* تحریر: نرجس ملک
* مہمانانِ گرامی: چوہدری عامر رفیق و اہلِ خانہ
* عکّاسی: عرفان نجمی
* لے آؤٹ: نوید رشید
’’ہائے! گئے سہاونے روزے، باقی رہ گئے، نو (9) تے وی (20)‘‘ بچپن میں ہر سال ماہِ رمضان المبارک کی پہلی افطاری پر امّی جی کے منہ سے ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ یہ جملہ سُنتے، تو ہم سب بہن بھائی ہنس پڑتے کہ ابھی تو پہلا روزہ افطار ہوا ہے، پیچھے پورا رمضان باقی ہے اور امّی یہ کیا کہہ رہی ہیں۔ گرچہ اپنے بزرگوں سے سُنی جو پنجابی کہاوت امّی دہراتیں، اُس کامطلب بھی یہی تھا کہ ’’ابتدائی سہانا روزہ گزر گیا۔
اب باقی نو اور بیس روزے رہ گئے ہیں۔‘‘ لیکن بہرحال، کہنے کا مقصد یہی ہوتا کہ ماہِ صیام اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا۔ بلاشبہ یہ ’’ایّامِ معدودات‘‘ (گنتی کے چند دن) ہی ہیں۔ اور واقعتاً کس قدر بدبخت، بدنصیب ہیں وہ لوگ، جو یہ چند روز پاکر بھی نہ پاسکیں۔ گوکہ دِلوں، ذہنوں، رُوحوں کا ’’قلعی گر‘‘ یہ مہینہ، بحکمِ ربّی بقیہ گیارہ ماہ کا سردار، حاکم، امیر، قائد ہے، لیکن اُس سے کہیں بڑھ کر سرپرست، دست گیر، مربّی بھی ہے بلکہ صرف مربّی نہیں، باقاعدہ ایک انسٹی ٹیوشن، تربیت گاہ ہے۔ ایک ایسا شان دار، مستند و معتبر ادارہ کہ جس کے محض ایک شارٹ کورس سے پورا نظامِ حیات بدل، سنورسکتاہے، بشرطیکہ کورس کے اصول و ضوابط، قواعد و شرائط پر دل و جاں سے عمل پیرا ہوا جائے۔
مگر صد افسوس کہ ہمارے یہاں تو اُلٹا اس صبرو ضبط، ہم دردی و خیرخواہی، رحمت و مغفرت، نارِ جہنم سے آزادی کے مہینے کو لوگوں کے لیے کہیں زیادہ مشکل اور تکلیف دہ بنا دیا جاتا ہے۔ آمد سے قبل ہی منہگائی آسماں چُھونے لگتی ہے۔ ذخیرہ اندوز، منافع خورلوٹ کھسوٹ کو کمر کس لیتے ہیں، تو عام آدمی نے بھی اِسے عبادت و ریاضت سے کہیں زیادہ لذتِ کام ودہن ہی کا مہینہ سمجھ لیا ہے۔
زندگی سحروافطار کے لوازمات سے شروع ہوتی ہےاور عید شاپنگ پر ختم۔ گداگروں کی ٹولیوں کی ٹولیاں، ریلوں کے ریلے نہ جانے کہاں سے اُبلے پڑتے ہیں۔ نہیں پتا چلتا کہ کون حقیقتاً مستحق ہے اور کون موسمی فقیر۔ زکوٰۃ و صدقات، خیرات کاجائزحق دار کون ہے اور کون ڈھونگی، فراڈیا۔ اِدھر صبروضبط، تحمّل و برداشت، تقویٰ وپرہیزگاری عفو و درگزر، حِلم و بردباری کا مہینہ شروع ہوا، اُدھر ایک افراتفری، نفسانفسی، بھاگ دوڑ سی شروع ہوگئی۔ جسے دیکھو، بات بےبات لڑنےمرنے کو تیار، کوئی ذرا سا حوصلہ کرنے پرآمادہ، نہ کوئی کسی کو تھوڑی سی بھی مہلت دینے پر رضامند۔
ہوش رُبا منہگائی کا تو کیا رونا، بداخلاقی، بدتہذیبی، لڑائی جھگڑوں، حادثات، اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں بھی کئی گنا اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ ہے۔’’اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسےفرض کیا گیا تھا تمہارے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرہ) اور… ہماری ’’پرہیزگاری‘‘ کا یہ عالم ہے کہ بیش تر نے اِسے’’کمائی سیزن‘‘ تو ایک بڑی تعداد نے ’’ماہِ خورونوش‘‘ ہی بنا کے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف بڑھتی منہگائی کاواویلا، تو دوسری جانب سحروافطار دستر خوانوں پہ لوازماتِ طعام کا گویاجمعہ بازار۔ جس ماہ سے بھوک، فقر و فاقے کا مطلب و مفہوم سمجھنا تھا، غرباء و مساکین، فقیروں، ناداروں کے دُکھ، تکالیف سے آشنائی مطلوب تھی، وہ اُلٹا شکم سیری کا منبع بنا ہوا ہے۔
صد شُکر کہ انفرادی واجتماعی طور پر کچھ بدترین مثالوں کے ساتھ ہمارے سامنے کئی بہترین مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہ نمازیوں سے کھچا کھچ بَھری مساجد، نوجوان معتکفین کی کثیر تعداد، نمازِ تراویح، دروسِ قرآن کے رُوح پرور اجتماعات، پسینہ بہاتے، تھکے ماندے محنت کش روزے دار، روزہ رکھنے کے شوق میں بڑوں سے پہلے سحری میں بےدار ہوتے ننّھے ننّھے معصوم بچّے، کُرسیوں پر نمازِ باجماعت ادا کرتے عُمر رسیدہ، بیمار افراد، بَھرے کنبے کا پیٹ پالنے، دو وقت کی روٹی کے لیے دن رات ایک کرتے نادار سفید پوش، جوزبان سے تو کچھ نہیں کہتے، لیکن اُن کے چہرے، اُن کی سخت تکلیف، تھکن و اضمحلال کی گواہی دیتے ہیں۔ اور…روزے کی حالت میں اپنی عبادات و اذکار کے ساتھ اہلِ خانہ کے لیےافطاروسحر کی تیاری کی مشقّت اُٹھاتی خواتینِ خانہ (جب کہ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے تو گویا دہری، تہری مشقّت ٹھہری) تو ماہِ مبارک ہی کے مرہونِ منت یہ سب خوش کُن مناظربہت فرحت انگیز،جاں فزا بھی ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نیکیوں، طاعات وعبادات کے لیے ماہِ صیام ’’موسمِ بہار‘‘ ہی کے مثل ہے۔ ربِ کعبہ کا وعدہ ہے کہ اِس ماہ ایمان واحتساب کے جذبے کے ساتھ روزے رکھنے والوں کی پچھلی زندگی کے سب صغیرہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ نوافل، فرائض کے مصداق اور فرائض ستّر گُنا زائد ثواب کے حامل ٹھہریں گے، جب کہ ایک رات ’’شبِ قدر‘‘ کو تو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا۔
پھر ساتھ یہ ارشادِ باری تعالیٰ بھی ہے کہ ’’روزہ میرے لیے ہے اوراس کا اجر مَیں ہی دوں گا۔‘‘ تو کیا ہم میں سے کوئی بھی دونوں جہانوں کے مالک، ربِ کریم، غفورالرحیم کے رحم و کرم، اجر و ثواب کا اندازہ بھی لگا سکتا ہے۔
جس ماہِ عظیم کے لیے پورا سال جنّت کو آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے۔ جس کے قدموں کی آہٹ سے جنّت کے دروازے کُھلتے، دوزخ کے بند ہوجاتے ہیں، شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔ تو کیا ہم پرلازم نہیں کہ اُس ماہ کاشایانِ شان احترام واکرام کریں۔ اُس کےایک ایک پَل سے جھولیاں بَھربَھر نعمتیں، رحمتیں، فیوض و برکات سمیٹیں۔ یوں بھی’’ایامِ معدودات‘‘، اب توبس گنتی ہی کے رہ گئے ہیں۔ تیسرا عشرہ بھی تیزی سے اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔
وہ حاجی محمّد حنیف نازش کا ’’الوداع ماہِ رمضان‘‘ کے عنوان سے ایک کلام ہے؎ ’’ہونے کو رخصت ہیں شب بیداریاں رمضان کی…سحریاں رمضان کی، افطاریاں رمضان کی…بھوک، پیاس، اُٹھنا شبوں میں اور تراویح، اعتکاف…نعمتیں چِھننے کو ہیں، اب ساریاں رمضان کی…اشک گرتے تھے، تو گرتا ساتھ تھا عصیاں کا بوجھ…کس طرح بُھولیں گی آہ و زاریاں رمضان کی…حُکمِ حق نازش نظر ہو تو کچھ مشکل نہیں…راحتوں سے بڑھ کے ہیں دشواریاں رمضان کی۔‘‘ تو جیسے جیسے رمضان کی رخصتی قریب آ رہی ہے، دل کی فسردگی و رنج، حزن و ملال بڑھتا جارہا ہے۔
گویا کوئی دل جانی، جگر کا ٹکڑا دُور دیس کے لیے اذنِ رخصت مانگ رہا ہو، اور نہیں خبر کہ پھر یہ حسیں مُکھ، چاند چہرہ دیکھنا نصیب بھی ہوگا، یا نہیں۔ گرچہ اُجرت، مزدوری، انعام کے دن(عیدالفطر) کی دلی خوشی و مسرّت بھی ہے، مگر اللہ کا پیارا، راج دلارا ماہِ صیام تو پھر ماہِ صیام ہی ہے۔ نبی کریمؐ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ ’’اگر لوگوں کو رمضان کی رحمتوں، برکتوں کا پتا چل جائے تو وہ خواہش کریں کہ اےکاش! پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘ اِسی طرح ایک اور جگہ فرمایا۔ ’’بڑا ہی بدنصیب ہے وہ شخص، جس نے رمضان کا مہینہ پایا، لیکن اُس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اُس کی اس (مغفرت کے)مہینےمیں بخشش نہ ہوئی، تو پھر کب ہوگی؟‘‘
اللہ ربّ العزت، ہم سب کی ٹوٹی پھوٹی، آدھی ادھوری، سوئی جاگی عبادات قبول فرمائے۔ اپنے اس پیارے مہینے کی بدولت ہم سب کو بخش دے، معاف کر دے۔ جس نے اُسے راضی کرنے کی بساط بھر جتنی، جیسی بھی کوشش و جستجو کی، وہ بہر طور نامُراد، بے نیل و مُرام نہ رہے۔ اِن دنوں فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک جو رنگ و نُور کا عالم ہے۔ اُن ہی نورانی شب وروز کےکچھ رنگ و آہنگ اس بزم کی صُورت بھی پیشِ خدمت ہیں۔ گر قبول افتد، زہے عزوشرف۔