی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ سے کئی فلاحی ادارے چلتے ہیں۔ تاہم، اس کی ادائی اور اسے مستحق افراد تک پہنچانے کے لیے نظام میں مزید بہتری لانی چاہیے کہ اِس کے ذریعے بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ 

پاکستان کے مخیّر افراد سالانہ اربوں روپے کی زکوٰۃ دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود غربت میں واضح کمی دیکھنے میں نہیں آرہی، جس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ زکوٰۃ کے جمع اور خرچ کرنے کا قومی سطح پر کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔

س: آپ نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کر تقریباً 400صفحات پر مشتمل ایک کتاب’’حق کی تلاش‘‘ بھی لکھی ہے،اِس حوالے سے کچھ بتائیے؟

ج: یہ صرف باری تعالیٰ کا کرم ہے۔ اِس کام کی ابتدا کچھ اِس طرح ہوئی کہ میرے والد صاحب کو دینی کتب پڑھنے اور جمع کرنے کا بہت شوق تھا،پھر مَیں نے بھی اِس شوق کو اپنا لیا۔ جب اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گیا، تو وہاں خواجہ مستنیر احمد سے ملاقات ہوئی، جو اُس وقت دارالاحسان تنظیم، فیصل آباد کی طرف سے لندن کے امیر تھے۔ خواجہ صاحب کے ساتھ مل کر ذکرِ الہٰی اور دعوتِ تبلیغ کی مجالس میں شریک ہونے لگا۔

اِن اجتماعات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بھی دعوت وتبلیغ کا شوق بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں یہ کتاب وجود میں آئی۔یہ کتاب 12ابواب پر مشتمل ہے، جو کائنات، حضرت آدمؑ کی پیدائش، توبہ استغفار، تقویٰ، تزکیہ، توکّل، نبوّت، ولایت، امامت، اتحاد بین المسلمین، حضرت امام حسنؓ کی وصیّت، مالک بن اشتر کو خط اور آخرت کے موضوعات پر مشتمل ہیں۔ 

یہ کتاب میری 4سال کی محنت کا ثمر ہے، جو 2024ء میں منظرِ عام پر آئی۔ مجھے فیصل آباد میں صوفی ابو انیس محمّد برکت علی لدھیانوی سے کئی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مَیں نے اُن کی تصوّف اور روحانیت سے متعلق تصانیف کا بھی مطالعہ کیا، جس سے دینِ اسلام میں روحانیت اور اخلاقی اقدار کو سمجھنے میں مدد ملی۔ مَیں نے 2018ء میں کینیڈا میں درسِ قرآنِ حکیم کا سلسلہ شروع کیا، جو الحمدللہ اب تک جاری ہے۔

نیز، آن لائن تفسیرِ قرآن پڑھانے کا سلسلہ بھی شروع کیا، جو 2018ء میں مکمل ہوا۔ اپنے دروس میں اِس امر پر خاص توجّہ مرکوز رکھی کہ قرآنِ مجید کی آیات اور مضامین کو ایسی ترتیب سے پیش کیا جائے کہ ہمیں قرآنِ مجید کی تعلیمات سمجھنے اور اسے عملی زندگی میں اپنانے میں مدد مل سکے۔ میرے نزدیک، اِس وقت مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سبب قرآنِ مجید سے دُوری ہے۔ 

ہم عربی زبان میں قرآنِ مجید کو کئی بار پڑھتے ہیں، لیکن ہمیں اس کی سمجھ آتی ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپناتے ہیں اور کتاب ’’حق کی تلاش‘‘ لکھنے کا بنیادی مقصد بھی روحانیت اور اخلاقی اقدار کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا اور انہیں عملی زندگی کا حصّہ بنانا ہے۔