فرانس کے صدارتی انتخابات 2027 کی دوڑ میں سب سے آگے انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لی پن نے کہا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور جتنی جلدی ممکن ہوسکا اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی، وہ فی الحال انتخابات کی دوڑ سے باہر ہیں لیکن اپنے مستقبل کےلیے لڑتی رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج لاکھوں فرانسیسی عوام غصے میں ہیں اور ناقابل تصور حد تک ناراض ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے ملک میں ججوں نے ان طریقوں کو نافذ کیا ہے جو ہمارے خیال میں آمرانہ حکومتوں کے لیے مخصوص تھے۔
واضح رہے کہ فرانس کی ایک عدالت نے پیر کے روز فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کو یورپی فنڈز میں خوردبرد کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 4 سال قید اور ایک لاکھ یورو جرمانہ کی سزا سنائی تھی جبکہ 5 سال تک کوئی عوامی عہدہ رکھنے یا اس کےلیے انتخاب لڑنے پر پابندی بھی عائد کردی تھی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی عدالت کا فیصلہ 56 سالہ لی پین کےلیے ایک دھچکا ہے، نیشنل ریلی (آر این) پارٹی کی سربراہ یورپی انتہائی دائیں بازو کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں اور فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات میں سب سے آگے ہیں۔
اس فیصلے کے فرانس کی سیاست پر وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی جانشینی کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے اور کئی ماہ کے مسلسل بحرانوں کے بعد کمزور ہونے والی ان کی کمزور اقلیتی حکومت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس سے دائیں بازو کے رہنماؤں میں غیر منتخب ججوں کے مینڈیٹ میں مداخلت پر بڑھتے ہوئے عالمی غصے میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
لی پین کی 5 سالہ سرکاری عہدے کےلیے نااہلی اپیل کے ذریعے معطل نہیں کی جا سکتی، تاہم وہ اپنی مدت ختم ہونے تک اپنی پارلیمانی نشست برقرار رکھیں گی، انہیں 4 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے جس میں سے دو سال معطل ہیں اور دو سال گھر میں نظر بند ہیں اور ایک لاکھ یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، لیکن ان سزاؤں کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ان کی اپیلوں پر فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
لی پین کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور دنیا بھر کے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عدالتی مداخلت قرار دیا۔
لی پین کے دائیں ہاتھ اور آر این کے صدر جورڈن بارڈیلا نے کہا کہ آج صرف میرین لی پین کو غیر منصفانہ طور پر سزا نہیں دی گئی بلکہ یہ فرانسیسی جمہوریت تھی جسے قتل کیا گیا۔
فرانس کی عدلیہ کی اعلیٰ کونسل نے اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’استغاثہ یا سزا کے میرٹ پر سیاسی رہنماؤں کے بیانات، خاص طور پر غور و خوض کے دوران، جمہوری معاشرے میں قبول نہیں کیے جا سکتے ہیں‘۔