• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک عرصہ ہوا لال امرود نہیں دیکھے جب کبھی امرود منڈی سے خرید کر لاتے اور اندر سے لال نکل آتا تو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی در اصل انسانی سرشت ایسی ہے کہ وہ انجانی اور اچانک خوشی کی فرحت کو اپنے اندر زیادہ محسوس کرتا ہے کئی لوگ بھی باہر سے جو ہوتے ہیں وہ اندر سے نظر نہیں آتے کئی بار تو ہم کچھ لوگوں کو باہر سے بہت چڑچڑا اور دقیانوس سمجھتے ہیں مگر جب ان کے پاس بیٹھیں تو لگتا ہے ایسے خوش کن شخص سے پہلی بار مل رہے ہیں اس وقت پھر لال امرود مجھے یاد آنے لگتا ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک بزرگ ملے جو واقعی بزرگ تھے " عبدالعزیز "نہیں تھے کہنے لگے بیٹا اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو جو تمہارے بارے میں برا کہے اور برائی پھیلائے اسے نظر انداز کرو میں نے کہا بزرگو میرا تو خون کھولتا ہے جب کوئی جھوٹ بولے اور اپنے پاس سے جھوٹی باتیں میرے متعلق پھیلائے ، کہنے لگے بیٹا اس جھوٹ کا بدلہ اللہ کی طرف سے اسے بہت جلد کسی اور کی طرف سے ملے گا تم پریشان نہ ہوا کرو اپنی منزل کا تعین سیدھا رکھو خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے کچھ امرود باہر سے بہت اچھے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو کاٹیں تو ایک سنڈی اچانک سے ان کے اندر سے نمودار ہوتی ہے اور انسان اس امرود کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگاتا ۔بات ان کی دل کو لگی اور پلے سے باندھ لی آج تک اس بات پر عمل کر کے فائدہ اٹھا رہا ہوں - لال امرود سے مجھے لال شربت بھی یاد آیا ۔ یہ شربت رمضان میں بہت فرحت بخش ہیں دودھ میں شامل کر کے تو آپ مزید اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں ۔زندگی سے جڑے مشروب، پھل ، سبزیاں ، آٹا ، چاول گوشت ، دہی، مصالہ جات اور ڈرائی فروٹ ہمارے لئے توانائی اور غذا کا باعث ہیں جن سے ہم روزانہ کی بنیادوں پر جڑے ہیں تین وقت کے کھانے خاص اہتمام سے پکائے اور کھائے جاتے ہیں ۔ بڑے شہروں اور خاص کر لاہور کے بارے مشہور ہے کہ یہاں لاہوری صبح کا ناشتہ یا باہر سے کرتے ہیں یا باہر سے منگواتے ہیں گھروں میں ناشتہ نہیں بنتا لیکن پنجاب کے چھوٹے شہروں یا قصبوں اور دیہاتوں میں ناشتے گھروں میں تیار کئے جاتے ہیں اور کسی دن پراٹھا آملیٹ اور چنے کے علاوہ کبھی میوہ اور کشمش سے ملا زردہ یا متنجن اور صبح سویرے ناشتے میں پائے پکیں تو اس دن گھر کے مردوں کی خوشی دیکھنے والی ہوتی ہے۔پنجاب کا کلچر ہے زیادہ تر خواتین گھرداری کرتی ہیں اور مرد گھر سے باہر کاروبار یا محنت مزدوری کر کے کماتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں گھر کے کھانے اور ان کا ذائقہ ہی ان کی جنت ہے - لال امرود سے یاد آیا لال طوطے بھی تو ہوتے ہیں جنہیں جو رٹایا جائے وہ وہی بولتے یہ سوچے بنا کہ ان سے کوئی غلط بات بھی اگلوائی جا سکتی ہے جس کا انہیں نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ لال طوطے بڑے سائز کے ہوتے ہیں اور بولنا ان کے وصف میں شامل ہے کچھ انسان بھی رٹے رٹائے لال طوطوں کی طرح ہوتے ہیں دوسروں کی زبان بولتے ہیں اور مار کھا جاتے ہیں مگر کچھ اتنے باتوں کے دھنی ہوتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں بھی اپنی باتوں میں چھپا لیتے ہیں۔ ایسی ہی فرضی مثال دیکھیں کہ ایک چیونٹی اپنی دوسری چیونٹی سہیلی سے کہتی ہے میں نے آج شام ایک کیڑے کی دعوت پر جانا ہے سوچ رہی ہوں بیوٹی پارلر جا کر بالوں کا جوڑا بنوا لوں اس کی سہیلی کہنے لگی چلو ٹھیک ہے میں بھی ساتھ چلوں گی مگر تمہارے تو صرف گنتی کے تین بال ہیں چیونٹی کہنے لگی پھر کیا ہوا ہر حال میں اپنا خیال رکھنا چاہیے وہ بیوٹی پارلر گئی تو بال بنواتے ایک بال ٹوٹ کے گر گیا تو چیونٹی کہنے لگی ایسا کرو اب بالوں کا جوڑا تو بنے گا نہیں تم اب میری چٹیا بنا دو پھر بال بناتے دوسرا بال بھی ٹوٹ گیا اور ایک بال باقی رہ گیا تو چیونٹی اٹھ کے چل پڑی اور چلتے چلتے بیوٹی پارلر والی سے کہنے لگی تم رہنے دو بی بی میں کھلے بالوں کے ساتھ ہی دعوت پر چلی جاتی ہوں ۔خود اعتمادی لال طوطوں کی بڑی مشہور ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انسان بڑی عجیب مخلوق ہے یہ اپنی بولی بلوا کر ان پر ہنستے ہیں جب وہ بولتے ہیں تو اس سے ان کے اندر ایک تسکین ابھرتی ہے انسان جانوروں کو سدھا کر بھی تسکین حاصل کرتا ہے لکی ایرانی سرکس میں شیروں کو ایک ہنٹر کے اشارے پر بنچوں پر کھڑا ہوتا آپ نے دیکھا ہو گا حالانکہ شیر چاہے تو ایک جست میں سب کو چیر پھاڑ کر دے مگر جب کسی کے دل میں ڈر بٹھا دیا جائے تو وہ چاہے پھر جنگل کا بادشاہ شیر ہی کیوں نہ ہو ہنٹر کی آواز سے ڈر کر میز پر کھڑا ہو جاتا ہے اور پبلک تالیاں بجاتی ہے وہ تالیاں ان کے اندر کی تسکین ہے۔ لال امرود سے بات نکلی اور کہاں تک جا پہنچی مجھے ایسا لگتا ہے لال امرود دو مختلف امرودوں کے بیجوں کو ملا کر ایک نئی نسل کے لال امرود تیار کئے جاتے ہیں جس طرح پھولوں اور پودوں کی قلمکاری سے کئی اعلیٰ قسم کے پھول اور پودے تیار کئے جاتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ نسل اگر اعلیٰ نسل سے ملے تو خالص خون اپنا رنگ دکھاتا ہے اسی لئے لوگ رشتے کرتے وقت بہت خیال رکھتے ہیں کہ خاندان اچھا ہو لوگ اچھے ہوں ورنہ کیا پتہ رشتہ چلے نہ چلے اپنے آس پاس لال امرود ڈھونڈیں یعنی اچھے لوگوں سے تعلق قائم کریں یہی زندگی بھر آپکو راحت دیں گے ۔

تازہ ترین