• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں سیاسی مخالفت اور الزامات کی سیاست کوئی نئی بات نہیں، مگر جب یہ مخالفت جھوٹے پروپیگنڈے اور من گھڑت بیانیے پر مبنی ہو، تو اس کے اثرات نہ صرف سیاسی ماحول بلکہ قومی یکجہتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک مخصوص حلقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے چھ نہریں بنانے کی منظوری دے دی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پیپلز پارٹی اور خود صدر زرداری نہ صرف اس فیصلے کے خلاف کھڑے ہیں بلکہ روزِ اوّل سے ایسی کسی بھی غیر آئینی اور غیر منطقی اسکیم کے مخالف رہے ہیں۔ ان نہروں کی تعمیر کا معاملہ نہ تو صدر کے اختیار میں آتا ہے اور نہ ہی یہ ان کا دائرہ کار ہے، لیکن بدقسمتی سے بعض حلقے جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی ہے اور ایوان نے 6 کنالوں کے منصوبے کو یکسر مسترد کر کے سندھ کی آواز اور بالخصوص پی پی پی کے 6 کنال مخالف نظریہ کو عیاں کردیا ہے۔دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کی جانب سے حالیہ خطاب میں یہ واضح کر دیا گیا کہ وہ ایسی کسی بھی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے جو صوبوں کے حقوق اور ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچائے۔ ان کا موقف بالکل دوٹوک تھا کہ نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب کا پانی بھی ان مجوزہ نہروں کے ذریعے متاثر ہوگا، کیونکہ دریاؤں میں پہلے ہی پانی کی شدید کمی ہے۔ ایسے وقت میں جب پانی کی دستیابی ایک بحران بنتی جا رہی ہے، مزید نہریں کھود کر پانی کی تقسیم کو متنازعہ بنانا نہایت خطرناک قدم ہوگا۔ اسی لیے پیپلز پارٹی روزِ اوّل سے ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کی مخالفت کرتی آ رہی ہے جو صوبوں کے حقوق کو متاثر کرے یا بین الصوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو ہمیشہ سے آئینی اور جمہوری اصولوں پر کاربند رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین دیا، جس میں صوبوں کے حقوق کو محفوظ بنایا گیا، اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اسی روایت کو آگے بڑھایا۔ صدر آصف علی زرداری کے دور میں 18ویں ترمیم منظور کرائی گئی، جس کی بدولت صوبوں کو خودمختاری ملی اور وسائل پر ان کے اختیارات تسلیم کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ ان قوتوں کی مخالفت کا سامنا رہا ہے جو مرکزیت کے نام پر صوبوں کے حقوق غصب کرنا چاہتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کے خلاف جس طرح پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت ان ہی سازشوں کا تسلسل ہے جو ہمیشہ اس جماعت کے خلاف کی جاتی رہی ہیں مگر اس میں سب سے بڑی غلطی پی پی پی کے اپنے ترجمان کی ہے اور خاص طور پر سندھ کی وزارت اطلاعات کی جو پی پی پی کے موقف کو کھل کر بتانے میں ناکام رہی ۔ لیکن عوام باشعور ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ سندھ کی ترقی کے لیے کس جماعت نے عملی اقدامات کیے اور کون محض زبانی دعوے کرتا رہا یقینی طور پر پی پی پی اور چند قوم پرست 6 کنالوں کے خلاف کھل کر بول رہے ہیں لیکن 6 کنالوں کی آڑ میں چند عناصر پی پی پی کے مضبوط گڑھ سندھ میں اس کا ووٹ بینک کمزور کرنے کی ناکام کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں جنہیں صدر آصف علی زرداری کی ایوان میں کی گئی تقریر نے خاک میں ملا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ میں بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، کراچی سے کشمور تک سڑکوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور زرعی اصلاحات کے منصوبے عوام کے سامنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھا اور پی پی پی مخالف جماعتوں کو انتخابات میں بری طرح مسترد کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ خطاب میں نہ صرف ان نہروں کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کی بلکہ یہ بھی باور کرایا کہ ایسے فیصلے وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کو جنم دیں گے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جو عناصر آج ان نہروں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، وہی لوگ ماضی میں ایسے فیصلوں کی حمایت کرتے رہے ہیں جو چھوٹے صوبوں کے خلاف تھے۔ پیپلز پارٹی کا ہمیشہ یہ اصولی موقف رہا ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے اور ہر فیصلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پیپلز پارٹی وفاق کی سب سے مضبوط علامت ہے اور تمام قومیتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ تاثر دینا کہ صدر زرداری نے ان نہروں کی منظوری دی، سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ روزِ اوّل سے اس معاملے کے خلاف ہیں اور پیپلز پارٹی کی پوری قیادت اس پالیسی کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی عوام کا اعتماد اس جماعت پر برقرار ہے۔ سندھ کے عوام باشعور ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انکے حقوق کا محافظ کون ہے اور کون محض ذاتی مفادات کیلئےقومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی وحدت اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی ہے، اور آج بھی وہی اصولوں پر کاربند ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اس معاملے پر دیے گئے واضح اور دوٹوک موقف نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جو صوبوں کے حقوق کو نقصان پہنچائے یا ملکی یکجہتی کو کمزور کرے۔

تازہ ترین