• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں مذہبی اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024ء میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مذہبی آزادی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون میں ہونے والے قومی انتخابات سے قبل حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین بشمول وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کی اور غلط معلومات پھیلائیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی نے مذہبی اقلیتوں پر حملوں کو ہوا دی جو انتخابات کے بعد بھی جاری رہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت بیرون ملک مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر سکھ برادری کے لوگوں اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتی رہی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈین حکومت کی بین الاقوامی رپورٹنگ اور انٹیلی جنس نے ان الزامات کی تصدیق کی ہے جو ’را‘ کے ایک اہلکار اور 6 سفارت کاروں کو 2023ء میں نیویارک میں ایک سکھ رہنما کے قتل کی کوشش سے جوڑتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے ریاستی سطح کے امتیازی تبدیلی مخالف قوانین اور گائے کی قربانی کے خلاف بنائے گئے قوانین کا استعمال کیا۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ جون اور جولائی میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے ریاست کے مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے بنائے گئے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں 20 عیسائیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں چار پادری بھی شامل ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف نے مذہبی آزادی کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی سالانہ فہرست جاری کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے ایک نیا سفیر مقرر کرے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اس وقت پیچیدہ بین الاقوامی ماحول کا سامنا ہے جس میں خارجہ پالیسی اور عالمی قیادت کے سنگ بنیاد کے طور پر مذہبی آزادی کو مرکوز کرنے کی اپنی سابقہ ​​کامیابی کو آگے بڑھانا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید