گزشتہ دنوں یورپی پارلیمنٹ میں فرانس کے رکن پارلیمنٹ رافیل گلوکس کی جانب سے اپنی حکومت سے امریکہ میں نصب مجسمہ آزادی (Statue of Liberty) کی واپسی کے مطالبے نے امریکیوں کو حیرت زدہ کردیا ہے اور وائٹ ہائوس کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے فرانسیسی ممبر پارلیمنٹ رافیل گلوکس نے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کو امریکہ سے مجسمہ آزادی واپس لے لینا چاہئے کیونکہ امریکہ اب اُن اقدار (Values) کی نمائندگی نہیں کرتا جنکی وجہ سے فرانس نے امریکہ کو یہ مجسمہ تحفتاً دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اُن امریکیوں سے کہیں گے جنہوں نے ظالموں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور سائنسی آزادی کا مطالبہ کرنے والے محققین کو برطرف کردیا ہے، ہمیں مجسمہ آزادی واپس کردو تاکہ اسے فرانس میں نصب کیا جاسکے۔ فرانسیسی رکن پارلیمنٹ کے اس مطالبے پر جب وائٹ ہائوس کی ترجمان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ، فرانس کو مجسمہ آزادی واپس کردے گا تو ترجمان وائٹ ہائوس نے ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہتے ہوئے مطالبے کو مسترد کردیا اور کہا کہ میں اس بے نام اور کم سطح کے فرانسیسی سیاستدان کو باور کرانا چاہتی ہوں کہ وہ امریکہ ہی تھا جس کی وجہ سے فرانسیسی آج فرنچ بولتے ہیں جرمن نہیں۔ اُن کا اشارہ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کا فرانس اور جرمنی کی جنگ میں فرانس کا ساتھ دینے کی طرف تھا جس کے باعث جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ مجسمہ آزادی فرانسیسی عوام کی جانب سے 1886ءمیں امریکہ کے 100سالہ یوم آزادی کے موقع پر امریکہ کو تحفتاً دیا گیا تھا۔ اس مجسمے کو فرانسیسی آرٹسٹ آگسٹ بارتھولڈی نے ڈیزائن کیا تھا جبکہ مجسمہ کا دھاتی ڈھانچہ مشہور فرانسیسی انجینئر اور ایفل ٹاور کے خالق گستاو ایفل نے تیار کیا تھا۔ یہ مجسمہ امریکہ کے شہر نیویارک میں دریائے ہڈسن کے دہانے لبرٹی آئرلینڈ پر نصب ہے جو امریکہ آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ مجسمے کی مجموعی بلندی چبوترے سمیت 305فٹ (95میٹر) ہے۔ مجسمہ کے دائیں ہاتھ میں ایک تختی ہے جبکہ دوسرے ہاتھ میں جلتی ہوئی مشعل ہے۔ تختی پر 4 جولائی 1776 درج ہے جو امریکہ کی برطانیہ سے آزادی کی تاریخ ہے اور تنصیب کے بعد سے یہ مجسمہ امریکہ کی آزادی کی علامت بن گیا ہے۔ ماضی میں بہتر مستقبل کیلئے تارکین وطن جب بحری جہاز کے ذریعے نیویارک کی بندرگاہ پہنچتے تھے تو یہ مجسمہ انہیں خوش آمدید کہتا اور تابناک مستقبل کی راہ دکھاتا محسوس ہوتا تھا۔ مجسمہ کو امریکہ میں خاص اہمیت حاصل ہے اور ہر سال لاکھوں سیاح نیویارک کے لوئر مین ہٹن کے لبرٹی نامی جزیرے کا رخ صرف اس مجسمے کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے کرتے ہیں۔ مجسمے کے سر پر سات نوکوں والا تاج ہے جو سات سمندروں اور سات براعظموں کو ظاہر کرتا ہے۔ سر پر تاج پہنے اور ہاتھ میں مشعل اٹھائے خاتون کا یہ مجسمہ امریکیوں کیلئے فخر کا باعث ہے مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس مجسمے کا تصور ایک مصری مسلمان خاتون تھیں اور مجسمے کے خالق فرانسیسی آرٹسٹ آگسٹ بارتھولڈی نے خاتون کو اپنے ذہن میں رکھ کر اُس وقت مجسمہ تخلیق کیا جب وہ 1855ءاور 1856ءکے دوران مصر میں رہائش پذیر تھے۔ میں جب اپنی طالب علمی کے دور میں امریکہ گیا تو خاص طور پر اسٹیچو آف لبرٹی دیکھنے نیویارک گیا اور مجسمہ آزادی کے اندر نصب سیڑھیاں چڑھ کر مجسمہ کے تاج تک پہنچا تھا۔
امریکہ سے مجسمہ آزادی کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے فرانسیسی رکن پارلیمنٹ رافیل گلوکس اتنے معروف سیاستدان نہیں کہ فرانسیسی حکومت اُن کی درخواست پر عملدرآمد کرتے ہوئے امریکہ سے مجسمہ آزادی کی واپسی کا مطالبہ کردے۔ فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد مشکلات کا شکار ہیں، ایک طرف وہ امریکی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں تو دوسری طرف وائٹ ہائوس کے کچھ فیصلے خاص طور پر ٹرمپ کے فرانس پر عائد کردہ محصولات میں اضافے کے خلاف سخت مزاحمت کر رہے ہیں جس سے فرانس کی ایکسپورٹ شدید متاثر ہو گی جبکہ فرانسیسی وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں یوکرینی صدر کے وائٹ ہائوس کے دورے کے موقع پر اُن کے ساتھ ہونے والے سلوک کو سفاکی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کی فوجی امداد روک کر روس کو فتح دلانے کا خطرہ مول لے رہی ہے، ٹرمپ آمرانہ انداز میں طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اور چاندی کی طشتری پر یوکرین رکھ کر روس کو پیش کررہے ہیں جو فرانس کو قبول نہیں۔
فرانس کی جانب سے امریکہ کو تحفتاً دیئے جانے والے اسٹیچو آف لبرٹی کا ایک چھوٹا مجسمہ پیرس میں دریائے سین کے ایک جزیرے پر بھی نصب ہے جسے کئی بار مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ فرانس میں جب بھی غیر ملکی سیاحوں کی فیری اس مجسمے کے قریب سے گزرتی ہے تو فرانسیسی گائیڈز بڑے فخریہ انداز میں غیر ملکی سیاحوں کو بتاتے ہیں کہ امریکہ میں نصب اسٹیچو آف لبرٹی فرانسیسی عوام کی جانب سے تحفتاً دیا گیا تھا لیکن اب فرانسیسی گائیڈز غیر ملکی سیاحوں کو یہ بتانے میں فخر محسوس کرینگے کہ ہم نے امریکہ سے اسٹیچو آف لبرٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ آج کا امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث امریکی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتا اور اسٹیچو آف لبرٹی کا حقدار نہیں۔